اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملہ: ڈونلڈ ٹرمپ کا شدید اور حتمی جوابی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ اردن میں قائم اپنے عسکری اڈوں پر ہونے والے حالیہ ایرانی حملوں کا انتہائی ’سخت اور موثر جواب‘ دے گا۔ خبر رساں ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک ہنگامی ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایرانی عسکری اقدام پر واشنگٹن چپ نہیں بیٹھے گا اور اس کا جواب بھرپور کارروائی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

امریکی صدر کا یہ تند و تیز بیان پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے اس باضابطہ دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی عسکری حملوں کے ردِعمل میں ایران نے اردن میں واقع دو اہم امریکی ایئر بیسز—’شاہ حسین’ اور ‘الازرق’—کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں وہاں موجود امریکی فوج کے ‘تکنیکی و دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے اور جنگی لڑاکا طیاروں کو بھاری نقصان’ پہنچا ہے۔

انٹرویو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ رات ایرانی میزائل حملے کے دوران ایک میزائل کو دانستہ طور پر گزرنے دیا کیونکہ وہ کسی امریکی ہدف کی سمت نہیں تھا اور اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا، جبکہ دیگر تمام ایرانی میزائلوں کو فضا ہی میں کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب اردنی حکومت نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس کی اپنی فضائی دفاعی فورسز نے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے ناکارہ بنایا۔

عسکری کشیدگی اور سخت بیانات کے باوجود امریکی صدر نے سفارتی حل کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی حکام واقعی ہم سے مذاکرات اور ملاقات کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں نہیں جانتا کہ کسی پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے ان پر آئندہ کے لیے اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔‘

اس کے فوراً بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک مفصل پوسٹ میں امریکی صدر نے ایرانی حکومت کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’ایران باضابطہ طور پر ایک بالکل ناکام ریاست بن چکا ہے اور اس کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے! اس کے پاس اب نہ کوئی فعال بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ، اور نہ ہی کوئی معاشی قوت رکھنے والی کرنسی۔ وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں دینے سے بھی قاصر ہے۔ ملک میں مہنگائی 300 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہے، اور اس کی موجودہ قیادت مکمل انتشار کا شکار ہے جو ملک کی مناسب نمائندگی کی صلاحیت کھو چکی ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر الزام عائد کیا کہ ’تہران حکومت کے پاس اب صرف امریکہ سے آنے والی فیک نیوز، اپنے ہی معصوم مظاہرین کو قتل کرنے کی سفاکانہ آمادگی (جس میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان پر انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے تحت عالمی عدالتوں میں مقدمہ چلنا چاہیے!)، اور بے بنیاد عسکری دعووں کی ایک لمبی فہرست ہی باقی رہ گئی ہے۔‘