عالمی سیاست میں بہت بڑی پیش رفت، امریکہ اور ایران تاریخی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ گئے، رواں ہفتے کے آخر تک حتمی اعلان متوقع، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انکشاف

محمود احمد june 04,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 04 جون 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن اور تزویراتی انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اعلٰی سطح کے مذاکرات اب فیصلہ کن اور آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور قوی امکان ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام (ویک اینڈ) تک دونوں ممالک کے مابین ایک تاریخی معاہدہ طے پا جائے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ دونوں ممالک طویل کشیدگی کے بعد اب معاہدے کے بالکل قریب ہیں اور ان کی دلی خواہش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ کا خاتمہ صرف اور صرف سفارتی اور سیاسی طریقے سے ہی ممکن بنایا جائے۔
آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی جوہری پروگرام پر سخت شرائط
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ معاہدے کے چیدہ چیدہ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ:
بحری آمدورفت کی بحالی: اس ممکنہ معاہدے کے فوری بعد عالمی تجارتی شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ میں بین الاقوامی بحری جہازوں کی آمدورفت اور تیل کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آ سکے گی۔
جوہری ہتھیاروں پر پابندی: انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اعادہ کیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سخت نگرانی: ایران کی تمام تر جوہری سرگرمیوں سے متعلق معاملات اور ان کی سخت نگرانی اس نئے معاہدے کا سب سے اہم اور مرکزی حصہ ہیں۔
سفارت کاری کو ترجیح: خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ہی اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
لبنان کی صورتحال اور حزب اللہ کی جانب سے یقین دہانی کا دعویٰ
امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کے دیگر بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ لبنان کے داخلی حالات اور آبنائے ہرمز کے معاملات کو ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ رکھا جائے تاکہ مختلف نوعیت کے بین الاقوامی تنازعات کے حل میں کوئی نئی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ انہوں نے ایک بڑا دعویٰ بھی کیا کہ لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کی جانب سے یہ اہم یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ فی الحال اسرائیل پر کوئی بڑا حملہ نہیں کرے گی، جس کے بعد خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
امریکی کانگریس میں بحث اور ٹرمپ کی کڑی تنقید
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایوانِ نمائندگان (کانگریس) میں ان کی انتظامیہ کے خلاف پیش کی جانے والی اس حالیہ قرارداد پر کڑی تنقید کی جس میں ایران کے خلاف صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ: واشنگٹن کے بعض مخصوص سیاسی حلقے ملکی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر صرف ذاتی مفاد کے لیے ان کی کامیاب خارجہ پالیسیوں کی بلاوجہ مخالفت کر رہے ہیں۔
امریکہ کو کسی بھی نئی اور لاحاصل جنگ میں دھکیلنے کے بجائے سفارت کاری اور پرامن مذاکرات کو ایک موقع دیا جانا چاہیے۔
ان کی موجودہ انتظامیہ دن رات صرف مذاکرات کے ذریعے ہی دیرینہ عالمی تنازعات کے پرامن خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
ممکنہ معاہدے پر دنیا بھر کی نظریں
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس متوقع معاہدے پر اس وقت عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ اس تاریخی پیش رفت کے براہِ راست اثرات مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سلامتی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں (توانائی منڈیوں) اور بین الاقوامی سفارت کاری پر مرتب ہوں گے۔ اگر یہ معاہدہ اگلے دو روز میں طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پر محیط حالیہ کشیدگی کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی اور اہم سفارتی پیش رفت تصور کی جائے گی۔

ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کا وقت آ گیا ہے، پینتالیس سالہ رویہ اب مزید برداشت نہیں ہو گا: امریکی سربراہِ مملکت

محمود احمد june 03,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

امریکی سربراہِ مملکت (صدر) ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال پر اپنا ایک اور بڑا اور تاریخی موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایران کے ساتھ ایک حتمی اور مستقل تجارتی و سیاسی معاہدہ کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ انہوں نے واضح اور کڑے الفاظ میں انتباہ جاری کیا کہ گزشتہ سینتالیس (47) سال سے جاری ایرانی حکومت کا جارحانہ رویہ اب واشنگٹن کے لیے مزید کسی صورت برداشت کے قابل نہیں رہا۔

صوتی مکالمے میں اہم ترین اعتراف اور عسکری کارروائیاں انٹرنیٹ پر نشر ہونے والے ایک خصوصی صوتی مکالمے (پوڈکاسٹ انٹرویو) میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے امریکی سربراہِ مملکت نے دعویٰ کیا کہ اگر حالیہ دنوں میں ایران کی فوجی تنصیبات پر براہِ راست حملے نہ کیے جاتے، تو وہ محض چند ہی ہفتوں کے اندر خطرناک ترین جوہری ہتھیار (ایٹم بم) تیار کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق، حالیہ امریکی و اتحادی عسکری کارروائیوں کے بعد تہران کی قیادت کو ایک انتہائی واضح اور دوٹوک پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔

بدلتے معاشی و عسکری حالات اور سیاسی حکمتِ عملی ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی موجودہ خارجہ پالیسیوں پر ہونے والی داخلی اور خارجی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست کے حالات ہمیشہ انتہائی تیزی سے بدلتے ہیں اور اسی بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق مقتدر حکومتوں کے فیصلے بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات اپنے سب سے بڑے دشمن کو الجھن اور غیریقینی صورتحال میں رکھنا بھی ایک گہری اور کامیاب جنگی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہوتا ہے۔

جوہری صلاحیت کی روک تھام کا بڑا دعویٰ انہوں نے پریس کے سامنے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ ایران خفیہ طور پر مکمل جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا، تاہم وقت پر کیے جانے والے امریکی اقدامات اور سخت فیصلوں کے باعث ہی اس کی اس ایٹمی پیش رفت کو کامیابی سے روکا گیا ہے۔

ایرانی قیادت سے ملاقات اور حتمی معاہدے کا امکان امریکی سربراہِ مملکت نے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا اشارہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ان تمام تر عسکری تلخیوں کے باوجود ایران کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں ایک جامع اور حتمی امن معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مستقبل میں ایرانی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ان کی براہِ راست ملاقات کا واضح امکان بھی موجود ہے۔

ان کے مطابق، ایرانی حکومت کو اب ہر حال میں اپنے دیرینہ علاقائی رویے اور عسکری پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنی ہو گی کیونکہ موجودہ نازک صورتحال میں مشرقِ وسطیٰ کے پورے خطے میں جاری جنگی کشیدگی کو کم کرنا عالمی برادری اور خود ایران کے لیے بے حد ضروری ہو چکا ہے۔