

محمود احمد, October04,2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اکتوبر 2026ء
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان پر مشتمل مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس پیر 5 اکتوبر کو سعودی دارالحکومت ریاض میں ہوگا۔ ترکی کی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں علاقائی صورتحال اور دفاعی اتحاد کو ادارہ جاتی شکل دینے سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
ترک وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں وزیر خارجہ حاقان فیدان، وزیر دفاع یشار گولر اور ترک جنرل اسٹاف کے سربراہ جنرل سلچک بائرک تار اوغلو شرکت کریں گے، جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے حکام بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
یہ کمیٹی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کی گئی ہے، جس پر ترکی، پاکستان اور سعودی عرب نے رواں سال اگست میں اتفاق کیا تھا۔ تینوں ممالک نے اس معاہدے کے ذریعے دفاعی تعاون کو مزید منظم کرنے اور خطے میں مشترکہ سلامتی کے لیے تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ریاض میں ہونے والا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب یمن کی صورتحال ایک مرتبہ پھر تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے سربراہ رشاد العلیمی نے اتوار کو حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کو واپس لینے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حوثی تحریک ایران کے ساتھ وابستگی رکھتی ہے اور یمن کے بڑے علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعاء، پر طویل عرصے سے اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث خطے کی سلامتی کی صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو بتایا تھا کہ ایران نے یمن کے حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے اور بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ توقع ہے کہ ریاض اجلاس میں اس تجویز کے ساتھ ساتھ یمن کی صورتحال، حوثیوں کے حملوں، علاقائی کشیدگی اور تینوں ممالک کے دفاعی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
مکہ دفاعی معاہدے کی کمیٹی کا یہ اجلاس اتحاد کے آئندہ ادارہ جاتی ڈھانچے اور رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو آگے بڑھانے کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ تینوں ممالک پہلے ہی مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید منظم کرنے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے رابطے بڑھانے پر اتفاق کر چکے ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ریاض اجلاس کے ایجنڈے میں علاقائی صورتحال اور مکہ دفاعی معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے سے متعلق امور شامل ہیں۔ یمن میں فوجی کارروائی اور حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے سے متعلق معلومات متعلقہ فریقین کے بیانات پر مبنی ہیں، اس لیے ان معاملات کو فریقین کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ماخذ: ترکی کی وزارت خارجہ، پاکستان کی وزارت خارجہ، رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس