Latest news

پاکستان نے نورستان میں مبینہ جھڑپوں سے متعلق افغان طالبان کے الزامات مسترد کر دیے

Spread the love

منصور احمد,September 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 ستمبر 2026ء

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے صوبہ نورستان میں ہونے والی مبینہ کارروائی اور جھڑپوں کو پاکستان سے جوڑنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیک ونگ کے مطابق پاکستان کا نورستان یا افغانستان کے کسی دوسرے علاقے میں اندرونی مسلح جھڑپوں سے کوئی تعلق نہیں۔ وزارت نے پاکستانی سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں پر سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کی بھرتی یا تربیت اور داعش سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کی معاونت کے الزامات کو بھی مسترد کیا ہے۔

پاکستانی وزارت کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے ان الزامات کے حق میں قابلِ تصدیق شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ فیکٹ چیک ونگ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز بھی پاکستان کے مبینہ کردار کا ثبوت فراہم نہیں کرتیں۔

دوسری جانب افغانستان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے مشرقی صوبے نورستان کے ضلع کامدیش میں 28 جنگجوؤں کو ہلاک جبکہ 32 کو زخمی کیا۔ افغان وزارت کے مطابق کارروائی اس وقت کی گئی جب ایک گروپ، جس میں داعش کے ارکان بھی شامل تھے، مبینہ طور پر پاکستان سے سرحد عبور کرکے افغانستان میں داخل ہوا۔

افغان وزارتِ دفاع نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ گروپ کے بیشتر ارکان سابق افغان حکومت کے سکیورٹی اہلکار تھے اور انہیں پاکستان میں مبینہ طور پر تربیت دے کر دوبارہ افغانستان بھیجا گیا۔ افغان حکام کے مطابق ان افراد کا مقصد افغانستان میں مسلح کارروائیاں اور بدامنی پیدا کرنا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق افغان وزارتِ دفاع کے ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ پاکستان کی فوج اور وزارتِ اطلاعات نے رائٹرز کی جانب سے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا تھا۔

پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے اپنے ردعمل میں کہا کہ افغانستان میں مختلف شدت پسند تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں کی نشاندہی اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی کی گئی ہے۔ وزارت نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم شدت پسند گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرے اور اس عہد کی پاسداری کرے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

نورستان سے متعلق یہ تازہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار عسکریت پسندی اور ایک دوسرے کے خلاف الزامات کے باعث تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔ گزشتہ ہفتے پاکستان نے بھی افغانستان کے اندر فضائی کارروائیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جبکہ افغان حکام نے ان حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے افغانستان مشن نے تین شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
نورستان میں ہونے والی کارروائی، ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق اعداد و شمار فی الحال افغان وزارتِ دفاع کے دعووں پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ پاکستان نے افغان حکومت کے پاکستان سے متعلق الزامات واضح طور پر مسترد کیے ہیں۔ دونوں ممالک کے سرکاری بیانات میں واقعے اور اس کے پس منظر سے متعلق مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں، اس لیے دعووں کو متعلقہ فریقوں سے منسوب کرکے دیکھنا ضروری ہے۔

ماخذ: پاکستان وزارتِ اطلاعات و نشریات، افغانستان وزارتِ دفاع، رائٹرز