

محمود احمد, October22,2026
لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اکتوبر 2026ء
دنیا کی مختلف حکومتیں اور ایمیزون سمیت بڑی عالمی کمپنیاں پی ایچ پی پروگرامنگ زبان میں دریافت ہونے والی سنگین سکیورٹی خامیوں کے بعد اپنے ڈیجیٹل نظام محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں۔ سائبر سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان خامیوں کو بروقت دور نہ کیا گیا تو ویب سرورز، آن لائن پلیٹ فارمز اور حساس معلومات کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
سائبر سکیورٹی کمپنی وِز کے اندازے کے مطابق ان خامیوں کا اثر انٹرنیٹ کے تقریباً 70 فیصد حصے تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم یہ تخمینہ کمپنی کی جانب سے پیش کیا گیا ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس لیے اس اعداد و شمار کو متاثرہ ویب سائٹس کی حتمی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے باوجود پی ایچ پی کے وسیع استعمال کے باعث اس معاملے کو عالمی سطح پر اہم سائبر سکیورٹی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
احتیاطی تدبیر کے طور پر یورپ کے بعض ممالک نے اپنی سرکاری آن لائن سروسز عارضی طور پر بند کی ہیں، جبکہ ویکیپیڈیا چلانے والی وکیمیڈیا فاؤنڈیشن نے بھی اپنے کچھ سسٹمز آف لائن کیے ہیں۔ مختلف حکام نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر سکیورٹی اپ ڈیٹس نافذ کریں۔ اگر کسی نظام کو بروقت محفوظ بنانا ممکن نہ ہو تو خطرے کا جائزہ لیتے ہوئے اسے عارضی طور پر بند کرنے پر غور کیا جائے۔
برطانوی حکومت نے بھی کہا ہے کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس کے نظام متاثر ہوئے ہیں یا نہیں۔ دوسری جانب ایمیزون سمیت بڑی کمپنیوں کی جانب سے حفاظتی اقدامات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم کسی مخصوص کمپنی کے نظام کے متاثر ہونے اور محض احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
پی ایچ پی کیا ہے اور یہ اتنی اہم کیوں ہے؟
پی ایچ پی ایک سرور سائیڈ پروگرامنگ زبان ہے جو ویب سائٹس اور آن لائن خدمات کے پس منظر میں کام کرتی ہے۔ یہ صارف کی درخواست کے مطابق معلومات حاصل کرنے، ڈیٹا بیس سے رابطہ قائم کرنے اور ویب صفحات کے لیے مواد تیار کرنے جیسے کاموں میں استعمال ہوتی ہے۔
دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس پی ایچ پی استعمال کرتی ہیں۔ ان میں ورڈپریس پر چلنے والی ویب سائٹس اور بلاگز، آن لائن کاروباری پلیٹ فارمز اور ویکیپیڈیا جیسے بڑے منصوبے شامل ہیں۔ ورڈپریس ایک مواد کے انتظام کا نظام ہے جس کی مدد سے ویب سائٹ کے مالکان خبریں، تصاویر، صفحات اور دیگر مواد شائع کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر جب کوئی صارف کسی ویب سائٹ پر خبر کھولتا ہے تو پس منظر میں موجود پروگرام ویب سرور سے مطلوبہ مواد حاصل کرنے اور اسے مناسب انداز میں پیش کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ یہ عمل صارف کو نظر نہیں آتا، لیکن ویب سائٹ کی کارکردگی کے لیے اہم ہوتا ہے۔
چونکہ پی ایچ پی بہت سے ویب نظاموں میں استعمال ہوتی ہے، اس لیے اس زبان یا اس کے متعلقہ اجزا میں سامنے آنے والی سنگین خامی بڑی تعداد میں خدمات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ تاہم ہر پی ایچ پی ویب سائٹ لازماً متاثر نہیں ہوتی؛ اصل خطرہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ کون سا ورژن، جزو یا ترتیب استعمال کی جا رہی ہے۔
سکیورٹی خامیوں سے کیا خطرات پیدا ہو سکتے ہیں؟
سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق سنگین نوعیت کی بعض خامیاں حملہ آوروں کو سرور پر غیر مجاز رسائی حاصل کرنے، حساس فائلوں تک پہنچنے یا ڈیٹا بیس سے معلومات حاصل کرنے کا موقع دے سکتی ہیں۔ خطرے کی اصل شدت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ خامی کس طرح کام کرتی ہے، اسے استعمال کرنے کے لیے کن حالات کی ضرورت ہے اور متاثرہ نظام پر کون سے حفاظتی انتظامات موجود ہیں۔
اگر حملہ آور کسی ویب سرور پر قابو پا لے تو اس کے اثرات صرف ایک ویب صفحے تک محدود نہیں رہ سکتے۔ ممکنہ نتائج میں صارفین کی معلومات افشا ہونے، ویب سائٹ کے مواد میں غیر مجاز تبدیلی، خدمات میں خلل اور متعلقہ نظاموں تک مزید رسائی کی کوششیں شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان امکانات کا ذکر اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہر متاثرہ نظام پر ایسا حملہ ہو چکا ہے۔
سکیورٹی ماہرین اداروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے استعمال میں موجود پی ایچ پی ورژن اور متعلقہ سافٹ ویئر کی فہرست تیار کریں، دستیاب سکیورٹی اپ ڈیٹس فوری طور پر نافذ کریں اور سرورز کے لاگز کا جائزہ لیں۔ جہاں فوری اپ ڈیٹ ممکن نہ ہو، وہاں عارضی حفاظتی پابندیاں، نیٹ ورک تک رسائی محدود کرنے اور ضرورت پڑنے پر متاثرہ سروس بند کرنے جیسے اقدامات خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت سے خامیوں کی دریافت
ان خامیوں کی نشاندہی میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹولز کا کردار بھی توجہ کا مرکز بنا ہے۔ سائبر سکیورٹی کمپنی وِز نے انہیں اے آئی کے ذریعے دریافت ہونے والی انتہائی سنگین خامیوں میں شمار کیا ہے، جبکہ اوپن اے آئی نے اس پیش رفت کو حالیہ برسوں کے اہم سکیورٹی مسائل میں سے ایک قرار دیا ہے۔
اے آئی پر مبنی ٹولز پروگرامنگ کوڈ کا تجزیہ کرنے، ممکنہ غلطیوں کی نشاندہی کرنے اور ماہرین کو ان کی جانچ میں مدد دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے بعض پیچیدہ خامیوں کو تلاش کرنے کا وقت کم ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب یہی ٹیکنالوجی حملہ آوروں کو بھی کمزوریوں کی تلاش اور حملوں کی تیاری میں مدد دے سکتی ہے، اس لیے سکیورٹی ماہرین دفاعی تحقیق اور بروقت پیچنگ کو مزید اہم قرار دیتے ہیں۔
موجودہ معاملے میں اصل ترجیح متاثرہ سافٹ ویئر کی درست شناخت، حفاظتی اپ ڈیٹس کی تنصیب اور ممکنہ غیر مجاز سرگرمیوں کی جانچ ہے۔ صرف یہ معلوم ہونا کہ کوئی ویب سائٹ پی ایچ پی استعمال کرتی ہے، اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ لازماً کمزور ہے؛ اس کے لیے مخصوص ورژن اور سسٹم کی ترتیب کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
ویب سائٹ مالکان کے لیے کیا ضروری ہے؟
ویب سائٹ چلانے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے ہوسٹنگ فراہم کنندہ یا تکنیکی ٹیم سے تصدیق کریں کہ ان کے سرور پر پی ایچ پی کا کون سا ورژن موجود ہے اور متعلقہ حفاظتی اپ ڈیٹ نافذ کی جا چکی ہے یا نہیں۔ ورڈپریس استعمال کرنے والوں کو پی ایچ پی کے ساتھ ساتھ ورڈپریس کے بنیادی سافٹ ویئر، تھیمز اور پلگ اِنز کی اپ ڈیٹس بھی جانچنی چاہییں۔
حفاظتی اپ ڈیٹس نافذ کرنے سے پہلے بیک اپ بنانا، اپ ڈیٹ کے بعد ویب سائٹ کے اہم افعال کی جانچ کرنا اور سرور کی نگرانی جاری رکھنا بھی اہم ہے۔ اگر ویب سائٹ پر مالی لین دین یا صارفین کی ذاتی معلومات موجود ہوں تو سکیورٹی جائزے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
پی ایچ پی کے وسیع استعمال کے باعث اس میں سنگین خامیوں کا انکشاف دنیا بھر کی ویب سائٹس کے لیے اہم ہے، لیکن انٹرنیٹ کے 70 فیصد حصے کے متاثر ہونے کا تخمینہ آزادانہ طور پر تصدیق شدہ حتمی تعداد نہیں ہے۔ ویب سائٹ مالکان کو گھبراہٹ کے بجائے اپنے سافٹ ویئر ورژن کی تصدیق، مستند حفاظتی اپ ڈیٹس اور تکنیکی ماہرین کی ہدایات کے مطابق اقدامات کرنے چاہییں۔
ماخذ: اوپن اے آئی، وِز، برطانوی حکومت، وکیمیڈیا فاؤنڈیشن