Latest news

ایران کا دعویٰ: شمالی خلیج فارس میں چار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، آگ لگ گئی

Spread the love

محمود احمد, October22,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اکتوبر 2026ء

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی خلیج فارس کے وسطی علاقے میں تیل کی منتقلی کے دوران چار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان میں آگ لگ گئی۔ ایرانی بحریہ نے ان جہازوں کو مبینہ طور پر سمندری قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے راستوں سے گزر رہے تھے جنہیں ایران غیر قانونی سمجھتا ہے۔ تاہم اس واقعے کی تفصیلات اور جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ایرانی بحریہ کے بیان کے مطابق یہ کارروائی بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات پیش آنے والے واقعات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ متعلقہ جہاز مقررہ بحری راستوں کی پابندی نہیں کر رہے تھے۔ اس بیان میں جہازوں کی شناخت، ان کے مالکان، پرچم بردار ممالک یا تیل کی مقدار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

آبنائے ہرمز میں مزید تین جہازوں کے حادثات کا دعویٰ

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گزشتہ رات مغربی آبنائے ہرمز میں تین دیگر جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے بعد انہیں حادثات پیش آئے اور ان میں آگ لگ گئی۔ ایرانی بیان میں ان واقعات کو ایسے بحری راستوں کے استعمال سے جوڑا گیا جنہیں تہران غیر محفوظ اور غیر قانونی قرار دیتا ہے۔

ایرانی حکام نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ جہازوں کو ایسے راستوں سے گزرنے پر اصرار کر رہا ہے جن کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ وہاں بارودی سرنگوں کا خطرہ موجود ہے۔ ایران کے مطابق اس طرزِ عمل سے سمندری حادثات اور کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم بارودی سرنگوں کی موجودگی، جہازوں کے حادثات کی وجوہات اور امریکی فوج کے کردار سے متعلق ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

ایرانی بحریہ نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے بقول اشتعال انگیز اقدامات جاری رہے تو خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف زیادہ وسیع ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ یہ بیان خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں تجارتی جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں کی سلامتی عالمی توانائی کی منڈی کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے۔ خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں تک پہنچنے والے خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار اسی خطے سے گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی بڑی رکاوٹ سے جہاز رانی کے اخراجات، انشورنس پریمیم اور توانائی کی عالمی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان اس بحری راستے کی سلامتی اور جہازوں کی آمدورفت سے متعلق مؤقف میں اختلافات بھی صورتِ حال کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ ایسے ماحول میں جہازوں کے لیے محفوظ راستوں کا تعین، سمندری خطرات سے متعلق درست معلومات اور تجارتی جہازوں کی حفاظت اہم معاملات بن جاتے ہیں۔

تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس

حالیہ بحری واقعات کے باوجود تجارتی انٹیلی جنس کمپنی کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی ہیں۔ کمپنی کے مطابق 18 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خلیج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی یومیہ اوسط برآمدات 2 کروڑ 46 لاکھ بیرل تک پہنچ گئیں، جبکہ جنگ سے پہلے یہ اوسط تقریباً 2 کروڑ 33 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مذکورہ مدت میں مجموعی برآمدات جنگ سے پہلے کی اوسط سے زیادہ رہیں۔ تاہم ان میں ایران کی برآمدات شامل نہیں ہیں، اس لیے انہیں پورے خطے کی تمام تیل برآمدات کا مکمل حساب نہیں سمجھنا چاہیے۔

کیپلر کے مطابق شپنگ کمپنیاں آبنائے ہرمز سمیت ان راستوں سے گریز کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جہاں جنگ کے دوران خطرات بڑھے تھے، اور بعض متبادل راستے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ متبادل راستوں کے استعمال سے جہازوں کے سفر کا دورانیہ اور اخراجات بڑھ سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود برآمدات کا بلند رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تیل کی ترسیل مختلف انتظامات کے ذریعے جاری ہے۔

مجموعی صورتِ حال میں ایک طرف جہازوں پر حملوں اور بارودی سرنگوں سے متعلق ایرانی دعوے بحری سلامتی کے خدشات کو بڑھا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب برآمدات کے اعداد و شمار خطے سے تیل کی ترسیل کے جاری رہنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ان واقعات کی آزادانہ تصدیق، جہاز رانی کے راستوں کی صورتِ حال اور خطے میں فوجی و سفارتی اقدامات عالمی توانائی کی منڈی کے لیے اہم رہیں گے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

جہازوں کو نشانہ بنائے جانے اور بارودی سرنگوں سے ٹکرانے سے متعلق تفصیلات فی الحال ایرانی بحریہ کے دعوؤں پر مبنی ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق کے بغیر انہیں حتمی طور پر ثابت شدہ واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیپلر کے برآمدی اعداد و شمار ایک مخصوص ہفتے سے متعلق ہیں اور ان میں ایران شامل نہیں، اس لیے انہیں تمام علاقائی برآمدات کی مکمل تصویر نہیں سمجھنا چاہیے۔

ماخذ: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ، کیپلر