

محمود احمد, August 05,2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء
سعودی عرب نے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کے مابین مذاکرات کا سلسلہ مسلسل برقرار رکھنے کی بنیادی اہمیت پر زور دیا ہے۔
عرب نیوز اور سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ اہم باضابطہ بیان جدہ میں منعقدہ وزرا کے ہفتہ وار کابینہ اجلاس کے بعد سامنے آیا، جو امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے سے متعلق پیش رفت کی رپورٹس کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے علاقائی سیکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
کابینہ اجلاس کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختتامِ ہفتہ پر ہونے والی اہم ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق بھی وزرا کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کابینہ نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے کثیر القومی دفاعی بحری اتحاد میں دنیا بھر کے ممالک کی بڑھتی ہوئی حمایت اور شمولیت کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور 13 دیگر ممالک نے جمعرات کے روز ایک مشترکہ بحری اتحاد قائم کیا تھا جس کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہوں میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ‘ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس اتحاد’ بحری سیکیورٹی کو فروغ دینے، عالمی سمندری راستوں کی حفاظت کرنے اور بحری نقل و حمل یا عالمی تجارت کے خلاف درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یہ اقدام بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیجِ عدن میں بحری گزرگاہوں اور توانائی کی ترسیل کے عالمی راستوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ایک مضبوط اور کثیر الجہتی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
اسی اثنا میں، ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے ایران کے ساتھ جلد ایک معاہدہ طے پانے کے واضح امکانات ظاہر کیے ہیں جس کے تحت حساس ترین آبنائے ہرمز کو دوبارہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سابقہ التوا کی یادداشت ناکام ہونے کے بعد ایران نے اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جسے اب دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی پیش رفت جاری ہے۔