Latest news

سہیل آفریدی کی عوام سے صوابی پہنچنے کی اپیل، طلال چوہدری نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری عائد کردی

Spread the love

منصور احمد,October06,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 اکتوبر 2026ء

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے شرکا اور عوام سے اپیل کی ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ صوابی پہنچیں، جہاں سے احتجاج کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات آخری مرحلے میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی اضافی شرائط کے باعث ناکام ہوئے۔

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوا تھا۔ مارچ کے شرکا کرک سے ہوتے ہوئے کوہاٹ کی تحصیل لاچی پہنچے، جہاں انہوں نے رات قیام کیا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لاچی میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منگل کو سہ پہر 3 بجے کوہاٹ کے یونیورسٹی چوک سے پشاور کی جانب سفر شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ خود کو تھکاوٹ سے بچائیں کیونکہ ان کے بقول یہ ایک طویل جدوجہد ہے۔

سہیل آفریدی نے عوام سے صوابی پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 8 اکتوبر سے ’’ٹی ٹوئنٹی میچ‘‘ شروع ہوگا اور صوابی پہنچنے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔ انہوں نے اپنے سیاسی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام عمران خان کے ساتھ ہیں۔ وزیراعلیٰ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ صوبے میں ایک منصوبے کے تحت دہشت گردی مسلط کی گئی ہے۔

لانگ مارچ کے پشاور پہنچنے کے بعد اس کی ممکنہ سمت کے بارے میں پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ بعض اطلاعات میں نوشہرہ اور خیرآباد کی جانب جی ٹی روڈ کے راستے آگے بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ صوابی کی جانب جانے کی بات بھی سامنے آتی رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ احتجاج ایک طویل سیاسی عمل ہوگا اور اسلام آباد میں داخلے کے متعدد راستوں کے امکانات موجود ہیں۔ تاہم ان راستوں اور آئندہ حکمت عملی کے بارے میں حتمی فیصلہ پارٹی قیادت کی جانب سے کیا جانا باقی ہے۔

مذاکرات کی ناکامی پر حکومت اور اپوزیشن کے مؤقف مختلف

لانگ مارچ شروع ہونے سے قبل وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے نمائندوں کے درمیان دو روز تک مذاکرات ہوئے تھے۔ تاہم فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے اور لانگ مارچ کا اعلان برقرار رہا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے منگل کو پریس کانفرنس میں حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں دہشت گردی کے معاملے پر اتفاق ہوگیا تھا۔ ان کے مطابق وزیر داخلہ نے مذاکرات میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی موجودگی کی درخواست بھی کی، تاہم اپوزیشن نے کہا کہ اس کے نمائندوں کے پاس فیصلے کرنے کا مکمل اختیار موجود ہے۔

طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ دوسرے روز مذاکرات میں عمران خان کی صحت، ان سے ملاقاتوں اور مقدمات سمیت مختلف سیاسی معاملات پر بھی بات ہوئی۔ ان کے مطابق مذاکرات میں ایک وسیع تر سیاسی معاہدے کی جانب پیش رفت ہوئی اور دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیہ تشکیل دینے کی تجویز پر بھی کام کیا گیا۔

وزیر مملکت کے مطابق معاہدے کے مسودے پر اہم سیاسی نکات پر اتفاق ہوچکا تھا اور مسودے میں کی جانے والی تبدیلیاں بھی باہمی رضامندی سے حل کی گئیں، تاہم حتمی منظوری کے مرحلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے پیش کی گئی آخری وقت کی شرائط کے باعث مذاکرات ناکام ہوگئے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد لانگ مارچ اب خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس مرحلے پر سیاسی طور پر اہم پیش رفت اس وقت متوقع ہے جب مارچ پشاور اور پھر صوابی کی جانب پہنچے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
لانگ مارچ کے آئندہ راستے اور صوابی کے بعد کی حکمت عملی سے متعلق بعض امکانات زیرِ بحث ہیں، تاہم انہیں حتمی فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے جب تک پی ٹی آئی کی قیادت باضابطہ اعلان نہ کرے۔ مذاکرات کی ناکامی سے متعلق سہیل آفریدی اور طلال چوہدری کے مؤقف مختلف ہیں، اس لیے خبر میں دونوں جانب کے بیانات کو ان کے اپنے دعووں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ماخذ: پی ٹی آئی، وزارت داخلہ