Latest news

پی ٹی آئی نے مذاکرات کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کردیا

Spread the love

منصور احمد,October04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اکتوبر 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت اور پی ٹی آئی و تحریک تحفظ آئین پاکستان کی مشترکہ مذاکراتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز اختتام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان تک رسائی کا معاملہ بات چیت میں بنیادی رکاوٹ بن گیا۔

پی ٹی آئی کے مطابق مذاکرات کے دوران اس کا بنیادی مطالبہ تھا کہ پارٹی قیادت کو عمران خان سے ملاقات اور مشاورت کی اجازت دی جائے تاکہ اہم سیاسی اور قومی معاملات پر ان سے براہ راست رائے لی جاسکے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے عمران خان تک رسائی کے مطالبے کو مذاکراتی معاہدے کا حصہ بنانے سے انکار کیا، جس کے باعث ڈیڈلاک برقرار رہا۔

پارٹی نے عمران خان کے فوری طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان تک رسائی صرف سیاسی مشاورت کے لیے نہیں بلکہ ان کی صحت اور طبی ضروریات سے متعلق معاملات کے لیے بھی اہم ہے۔

مذاکرات میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال بھی اہم موضوع رہی۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پر مبنی حکمت عملی تشکیل دی جانی چاہیے، جس میں صوبے کے مقامی حالات اور شہریوں کے تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔

پارٹی کے مطابق انسدادِ دہشت گردی سے متعلق کسی بھی پالیسی کی تیاری میں خیبر پختونخوا کی سیاسی جماعتوں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری ہے۔ اسی سلسلے میں پی ٹی آئی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندوں کا 72 گھنٹوں کے اندر اجلاس بلانے اور مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے مؤقف کو سیاسی ہٹ دھرمی قرار دینے کی کوششوں کو بھی مسترد کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان تک رسائی دی جاتی تو وزیراعلیٰ ان سے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی کے حوالے سے براہ راست مشاورت کرسکتے تھے۔

دوسری جانب حکومتی ٹیم نے مذاکرات کے تعطل کی ذمہ داری خیبر پختونخوا حکومت کے مؤقف اور بعض سکیورٹی معاملات پر اختلافات کو قرار دیا ہے۔ حکومتی نمائندوں کے مطابق مذاکرات کے دوران انسدادِ دہشت گردی، صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں اور وفاق کے ساتھ تعاون سے متعلق بعض نکات پر اتفاق رائے پیدا ہوا تھا، تاہم آخری مرحلے میں اختلافات دوبارہ سامنے آگئے۔

یوں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، جبکہ پی ٹی آئی نے اپنے لانگ مارچ کو جاری رکھنے کا اعلان برقرار رکھا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات کے بارے میں حکومت اور پی ٹی آئی کے مؤقف مختلف ہیں۔ پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی اور خیبر پختونخوا میں اتفاقِ رائے سے انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی کو اہم قرار دے رہی ہے، جبکہ حکومت کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے سکیورٹی سے متعلق بعض ذمہ داریوں پر اختلاف مذاکرات میں رکاوٹ بنا۔ خبر میں دونوں مؤقف کو متعلقہ فریقین سے منسوب کرکے پیش کیا گیا ہے۔

ماخذ: پی ٹی آئی کے بیانات، حکومت اور مذاکراتی ٹیم کے بیانات،