Latest news

نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑے فوجی آپریشن کا منصوبہ، بے دخلی اور گھروں کی تلاشی بھی زیرِ غور

Spread the love

محمود احمد, October23,2026

مقبوضہ بیت المقدس (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اکتوبر 2026ء

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک بڑے اور اپنی نوعیت کے بے مثال فوجی آپریشن کے منصوبے کا جائزہ لیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کارروائی 1967 کے بعد سے اپنی نوعیت کی پہلی بڑی کارروائی ہو سکتی ہے۔ نیتن یاہو نے بتایا کہ آپریشن کے آغاز کے وقت کا فیصلہ وہ خود کریں گے، جبکہ منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں رہائشی علاقوں میں داخل ہونا، گھروں کی تلاشی لینا اور ان کے بقول مسلح گروہوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا شامل ہوگا۔

یہ بیان الخلیل، جسے ہیبرون بھی کہا جاتا ہے، میں ایک مسلح حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے میں سکیورٹی اقدامات سخت کرنے اور مزید فوجی کارروائیوں کے امکانات پر غور شروع کیا۔

نیتن یاہو نے آپریشن کے مجوزہ پیمانے کو غیر معمولی قرار دیا، تاہم دستیاب بیان میں کارروائی کے مکمل جغرافیائی دائرے، ممکنہ مدت، فوجی اہداف اور متاثر ہونے والے علاقوں کی حتمی فہرست واضح نہیں کی گئی۔ اس لیے یہ ابھی طے نہیں کہ منصوبہ کن علاقوں میں اور کس مرحلے میں نافذ کیا جائے گا۔

آپریشن کے پہلے مرحلے میں کیا شامل ہوگا؟

نیتن یاہو کے بیان کے مطابق مجوزہ کارروائی کے پہلے مرحلے میں فلسطینی رہائشیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنا، گھروں کی تلاشی لینا اور ان مقامات کو تباہ کرنا شامل ہوگا جنہیں اسرائیلی حکام مسلح کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والا بنیادی ڈھانچہ قرار دیتے ہیں۔

اس منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں مغربی کنارے کے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے فلسطینی شہریوں کو نقل مکانی، گھروں تک رسائی اور روزمرہ زندگی کے حوالے سے سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے دوران طبی سہولتوں، تعلیمی اداروں، کاروباری سرگرمیوں اور آمدورفت پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

تاہم اسرائیلی حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ کتنے افراد کو ممکنہ طور پر گھروں سے منتقل کیا جا سکتا ہے، آیا نقل مکانی عارضی ہوگی یا مستقل، اور متاثرہ شہریوں کی رہائش اور بنیادی ضروریات کے لیے کیا انتظامات کیے جائیں گے۔

الخلیل میں حملے کے بعد کشیدگی

الخلیل میں ہونے والے مسلح حملے نے علاقے کی سکیورٹی صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد اسرائیلی قیادت کی جانب سے بڑے فوجی آپریشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس سے مغربی کنارے میں مزید کارروائیوں کے امکانات پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔

اسرائیلی حکام ایسے آپریشنز کو مسلح حملوں کی روک تھام اور سکیورٹی خطرات ختم کرنے کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب، فلسطینی آبادی والے علاقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں اور گھروں کی تلاشی سے شہریوں کی سلامتی، نقل و حرکت اور بنیادی حقوق کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

مجوزہ کارروائی کی وسعت اور اس کے ممکنہ نتائج کا اندازہ اس وقت ہی بہتر طور پر لگایا جا سکے گا جب اسرائیلی حکومت اس کے اہداف، علاقوں اور عملی طریقۂ کار کے بارے میں مزید تفصیلات جاری کرے گی۔

حماس کا ردعمل

دوسری جانب حماس نے حملے کی ذمہ داری قبول کیے بغیر اسے ایک ’’بہادرانہ کارروائی‘‘ قرار دے کر سراہا اور اپنے حامیوں سے مزید حملے کرنے کا مطالبہ کیا۔ حماس کے اس ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعے کو فلسطینی مسلح مزاحمت کے تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے، تاہم حملے کی ذمہ داری سے متعلق کوئی واضح اعتراف سامنے نہیں آیا۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے مجوزہ بڑے آپریشن کا اعلان اور حماس کا ردعمل مغربی کنارے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات کو نمایاں کرتا ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر کارروائی شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف سکیورٹی صورت حال تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مقامی آبادی کی نقل مکانی، شہری سہولتوں اور انسانی امداد کی فراہمی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: نیتن یاہو کے مجوزہ آپریشن، اس کے دائرے اور آغاز کے وقت سے متعلق تفصیلات ان کے بیان سے منسوب ہیں۔ آپریشن کے نفاذ، بے دخلی کے پیمانے اور ممکنہ انسانی اثرات کے بارے میں حتمی صورت حال ابھی واضح نہیں۔ حماس نے حملے کی تعریف کی، لیکن فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

ماخذ: اسرائیلی وزیرِ اعظم کا بیان، اے ایف پی، حماس کا بیان