Latest news

ایرانی صدر کی علاقائی سفارت کاری مؤثر بنانے کی تجویز، ’سی آئی ایس پلس ایران‘ فارمیٹ پیش

Spread the love

منصور احمد,October10,2026

عشق آباد / تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اکتوبر 2026ء

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی سفارت کاری کو محض اجلاسوں اور رسمی ملاقاتوں تک محدود رکھنے کے بجائے بحرانوں کے حل، مذاکرات کے تسلسل اور کشیدگی میں اضافے کی روک تھام کے لیے مؤثر بنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے ایران اور آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ (سی آئی ایس) کے رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے ’’سی آئی ایس پلس ایران‘‘ کے نام سے ایک نئے فارمیٹ کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

پزشکیان نے یہ بات ترکمانستان میں سی آئی ایس کے سربراہی اجلاس کے موقع پر سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہی۔ ان کے مطابق علاقائی سفارت کاری کا اصل مقصد عملی تعاون کو فروغ دینا اور ایسے طریقے اختیار کرنا ہونا چاہیے جن سے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ علاقائی ممالک کے درمیان رابطے صرف ملاقاتوں کے انعقاد تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ انہیں بحرانوں سے نمٹنے اور کشیدگی کم کرنے میں ٹھوس کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کی تجویز کردہ ’’سی آئی ایس پلس ایران‘‘ ترتیب کا مقصد ایران اور تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے، تاہم فراہم کردہ معلومات میں اس فارمیٹ کی مجوزہ ساخت یا عملی طریقۂ کار کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پزشکیان سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد تہران واپس پہنچ گئے ہیں۔

علاقائی بحرانوں کے حل کے لیے مذاکرات پر زور

ایرانی صدر حالیہ ہفتوں میں متعدد مواقع پر اس مؤقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ علاقائی بحرانوں کا حل مذاکرات اور باہمی تعاون میں مضمر ہے۔ ان کے مطابق خطے کی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے علاقائی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطے بڑھانے اور مشترکہ اقدامات کی طرف پیش رفت کرنی چاہیے۔

پزشکیان کے تازہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق تجاویز کے تبادلے کی اطلاعات ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، اس لیے وہاں کشیدگی اور جہاز رانی میں رکاوٹ کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

خلیج فارس اور بحیرۂ احمر میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں

دوسری جانب علاقائی حکام خلیج فارس اور بحیرۂ احمر میں کشیدگی کم کرنے اور بحری آمدورفت برقرار رکھنے کے لیے مشاورت کر رہے ہیں۔ ان کوششوں میں سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کی اہمیت نمایاں ہے۔

تاہم ’’سی آئی ایس پلس ایران‘‘ فارمیٹ کی تجویز پر دیگر ممالک کا ردعمل، اس کے قیام کا ممکنہ وقت اور اس کے تحت طے پانے والے عملی اقدامات کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس لیے فی الحال اسے ایرانی صدر کی تجویز کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی باقاعدہ قائم شدہ فورم کے طور پر۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر ایرانی صدر کے بیان اور فراہم کردہ رپورٹ پر مبنی ہے۔ ’’سی آئی ایس پلس ایران‘‘ فارمیٹ کی تجویز کی منظوری یا اس کے عملی آغاز کی تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تجاویز کے تبادلے سے متعلق تفصیلات بھی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔

ماخذ: ایرانی میڈیا سے منسوب رپورٹ، مسعود پزشکیان کا بیان، فراہم کردہ متن