خطے کی ابتر صورتحال میں پاکستان کا بڑا سفارتی مشن، وزیر داخلہ محسن نقوی تہران کے اہم ترین دورے پر روانہ، سپریم لیڈر کو ملکی عسکری قیادت کا خصوصی پیغام پہنچانے کا فیصلہ، امریکہ ایران مذاکرات پر اہم مشاورت

کاشف عباسی ,june 06,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایک مرتبہ پھر برادر اسلامی ملک ایران کے ہنگامی اور اہم ترین دورے پر روانہ ہونے کی مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں وہ ایرانی اعلٰی قیادت کو پاکستان کی اعلٰی ترین سیاسی و عسکری قیادت کا خصوصی اور انتہائی حساس پیغام پہنچائیں گے، لاہور اور اسلام آباد کے سرکاری اور سفارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ اپنے اس تزویراتی دورے کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایک اہم اور خصوصی پیغام دیں گے، تہران روانگی سے عین قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر ملکی اعلٰی حکومتی و عسکری شخصیات سے انتہائی اہم مشاورت کی، جس میں پاک ایران دوطرفہ تعلقات، خلیج کی حالیہ سنگین علاقائی صورتحال اور ایران و امریکہ کے درمیان پسِ پردہ جاری مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، ان اعلٰی سطح کی ملاقاتوں میں خطے کی موجودہ نازک صورتحال، مشترکہ سکیورٹی چیلنجز اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط و فعال بنانے کے امور تفصیلی طور پر زیرِ غور آئے، ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے کچھ خصوصی اور اہم ہدایات بھی دی ہیں، جو وہ تہران پہنچ کر وہاں کی متعلقہ اعلٰی قیادت تک پہنچائیں گے، واضح رہے کہ پاکستان اس وقت خطے میں سفارتی روابط کو بہتر بنانے، جنگی بادلوں کو چھانٹنے اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے اور ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مختلف شعبوں میں وسعت دینے اور اعلٰی سطحی روابط کو برقرار رکھنے پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے، دفاعی و سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے اعلٰی ترین دورے خطے میں جاری موجودہ کشیدگی کو کم کرنے، مسلم امہ میں سفارتکاری کو فروغ دینے اور اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھانے میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

عالمی سیاست میں بہت بڑی پیش رفت، امریکہ اور ایران تاریخی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ گئے، رواں ہفتے کے آخر تک حتمی اعلان متوقع، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انکشاف

محمود احمد june 04,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 04 جون 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن اور تزویراتی انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اعلٰی سطح کے مذاکرات اب فیصلہ کن اور آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور قوی امکان ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام (ویک اینڈ) تک دونوں ممالک کے مابین ایک تاریخی معاہدہ طے پا جائے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ دونوں ممالک طویل کشیدگی کے بعد اب معاہدے کے بالکل قریب ہیں اور ان کی دلی خواہش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ کا خاتمہ صرف اور صرف سفارتی اور سیاسی طریقے سے ہی ممکن بنایا جائے۔
آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی جوہری پروگرام پر سخت شرائط
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ معاہدے کے چیدہ چیدہ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ:
بحری آمدورفت کی بحالی: اس ممکنہ معاہدے کے فوری بعد عالمی تجارتی شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ میں بین الاقوامی بحری جہازوں کی آمدورفت اور تیل کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آ سکے گی۔
جوہری ہتھیاروں پر پابندی: انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اعادہ کیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سخت نگرانی: ایران کی تمام تر جوہری سرگرمیوں سے متعلق معاملات اور ان کی سخت نگرانی اس نئے معاہدے کا سب سے اہم اور مرکزی حصہ ہیں۔
سفارت کاری کو ترجیح: خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ہی اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
لبنان کی صورتحال اور حزب اللہ کی جانب سے یقین دہانی کا دعویٰ
امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کے دیگر بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ لبنان کے داخلی حالات اور آبنائے ہرمز کے معاملات کو ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ رکھا جائے تاکہ مختلف نوعیت کے بین الاقوامی تنازعات کے حل میں کوئی نئی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ انہوں نے ایک بڑا دعویٰ بھی کیا کہ لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کی جانب سے یہ اہم یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ فی الحال اسرائیل پر کوئی بڑا حملہ نہیں کرے گی، جس کے بعد خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
امریکی کانگریس میں بحث اور ٹرمپ کی کڑی تنقید
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایوانِ نمائندگان (کانگریس) میں ان کی انتظامیہ کے خلاف پیش کی جانے والی اس حالیہ قرارداد پر کڑی تنقید کی جس میں ایران کے خلاف صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ: واشنگٹن کے بعض مخصوص سیاسی حلقے ملکی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر صرف ذاتی مفاد کے لیے ان کی کامیاب خارجہ پالیسیوں کی بلاوجہ مخالفت کر رہے ہیں۔
امریکہ کو کسی بھی نئی اور لاحاصل جنگ میں دھکیلنے کے بجائے سفارت کاری اور پرامن مذاکرات کو ایک موقع دیا جانا چاہیے۔
ان کی موجودہ انتظامیہ دن رات صرف مذاکرات کے ذریعے ہی دیرینہ عالمی تنازعات کے پرامن خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
ممکنہ معاہدے پر دنیا بھر کی نظریں
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس متوقع معاہدے پر اس وقت عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ اس تاریخی پیش رفت کے براہِ راست اثرات مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سلامتی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں (توانائی منڈیوں) اور بین الاقوامی سفارت کاری پر مرتب ہوں گے۔ اگر یہ معاہدہ اگلے دو روز میں طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پر محیط حالیہ کشیدگی کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی اور اہم سفارتی پیش رفت تصور کی جائے گی۔