بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کی پریس کانفرنس: عمران خان کی حالت اور جیل میں مبینہ سلوک پر اظہارِ تشویش

منصور احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بھائی سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے ایک پریس کانفرنس کے دوران آبدیدہ ہو گئیں اور دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے دوران عمران خان نے جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ نا روا اور غیر انسانی سلوک کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان بار بار اس بات پر زور دے رہے تھے کہ قوم کو بتایا جائے کہ انہیں شدید ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جیل انتظامیہ ان کی کوئی بات نہیں سن رہی۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان مشکلات بیان کرتے ہیں تو حکام کی جانب سے کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بھائی کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان پر ہونے والے مظالم پر خاموش نہیں رہا جائے گا۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے واضح کیا کہ انہوں نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کا بتایا تھا جس پر وہ خوش تھے، نیز انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ عمران خان شفا ہسپتال نہیں گئے تھے۔

بانی پی ٹی آئی کا پمز ہسپتال میں طبی معائنہ، ڈاکٹرز نے صحت مند قرار دے کر واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا: عطاء اللہ تارڑ

منصور احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کا ہسپتال میں تفصیلی طبی معائنہ کرایا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے انہیں مکمل طور پر صحت مند قرار دیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم “ایکس” (ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ 20 اور 21 اگست 2026ء کی درمیانی شب سخت اور مناسب سیکیورٹی انتظامات کے تحت بانی پی ٹی آئی کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ معائنے کے لیے ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن پر مشتمل مستند ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی شامل تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طبی معائنے اور علاج کے تمام تر مراحل کے دوران ان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان بھی موقع پر موجود رہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر اور راستے میں سیکیورٹی کی جو صورتحال پیدا کی گئی تھی، اسی پیشِ نظر بانی پی ٹی آئی کو پمز ہسپتال لے جایا گیا جہاں تمام تر ٹیسٹس اور معائنے میں وہ بالکل صحت مند پائے گئے۔ تمام عمل مکمل ہونے کے بعد 21 اگست کی صبح تقریباً 5 بجے انہیں واپس اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اعادہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو پہلے بھی تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر فراہم کی جاتی رہیں گی۔

بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کالعدم: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیمبر اپیل منظور کر لی

کاشف عباسی , JULY 31,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی ہسپتال منتقلی سے متعلق درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کردہ تمام اعتراضات کے خلاف دائر کی گئی چیمبر اپیل منظور کر لی ہے۔ اعلیٰ عدالت نے رجسٹرار آفس کے ابتدائی اعتراضات کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست کو باضابطہ کیس نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جمعہ کے روز اپنے چیمبر میں اس اہم اپیل کی باقاعدہ سماعت کی، جس کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل عذیر کرامت بھنڈاری عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو موکل کا دستخط شدہ قانونی وکالت نامہ جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔

سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کو باضابطہ حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق اس اپیل کو فوری طور پر نمبر الاٹ کیا جائے اور اسے پہلے سے زیرِ سماعت ‘عظمیٰ خان’ کے مقدمے کے ساتھ یکجا یعنی منسلک کر دیا جائے۔ مزید برآں، چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی اور عظمیٰ خان کی درخواستوں کو اعلیٰ عدلیہ میں جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی منظور کر لی ہے۔

بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی کی گرفتاری سے روکنے کی درخواست منظور: لاہور ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کے مقدمے میں ایک ہفتے کی حفاظتی ضمانت دیدی

کاشف عباسی , JULY 30,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

لاہور ہائیکورٹ نے بانی تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی بہن نورین نیازی کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے پیکا (پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز) ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں این سی سی آئی اے اور پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے سے روکتے ہوئے ان کی ایک ہفتے کے لیے باضابطہ حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس سردار اکبر ڈوگر نے نورین نیازی کی جانب سے دائر کردہ حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالتِ عالیہ نے نورین نیازی کی استدعا کو قانونی اور آئینی حق مانتے ہوئے ان کی ضمانت قبول کی اور انہیں واضح اور سخت ہدایت جاری کی کہ وہ اس ایک ہفتے کے اندر متعلقہ متعلقہ اور مجاز عدالت سے باقاعدہ رجوع کر کے قانونی طریقہ کار مکمل کریں۔

سماعت کے دوران درخواست گزار نورین نیازی کے وکلا نے موقف اختیار کیا تھا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے درخواست گزار کے خلاف پیکا ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے اور ان کی گرفتاری کا قوی خدشہ موجود ہے۔ وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ متعلقہ قانون سازی کی روشنی میں اور متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کے لیے موقع فراہم کرتے ہوئے عبوری اور حفاظتی ضمانت دیں تاکہ وہ قانون کے مطابق اپنے دفاع کے لیے رجوع کر سکیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر نورین نیازی کی درخواست کو منظور کر لیا اور انہیں گرفتاری سے تحفظ دیتے ہوئے ایک ہفتے کے لیے تحفظ فراہم کر دیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کے وکلا اور خاندان نے اس اقدام کو ریلیف اور قانون کی پاسداری کا اہم قدم قرار دیا ہے۔