
محمود احمد, September 27,2026
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 27 ستمبر 2026ء
امریکی شہر نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر کشمیری امریکی کمیونٹی اور ان کے حامیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت، انسانی حقوق کے تحفظ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین نے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم اور نیویارک و واشنگٹن میٹروپولیٹن علاقوں کی کشمیری امریکی کمیونٹیز کے زیر اہتمام ہونے والے مظاہرے میں منتظمین کے مطابق کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کے رہنماؤں، خواتین، بچوں اور بزرگوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ، آزادی اور حقِ خودارادیت کے مطالبات درج تھے۔
مظاہرے کا عنوان ’’اقوام متحدہ سے ایک پکار‘‘ (A Call to the United Nations) رکھا گیا تھا۔ منتظمین نے عالمی ادارے پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی سابقہ قراردادوں اور وعدوں پر عمل درآمد کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
بھارتی وزیر خارجہ کے خطاب پر احتجاج
مظاہرے کے دوران جاری مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے بھارتی وزیر خارجہ کو خطاب کا موقع دیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا گیا۔ مظاہرین کے نمائندوں نے بھارتی حکومت کی کشمیر پالیسی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان معاملات کا نوٹس لے۔
منتظمین نے الزام عائد کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کو کشمیر کے مسئلے کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
اقوام متحدہ سے تین اہم مطالبات
احتجاجی مظاہرے میں مقررین نے عالمی ادارے سے مطالبہ کیا کہ:
- کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
- مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور عالمی سطح پر نگرانی کو مؤثر بنایا جائے۔
- مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
مظاہرین نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سفارتی اور پرامن کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اقوام متحدہ کو یادداشت پیش
مظاہرے کے اختتام پر منتظمین کی جانب سے اقوام متحدہ کے حکام کو ایک یادداشت پیش کی گئی، جس میں مسئلہ کشمیر کے پرامن، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے عالمی ادارے سے فوری سفارتی کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی۔
منتظمین نے کہا کہ عالمی برادری کو کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر مظاہرے کے منتظمین کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات اور دستیاب رپورٹنگ پر مبنی ہے۔ مظاہرے میں بھارتی حکومت اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق الزامات شرکاء اور منتظمین کے مؤقف کے طور پر بیان کیے گئے ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔ احتجاجی مظاہرہ بذاتِ خود اقوام متحدہ یا بھارتی حکومت کے کسی نئے فیصلے یا پالیسی میں تبدیلی کی تصدیق نہیں کرتا۔
ماخذ: ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم؛ کشمیر میڈیا سروس کی 27 ستمبر 2026ء کی رپورٹ۔