پنجاب کو بین الاقوامی سرحد سے زیادہ ہمسایہ صوبوں سے خطرہ ہے: وزیراعلیٰ مریم نواز کا انٹیلی جنس فیوژن سنٹر کے افتتاح پر بڑا اور متنازع بیانیہ

Spread the love

منصور احمد, September 05,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے داخلی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے تناظر میں ایک انتہائی اہم اور بحث طلب بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کو بیرونی یا ہمسایہ ممالک کی نسبت اپنے ہی ہمسایہ صوبوں کی سرحدی حدود سے دہشت گردی اور امن و امان کا زیادہ بڑا خطرہ لاحق ہے۔

سنیچر کے روز صوبائی دارالحکومت لاہور میں جدید ترین ’پرووینشل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سنٹر پنجاب‘ کی باضابطہ افتتاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ پنجاب کے عوام کو مکمل تحفظ محسوس ہو اور وہ ایک محفوظ اور پائیدار ماحول میں زندگی بسر کریں۔

تقریب کے دوران سیکیورٹی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے ٹرائی بارڈر علاقوں کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ پنجاب کو دہشت گردی اور سیکیورٹی تھریٹ کا جتنا سامنا اپنے پڑوسی ممالک سے ہے، اس سے کہیں زیادہ خطرہ ہمسایہ صوبوں سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی سرحدی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسند اور دہشت گرد پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ پنجاب کی جغرافیائی سرحدیں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ مشرق میں بھارت سے ملتی ہیں۔

اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پنجاب پر ہمیشہ سب کی نظریں ہوتی ہیں، تاہم تمام تر درپیش چیلنجز کے باوجود پنجاب ایک محفوظ صوبہ بن چکا ہے جہاں سیکیورٹی فورسز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جدید ترین مصنوعی ذہانت اور اربوں روپے کے ٹیکنالوجی پراجیکٹس پر کام کیا گیا ہے۔

انہوں نے ماضی کا موازنہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جب انہوں نے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو یہ تلخ حقیقت سامنے آئی کہ امن قائم کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے مقابلے میں شدت پسندوں کے پاس زیادہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیوائسز اور نائٹ وژن گلاسز موجود ہوتے تھے اور وہ انتہائی باقاعدہ منصوبہ بندی سے حملے کرتے تھے۔ تاہم اب حکومت نے سیکیورٹی اداروں کو جدید ترین نظام، ڈرونز اور تھرمل کیمروں سے لیس کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ شدت پسندوں کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں کو نشانہ بنانے کی پالیسی کے پیش نظر اب کیمروں کی بلٹ پروفنگ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس اور لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کی سرحدی چیک پوسٹوں کی کایا پلٹ دی گئی ہے؛ ماضی کی مٹی کی بوریوں کی عارضی دیواروں کی جگہ اب اونچی اور محفوظ ترین سیمنٹڈ کنکریٹ والز اور سیف رومز بنا دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی اچانک دہشت گردانہ حملے کی صورت میں اہلکار اپنی حفاظت یقینی بناتے ہوئے موثر جواب دے سکیں۔