Latest news

انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر اختلاف مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ تھا، سلمان اکرم راجہ

Spread the love

کاشف عباسی ,October04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اکتوبر 2026ء

پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی اقدامات کے طریقہ کار پر اختلاف تھا۔ ان کے مطابق حکومت چاہتی تھی کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاق اور اس کے اداروں کی جانب سے کیے جانے والے انسدادِ دہشت گردی اقدامات اور آپریشنز کی توثیق کرے، جبکہ پی ٹی آئی کا مؤقف تھا کہ ایسے اقدامات وفاق اور صوبائی حکومت کے باہمی اتفاقِ رائے سے کیے جائیں۔

سلمان اکرم راجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات کے دوران انضمام شدہ اضلاع اور ملحقہ علاقوں میں 72 گھنٹوں کے اندر ہنگامی اقدامات نافذ کرنے کی توثیق کا مطالبہ بھی سامنے آیا تھا۔ ان کے بقول پی ٹی آئی اور ٹی ٹی اے پی کی مذاکراتی ٹیم نے اس مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کسی بھی پالیسی کو صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان اتفاقِ رائے کے ساتھ مرتب کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی، تاہم انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی کے لیے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت ضروری ہے۔

سلمان اکرم راجہ کے مطابق وفاق اور صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں اور چند ماہ قبل صوبائی اسمبلی میں منعقد ہونے والے عمائدین کے جرگے کی مشاورت اور سفارشات کی روشنی میں مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے نزدیک اتفاقِ رائے سے تیار کردہ حکمت عملی ہی دہشت گردی کے خلاف مؤثر نتائج دے سکتی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومتی ٹیم مشاورت اور اتفاقِ رائے کے اس طریقہ کار پر آمادہ نہیں تھی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے ماضی میں بھی ایسے وسیع پیمانے کے فوجی آپریشنز کی مخالفت کی ہے جن کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکت یا بڑے پیمانے پر داخلی بے دخلی کا خدشہ ہو۔

مذاکرات کے ایک دوسرے اہم نکتے کا ذکر کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی اے پی کی مذاکراتی ٹیم کا بنیادی مطالبہ عمران خان تک فوری رسائی تھا۔ ان کے مطابق عمران خان کو شوکت خانم انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور ان کے ذاتی معالج کی شمولیت کے ساتھ ایک باقاعدہ میڈیکل بورڈ کے ذریعے ان کی تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

سلمان اکرم راجہ کے بقول حکومتی ٹیم عمران خان کے اہل خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں کی بحالی کے علاوہ ان مطالبات پر کوئی اضافی پیشکش کرنے پر تیار نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان تک طبی اور قانونی رسائی کا معاملہ مذاکرات میں اہم اختلافی نکتہ رہا۔

وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ہفتے کی رات کئی گھنٹے جاری رہنے کے بعد کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے۔ دونوں فریق مذاکرات کی ناکامی کی مختلف وجوہات بیان کر رہے ہیں، جبکہ انسدادِ دہشت گردی پالیسی اور عمران خان تک رسائی دو نمایاں اختلافی معاملات کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ سے متعلق سلمان اکرم راجہ کا بیان پی ٹی آئی کا مؤقف ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے مذاکرات میں خیبر پختونخوا کی سکیورٹی ذمہ داریوں اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات سے متعلق مختلف مؤقف اختیار کیا ہے، اس لیے دونوں فریقوں کے دعووں کو خبر میں الگ الگ نسبت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ عمران خان کی طبی منتقلی اور طبی معائنے سے متعلق مطالبات بھی پی ٹی آئی کی مذاکراتی پوزیشن کے طور پر بیان کیے گئے ہیں۔

ماخذ: سلمان اکرم راجہ کی ایکس پوسٹ