Latest news

بجلی صارفین کے لیے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا اضافی بوجھ کم، ستمبر کے لیے 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ کا تخمینہ

Spread the love

منصور احمد,October15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اکتوبر 2026ء

پاور ڈویژن نے دعویٰ کیا ہے کہ مؤثر اقدامات کے ذریعے ستمبر 2026ء کی متوقع فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف پی اے) کو 5 سے 6 روپے فی یونٹ کے بجائے 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ تک محدود کر دیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق اس اقدام سے بجلی صارفین کو فی یونٹ 3 روپے 44 پیسے تک کے ممکنہ اضافی مالی بوجھ سے بچانے میں مدد ملی۔

پاور ڈویژن کی جانب سے جمعرات کو جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ستمبر کے دوران مہنگے ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کے اثرات کم کرنے کے لیے محدود اور ہدفی لوڈ مینجمنٹ کی گئی۔ اعلامیے کے مطابق بعض اوقات بجلی کی طلب اور دستیاب ایندھن کی صورت حال کے پیش نظر روزانہ تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے تک لوڈ مینجمنٹ کی گئی، تاکہ مہنگے فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل سے بجلی پیدا کرنے کی ضرورت کم ہو اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں غیر معمولی اضافہ نہ ہو۔

پاور ڈویژن کے مطابق ستمبر میں مہنگے متبادل ایندھن سے بجلی کی پیداوار بڑھنے کے باعث فی یونٹ ایڈجسٹمنٹ 5 سے 6 روپے تک پہنچنے کا خدشہ تھا۔ تاہم درآمدی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کو مقامی گیس کے نرخوں پر بجلی پیدا کرنے کے لیے فراہم کرنے سے صارفین پر 83 پیسے فی یونٹ کا ممکنہ بوجھ کم کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اگست کے مقابلے میں تقریباً 1 روپے 45 پیسے فی یونٹ زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ اس مد میں مجموعی ممکنہ بوجھ 32 ارب 70 کروڑ روپے تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور ایل این جی کی فراہمی کا اثر

پاور ڈویژن نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کو بھی بجلی کی پیداواری لاگت بڑھنے کی ایک اہم وجہ قرار دیا۔ اعلامیے کے مطابق علاقائی تنازع کے باعث خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ بجلی کے بنیادی ٹیرف کے تعین کے وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل فرض کی گئی تھی۔

اعلامیے میں قطر کی جانب سے فورس میجر کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان نے معاہدوں کے تحت دستیاب سپلائی اور اضافی اسپاٹ کارگوز کے ذریعے ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش جاری رکھی۔ پاور ڈویژن کے مطابق اگر آر ایل این جی کی دستیابی مزید کم ہوتی ہے تو بجلی پیدا کرنے کے لیے مہنگے فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر انحصار بڑھ سکتا ہے، جس سے پیداواری لاگت میں اضافے کا خطرہ رہے گا۔

جنوری سے اگست تک صارفین پر اضافی بوجھ

پاور ڈویژن کے اعدادوشمار کے مطابق جنوری سے اگست 2026ء کے دوران فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے مجموعی اثرات سے صارفین پر اضافی بوجھ 65 پیسے فی یونٹ تک محدود رہا۔ اعلامیے میں اسے بنیادی بجلی ٹیرف میں تقریباً 1.9 فیصد اضافے کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔

مزید برآں، صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے اضافی بجلی کھپت پیکیج کے ذریعے قومی گرڈ سے بجلی کے استعمال میں اضافے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

پاور ڈویژن کے مطابق ان اقدامات کا مقصد عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی گیس کی فراہمی سے متعلق مشکلات کے اثرات بجلی صارفین تک منتقل ہونے سے حتی الامکان روکنا ہے۔ تاہم ستمبر کی حتمی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور صارفین کے بلوں پر اس کے حقیقی اثرات کا تعین متعلقہ ریگولیٹری عمل کے بعد ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی لاگت میں تبدیلی کے مطابق مقرر کی جاتی ہے۔ پاور ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ کا عدد متوقع ایڈجسٹمنٹ ہے؛ اسے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی یا ہر صارف کے حتمی بل میں یکساں کمی نہ سمجھا جائے۔

ماخذ: پاور ڈویژن پاکستان،