

کاشف عباسی , September 23,2026
راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 23 ستمبر 2026ء
پنجاب حکومت نے 27 ستمبر کو متوقع سیاسی احتجاج کے پیش نظر امن و امان کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنے کی خاطر راولپنڈی اور اٹک کے متعدد حساس علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کو ڈاؤن گریڈ یا معطل کرنے کے لیے وفاقی وزارتِ داخلہ سے باضابطہ رجوع کر لیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے بھیجے گئے مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ امن و امان کے ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مخصوص مقامات پر 2G، 3G اور 4G سروسز کی جیمنگ اور ڈاؤن گریڈنگ عمل میں لائی جائے۔ رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ سینٹرل پولیس آفس (CPO) پنجاب لاہور کی جانب سے موصول ہونے والی سیکیورٹی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے اہم اور حساس مقامات بالخصوص براہمہ باہتر، گنجو، احاطہ، ٹیکسلا سٹی، واہ صدر، تھلیاں اور چکری میں موبائل نیٹ ورک اور ڈیٹا سروسز کو 27 ستمبر کی صبح 9 بجے سے محدود یا مکمل بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ دوسری جانب ضلع اٹک کے لیے پنجاب حکومت نے پورے ضلع کی حد تک انٹرنیٹ سروسز کو ڈاؤن گریڈ رکھنے اور یہ پابندی تاحکمِ ثانی برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے۔ یہ تمام سخت حفاظتی اقدامات پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف دیے گئے احتجاج اور لانگ مارچ کی کال کے پس منظر میں کیے جا رہے ہیں، جبکہ اس سے قبل پنجاب حکومت راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں 22 ستمبر سے 5 اکتوبر تک رینجرز کی تعیناتی کی درخواست بھی کر چکی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ سروسز کی معطلی سے متعلق اس درخواست کا بنیادی مقصد متوقع احتجاج کے دوران شرپسندی کو روکنا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے اطلاق سے شہریوں کی روزمرہ مواصلات، آن لائن کاروباری سرگرمیوں اور ڈیجیٹل ڈیوائسز کی رسائی عارضی طور پر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ محکمہ داخلہ کا یہ مراسلہ فی الوقت ایک تجویزی درخواست ہے اور سروسز کی حتمی معطلی کا فیصلہ وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی حتمی منظوری کے بعد ہی نافذ العمل ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے وفاقی وزارتِ داخلہ کو ارسال کیے گئے رسمی مراسلے اور سیکیورٹی اداروں کی رپورٹ کے تناظر میں تیار کی گئی ہے۔
ماخذ: کرائم اینڈ پولیٹیکل ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز راولپنڈی / لاہور۔