
روزینہ اسماعیل, September 18,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 ستمبر 2026ء
قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو) کی چیئرپرسن نورین بانو لہڑی نے عالمی اقتصادی فورم کے ‘گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2026’ میں پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں پانچ درجے بہتری کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے۔ اپنے ایک باضابطہ بیان میں انہوں نے اس پیش رفت کو ملک میں صنفی مساوات کے فروغ کے لیے جاری قومی و اجتماعی کوششوں کا روشن عکاس قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ بہتری حوصلہ افزا ضرور ہے، لیکن خواتین کو تمام شعبوں میں مساوی حقوق اور مواقع کی فراہمی کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔
عالمی اقتصادی فورم کی 2026ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے 145 ممالک کی فہرست میں 143ویں نمبر پر آ گیا ہے، جبکہ ملک کا مجموعی جینڈر پیریٹی اسکور 59.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان کی اس پیش رفت میں سب سے بنیادی اور مثبت کردار تعلیمی حصول کے شعبے نے ادا کیا، جہاں پاکستان کا اسکور 6 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 91.7 فیصد تک پہنچ گیا۔ دوسری جانب رپورٹ میں معاشی شرکت اور مواقع کے شعبے کو پاکستان کے لیے بدستور سب سے بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے، جہاں ملک کا اسکور محض 36.4 فیصد رہا اور پاکستان 144ویں نمبر پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی اختیار میں اسکور 14.1 فیصد جبکہ صحت اور بقا کے شعبے میں پاکستان نے 95.9 فیصد اسکور حاصل کیا۔
نورین بانو لہڑی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تعلیمی میدان میں سامنے آنے والی پیش رفت انتہائی خوش آئند ہے، تاہم معاشی خودمختاری، لیبر فورس میں نمائندگی، اور اعلیٰ سطح پر فیصلہ سازی کے اختیارات میں خواتین کی شمولیت کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے حکومت اور پالیسی سازوں سے اپیل کی کہ وہ خواتین کے لیے محفوظ ماحول، مساوی روزگار اور سیاسی نمائندگی کو مزید وسعت دینے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات جاری رکھیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں پانچ درجے بہتری ایک رپورٹ شدہ حقیقت ہے، تاہم ملک اب بھی عالمی درجہ بندی کے نچلے حصے میں شمار ہوتا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ معاشی شمولیت میں موجود خلیج پاکستان کی مجموعی کارکردگی کو اب بھی متاثر کر رہی ہے۔
ماخذ: وومن رائٹس اینڈ نیشنل ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔