Latest news

سعودی عرب پر مزید حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل مہنگا، برینٹ 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

Spread the love

محمود احمد, October22,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اکتوبر 2026ء

سعودی عرب پر مزید حملوں اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے خطے میں تعینات اپنے بعض سفارت کاروں کے اہلِ خانہ کو واپس بلانے کے منصوبے نے بھی سکیورٹی صورتِ حال کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی میں سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور تیل کی سپلائی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 1.29 ڈالر، یعنی 1.2 فیصد اضافے کے بعد 110.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں 97 سینٹ، یعنی ایک فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 98.12 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں حملوں اور سفارتی سرگرمیوں کے باعث غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے۔ اس سے ایک روز قبل بدھ کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً مستحکم رہی تھی، تاہم تازہ پیش رفت کے بعد مارکیٹ میں دوبارہ تیزی دیکھی گئی۔

امریکی سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کی واپسی کا منصوبہ

امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ مشرقِ وسطیٰ میں واقع متعدد امریکی سفارتی مشنز سے اہلِ خانہ کے افراد کو واپس بلانے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ اقدام خطے میں سکیورٹی خطرات کے جائزے اور سفارتی عملے کے تحفظ سے متعلق احتیاطی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔

سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو واپس بلانے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی حکام خطے میں صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم اس اقدام سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ تمام امریکی سفارت خانے بند کیے جا رہے ہیں یا تمام سفارتی اہلکاروں کو واپس بلایا جا رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق منصوبہ متعدد سفارتی مشنز میں اہلِ خانہ کی واپسی سے متعلق ہے۔

تیل کی قیمتوں پر کشیدگی کے اثرات

مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی کی منڈی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خطے میں تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک اور اہم سمندری تجارتی راستے موجود ہیں، جن کے ذریعے عالمی منڈیوں تک خام تیل پہنچایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے خطے میں عسکری کشیدگی، تیل کی تنصیبات کو لاحق خطرات یا ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کی خبریں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتی ہیں۔

جب سرمایہ کاروں کو خدشہ ہو کہ تیل کی پیداوار یا ترسیل متاثر ہو سکتی ہے تو وہ ممکنہ قلت کے پیش نظر قیمتوں میں اضافے کا اندازہ لگاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر صورتِ حال مستحکم ہو جائے اور سپلائی معمول کے مطابق برقرار رہے تو قیمتوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں تیل کی قیمتوں کا آئندہ رخ حملوں کی شدت، سفارتی کوششوں اور سپلائی سے متعلق حقیقی صورتِ حال پر منحصر ہوگا۔

عالمی معیشت اور صارفین پر ممکنہ اثرات

خام تیل مہنگا ہونے سے ان ممالک کے لیے توانائی کی درآمدی لاگت بڑھ سکتی ہے جو اپنی ضروریات کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے پورا کرتے ہیں۔ اس کے اثرات ایندھن کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ، مال برداری اور بعض صنعتی شعبوں کے اخراجات تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ تاہم عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ہر ملک میں یکساں نہیں ہوتا، کیونکہ مقامی ٹیکس، زرِ مبادلہ کی شرح، حکومتی قیمتوں کے طریقۂ کار اور دیگر اخراجات بھی حتمی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے عالمی منڈی میں مسلسل اضافہ درآمدی بل پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اگر قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں تو پٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتوں اور مہنگائی کے امکانات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔ تاہم عالمی منڈی میں ایک دن کے اضافے سے پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں فوری یا لازمی اضافے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

آئندہ دنوں میں عالمی منڈی کی توجہ مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتِ حال، امریکی سفارتی اقدامات اور تیل کی پیداوار و ترسیل پر ممکنہ اثرات پر مرکوز رہے گی۔ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے، جبکہ سفارتی پیش رفت یا سپلائی کے خطرات میں کمی مارکیٹ کو نسبتاً استحکام فراہم کر سکتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی درج کردہ قیمتیں عالمی خام تیل کے مختلف معیاروں سے متعلق ہیں، اس لیے ان کے نرخ الگ ہوتے ہیں۔ قیمتوں میں حالیہ اضافے کو خطے کی صورتِ حال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، لیکن اس اضافے کی مدت اور عالمی معیشت پر اس کے مجموعی اثرات کا انحصار آئندہ پیش رفت پر ہوگا۔

ماخذ: روئٹرز، امریکی محکمہ خارجہ