جنگیں ہتھیاروں سے نہیں، ایمان اور عزمِ محکم سے جیتی جاتی ہیں: یومِ دفاع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پاک افواج کو زبردست خراجِ تحسین

کاشف عباسی , September 06,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے یومِ دفاعِ پاکستان (6 ستمبر) کے تاریخی موقع پر اپنے خصوصی اور تفصیلی پیغام میں پاک فوج کے تمام افسران، بہادر جوانوں، عظیم شہداء اور غازیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا دفاع مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہے اور قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنے پیغام میں کہا کہ پوری پاکستانی قوم کو اپنی نڈر اور پیشہ ور پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاکستان نیوی کے کردار پر بے حد فخر ہے۔ انہوں نے آپریشن ردالفساد، ضربِ عضب اور دہشت گردی کے خلاف دیگر داخلی سیکیورٹی معرکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک افواج نے وطنِ عزیز سے عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کے بالکل نئے اور اعلیٰ معیار قائم کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام عوام دہشت گردی کے خلاف جاری اس طویل جنگ میں اگلی صفوں پر لڑنے والے افسروں اور جوانوں کی سلامتی اور کامیابی کے لیے ہمہ وقت دعا گو ہیں۔ انہوں نے 1965ء کے معرکے کی تاریخی حقیقت کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج نے دشمن کے دانت کھٹے کر کے ہمیشہ کے لیے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگیں محض ہتھیاروں، بارود اور عددی برتری سے نہیں بلکہ غیر متزلزل ایمان، شجاعت اور پکے یقین و جذبے کے ساتھ جیتی جاتی ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج کا پاکستان ایک ناقابلِ تسخیر دفاعی صلاحیت رکھنے والی تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے، اور ملک کے عوام اپنی افواج اور خودمختاری پر پہلے سے کہیں زیادہ پراعتماد ہیں۔ دھرتی کی دفاعی سرحدوں پر سینہ سپر بہادر سپوت ہی ہماری قومی سلامتی کا اصل اثاثہ اور فخر ہیں۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں پاکستان کو درپیش جیو پولیٹیکل چیلنجز اور اندرونی و بیرونی خطرات قوم سے بے مثال اتحاد اور یکجہتی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ملک میں عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنے والی دشمن قوتوں کے تمام مذموم عزائم کو پوری قومی طاقت، عزم اور اتفاق کے ساتھ ہر محاذ پر ناکام بنانا ہو گا۔

پنجاب کو بین الاقوامی سرحد سے زیادہ ہمسایہ صوبوں سے خطرہ ہے: وزیراعلیٰ مریم نواز کا انٹیلی جنس فیوژن سنٹر کے افتتاح پر بڑا اور متنازع بیانیہ

منصور احمد, September 05,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے داخلی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے تناظر میں ایک انتہائی اہم اور بحث طلب بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کو بیرونی یا ہمسایہ ممالک کی نسبت اپنے ہی ہمسایہ صوبوں کی سرحدی حدود سے دہشت گردی اور امن و امان کا زیادہ بڑا خطرہ لاحق ہے۔

سنیچر کے روز صوبائی دارالحکومت لاہور میں جدید ترین ’پرووینشل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سنٹر پنجاب‘ کی باضابطہ افتتاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ پنجاب کے عوام کو مکمل تحفظ محسوس ہو اور وہ ایک محفوظ اور پائیدار ماحول میں زندگی بسر کریں۔

تقریب کے دوران سیکیورٹی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے ٹرائی بارڈر علاقوں کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ پنجاب کو دہشت گردی اور سیکیورٹی تھریٹ کا جتنا سامنا اپنے پڑوسی ممالک سے ہے، اس سے کہیں زیادہ خطرہ ہمسایہ صوبوں سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی سرحدی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسند اور دہشت گرد پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ پنجاب کی جغرافیائی سرحدیں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ مشرق میں بھارت سے ملتی ہیں۔

اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پنجاب پر ہمیشہ سب کی نظریں ہوتی ہیں، تاہم تمام تر درپیش چیلنجز کے باوجود پنجاب ایک محفوظ صوبہ بن چکا ہے جہاں سیکیورٹی فورسز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جدید ترین مصنوعی ذہانت اور اربوں روپے کے ٹیکنالوجی پراجیکٹس پر کام کیا گیا ہے۔

انہوں نے ماضی کا موازنہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جب انہوں نے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو یہ تلخ حقیقت سامنے آئی کہ امن قائم کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے مقابلے میں شدت پسندوں کے پاس زیادہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیوائسز اور نائٹ وژن گلاسز موجود ہوتے تھے اور وہ انتہائی باقاعدہ منصوبہ بندی سے حملے کرتے تھے۔ تاہم اب حکومت نے سیکیورٹی اداروں کو جدید ترین نظام، ڈرونز اور تھرمل کیمروں سے لیس کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ شدت پسندوں کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں کو نشانہ بنانے کی پالیسی کے پیش نظر اب کیمروں کی بلٹ پروفنگ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس اور لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کی سرحدی چیک پوسٹوں کی کایا پلٹ دی گئی ہے؛ ماضی کی مٹی کی بوریوں کی عارضی دیواروں کی جگہ اب اونچی اور محفوظ ترین سیمنٹڈ کنکریٹ والز اور سیف رومز بنا دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی اچانک دہشت گردانہ حملے کی صورت میں اہلکار اپنی حفاظت یقینی بناتے ہوئے موثر جواب دے سکیں۔