

کاشف عباسی ,October06,2026
پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 اکتوبر 2026ء
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ پنجاب کے ضلع اٹک سے آگے بڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں 6 سے 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کردی ہے، جس کے تحت عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلسے اور جلوسوں پر پابندی ہوگی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اٹک سے آگے نہیں جا سکے گا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے بڑے عوامی اجتماع کے دعووں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے جس بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کی بات کی تھی، عملی طور پر اتنے افراد نظر نہیں آئے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کے وفاقی حکومت اور سکیورٹی پالیسی سے متعلق مؤقف پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی وفاق نے خیبرپختونخوا کو شدت پسندی کے خلاف تعاون فراہم کرنے کی بات کی، صوبائی حکومت کی جانب سے فوج کے صوبے سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے افغان حکومت کے ساتھ بات چیت سے متعلق صوبائی حکومت کے مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے۔
فیصل کریم کنڈی کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ صوبے کے جنوبی اضلاع سے آگے بڑھ رہا ہے اور پارٹی قیادت نے آئندہ مرحلے میں مارچ کو پنجاب کی سمت لے جانے کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔ مارچ کے اٹک پہنچنے اور اس کے بعد کی حکمت عملی کے حوالے سے حتمی صورت حال آئندہ دنوں میں واضح ہوگی۔
پنجاب میں 10 روز کے لیے دفعہ 144
دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں 6 سے 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلسوں، جلوسوں، ریلیوں اور احتجاجی اجتماعات پر پابندی ہوگی۔ عوامی مقامات پر ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش، جبکہ غیر قانونی اجتماعات میں لوگوں کو شرکت کے لیے اکسانے یا ترغیب دینے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق پابندی کے فیصلے کی ایک وجہ مختلف انٹیلیجنس اداروں سے موصول ہونے والی سکیورٹی اطلاعات ہیں، جن میں ممکنہ شدت پسندانہ کارروائیوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق عوامی اجتماعات، جلسے اور احتجاجی سرگرمیاں ممکنہ حملوں کے لیے آسان ہدف بن سکتی ہیں۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب پولیس، انسداد دہشت گردی کے محکمے اور دیگر متعلقہ اداروں نے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کی سفارش کی تھی۔
دفعہ 144 کے تحت بعض معمول کی سرگرمیوں کو استثنیٰ بھی حاصل ہوگا، جن میں شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہیں شامل ہیں۔ عدالتیں، سرکاری ادارے اور مجاز انتظامی اجازت سے ہونے والی تقریبات بھی پابندی سے مستثنیٰ رہیں گی۔
محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 19 ستمبر کے حکم کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں شہریوں کے معمولات زندگی، جان و مال کے تحفظ اور عوامی سڑکوں کی بندش سے متعلق حکومتی ذمہ داریوں پر زور دیا گیا تھا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
فیصل کریم کنڈی کی جانب سے لانگ مارچ کے اٹک سے آگے نہ بڑھنے کی بات ایک سیاسی دعویٰ ہے، اسے خبر میں حتمی پیش گوئی کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ اور اس کے تحت پابندیوں کی تفصیل سرکاری نوٹیفکیشن سے متعلق دستیاب رپورٹنگ کے مطابق بیان کی گئی ہے۔ لانگ مارچ کی آئندہ سمت اور اس کی عملی پیش رفت کا انحصار زمینی صورت حال اور متعلقہ حکام کے فیصلوں پر ہوگا۔
ماخذ: محکمہ داخلہ پنجاب، ڈان