

محمود احمد, October23,2026
استنبول (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اکتوبر 2026ء
ترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے حملے سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور جاری تنازع دوسرے ممالک تک پھیلنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ استنبول میں آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے خاتمے کا واحد پُرامن راستہ سفارت کاری اور بات چیت ہے۔
حاقان فیدان کے مطابق اجلاس میں شریک کسی بھی ملک نے ایران پر ایک اور حملے یا فوجی مداخلت کی حمایت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کو درپیش چیلنجز کا حل عسکری کارروائیوں کے بجائے مسلسل مذاکرات، سفارتی رابطوں اور سیاسی کوششوں میں تلاش کیا جانا چاہیے۔
استنبول میں ہونے والی یہ ملاقات ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کی صورت حال، خلیجی ممالک پر ممکنہ اثرات اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی کوششیں اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ اجلاس میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے علاوہ جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اٹلی کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہوئے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ شرکا نے خلیجی خطے کی تازہ صورت حال، اس کے سماجی اور معاشی اثرات اور امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سفارتی رابطوں کو بڑھانے کی ضرورت پر تبادلۂ خیال کیا۔
پاکستان کا کشیدگی کم کرنے اور ثالثی پر زور
پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس کے شرکا کو آگاہ کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے امکانات روکنے اور امن کے فروغ کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں اور ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے متعلقہ ممالک کے درمیان رابطے برقرار رہنا ضروری ہیں۔ اجلاس میں اسحاق ڈار کی شرکت کو اسی سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیا گیا، جس کے تحت پاکستان خطے کے اہم ممالک کے ساتھ مشاورت اور رابطوں کے ذریعے حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنے پر زور دے رہا ہے۔
اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ نے اس فارمیٹ کے تحت مشاورت اور رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ تاہم بیان میں کسی نئے امن معاہدے، جنگ بندی یا ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یورپی ممالک کی ایران سے مذاکرات کی پیشکش
دوسری جانب جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر تہران کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان ممالک کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جوہری تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اب بھی زیرِ غور ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات طویل عرصے سے عالمی سفارت کاری کا اہم موضوع رہے ہیں۔ اس معاملے میں کسی بھی پیش رفت کے لیے ایران اور متعلقہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد سازی، تکنیکی امور پر بات چیت اور ممکنہ معاہدے کی شرائط پر اتفاق اہم ہوگا۔
ترکی کے وزیرِ خارجہ نے بھی اس تناظر میں سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران پر نیا حملہ صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق اجلاس میں شریک ممالک نے فوجی مداخلت کی حمایت نہیں کی، تاہم اس مؤقف کو کسی حتمی مشترکہ معاہدے یا تمام علاقائی فریقوں کے متفقہ فیصلے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔
علاقائی امن اور معاشی اثرات پر تشویش
اجلاس میں خلیجی خطے کی صورت حال کے سماجی اور معاشی اثرات بھی زیرِ بحث آئے۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے سے توانائی کی فراہمی، تجارت، بحری راستوں اور سرمایہ کاری پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے شرکا نے امن و استحکام کے لیے سفارتی رابطوں میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے درمیان مشاورت کے ساتھ جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اٹلی کی شرکت نے اجلاس کو وسیع سفارتی اہمیت دی۔ تاہم اس مشاورت کے عملی نتائج کا انحصار آئندہ رابطوں، متعلقہ فریقوں کے ردعمل اور مذاکرات کے لیے کسی قابلِ قبول طریقۂ کار پر اتفاق پر ہوگا۔
فی الحال اجلاس سے سامنے آنے والا بنیادی پیغام یہ ہے کہ شریک ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے، فوجی تصادم کے خطرات محدود رکھنے اور سفارتی رابطے جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام اور امریکہ کے ساتھ اس کے تنازع پر آئندہ پیش رفت ان کوششوں کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: حاقان فیدان کے بیانات اور اجلاس سے متعلق تفصیلات سفارتی مؤقف کی عکاسی کرتی ہیں۔ یورپی ممالک کی مذاکرات پر آمادگی کو مذاکرات کے آغاز یا کسی معاہدے کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اجلاس میں شریک ممالک نے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، لیکن کسی نئے امن معاہدے یا جنگ بندی کا اعلان نہیں ہوا۔
ماخذ: ترکی کی وزارتِ خارجہ، پاکستان کی وزارتِ خارجہ، جرمنی کی وزارتِ خارجہ، فرانس کی وزارتِ یورپ و خارجہ امور، برطانیہ کا دفترِ خارجہ