شہباز شریف اور محمد بن سلمان کا رابطہ، خطے میں امن کیلئے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق

محمود احمد, September 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فون پر اہم گفتگو ہوئی ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی درپیش سنگین صورتحال، بین الاقوامی سیکیورٹی خدشات اور خطے میں امن کے قیام کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم آفس اور سعودی سرکاری پریس ایجنسی کی تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کی شہری اور معاشی تنصیبات پر حوثی گروپ کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سیکیورٹی، معاشی بنیادی ڈھانچے اور خود مختاری پر ہونے والے یہ غیر ذمہ دارانہ حملے پورے خطے کے امن، استحکام اور عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔

گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے سعودی قیادت اور سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کو کم کرنے اور جنگ کے خطرات کو ٹالنے کے لیے عسکری و سفارتی سطح پر مسلسل رابطہ کاری کر رہا ہے، اور اس سلسلے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور عسکری قیادت بھی بین الاقوامی و علاقائی فریقین کے ساتھ متحرک ہیں۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کی بحالی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی حمایت اور کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے تزویراتی شراکت داری اور دوطرفہ دفاعی معاہدو ں کے تناظر میں قریبی رابطے میں رہنے اور جلد بالمشافہ ملاقات کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد کے درمیان 13 ستمبر 2026ء کو ہونے والے ٹیلیفونک رابطے کے باضابطہ بیانات کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے دفاعی و سفارتی دفاتر کشیدگی کے تدارک کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔

ماخذ:

وزیراعظم آفس پاکستان (PMO)، سعودی پریس ایجنسی (SPA)، جیو نیوز پریس ریلیز

مکہ معاہدہ اجتماعی دفاع اور علاقائی استحکام کا تاریخی سنگِ میل ہے: وفاقی وزیر احسن اقبال کا جامعہ لاہور کی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

منصور احمد, September 03,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا تاریخی ‘مکہ معاہدہ’ تینوں اسلامی ممالک کے اجتماعی دفاع اور خطے میں پائیدار استحکام کی جانب ایک انتہائی اہم سنگِ میل ہے، تاہم اس معاہدے کی طویل المدتی کامیابی اور افادیت کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ اس سٹریٹجک تعاون کو معاشی طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی میں کس حد تک تبدیل کیا جاتا ہے۔

جامعہ لاہور میں “مکہ معاہدہ اور طاقت کی نئی تشکیل” کے عنوان سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی سیاسی و معاشی منظرنامہ ایک بڑی تاریخی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں یک قطبی عالمی نظام زوال پذیر ہے اور ایک نیا کثیر قطبی نظام وجود میں آ رہا ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اتحاد کسی بھی ریاست کے خلاف نہیں اور نہ ہی کوئی نیا محاذ کھولنے کا مقصد رکھتا ہے، بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت طاقت کے ذریعے امن، یکجہتی اور دفاعی صلاحیت کو یقینی بناتا ہے۔

وفاقی وزیر نے تینوں ممالک کی صلاحیتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی مالیاتی و توانائی کی قوت، ترکیہ کی صنعتی و دفاعی بنیاد اور پاکستان کی اعلیٰ عسکری صلاحیت، جغرافیائی رابطے اور عظیم الشان نوجوان آبادی مل کر اس اتحاد کو لازوال طاقت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ترکی کی ٹیکنالوجی، سعودی سرمایہ کاری اور پاکستانی انسانی وسائل کو یکجا کر کے اسے وسیع تر معاشی اور تکنیکی شراکت داری میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کی قومی پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی اگلی بڑی جدوجہد “معرکۂ ترقی” ہے، جس کے تحت ‘اڑان پاکستان’ منصوبے کے ذریعے 2035ء تک ملکی معیشت کو 1 ٹریلین ڈالر اور 2047ء تک 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا حدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کوانٹم کمپیوٹنگ، بائیوٹیکنالوجی اور خلائی سائنسز میں مہارت حاصل کریں کیونکہ جنگی طیارے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں لیکن جامعات قوموں کے مستقبل کا دفاع کرتی ہیں۔

مکہ مکرمہ میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات، اعلیٰ سطح وفد کی بھی شرکت

کاشف عباسی , August 07,2026

مکہ مکرمہ (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے مکہ مکرمہ کے تاریخی قصر الصفا میں سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق سعودی ولی عہد نے قصر الصفا آمد پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا گرمجوشی سے پرُتپاک استقبال کیا۔

اس اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اسٹریٹجک شراکت داری، معاشی و دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی دفاعی حلف طے پا گیا

محمود احمد, August 07,2026

مکہ مکرمہ (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے خطے کی سیکیورٹی، مشترکہ دفاع اور اسلامی یکجہتی کو مضبوط بنانے کی سمت ایک تاریخی اور سنگِ میل پیش رفت کرتے ہوئے مکہ مکرمہ میں سہ فریقی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے کی سب سے اہم شق کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا جس کا اجتماعی دفاعی اصول کے تحت مشترکہ جواب دیا جائے گا۔

یہ تاریخ ساز معاہدہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی دعوت پر مکہ مکرمہ کے تاریخی ‘الصفاء محل’ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی مشترکہ دفاعی سربراہ اجلاس کے دوران طے پایا۔ اجلاس میں سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے شرکت کی، جہاں سعودی ولی عہد نے دونوں سربراہانِ مملکت کا پرتپاک استقبال کیا۔

سربراہی اجلاس کے دوران تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دوطرفہ و سہ فریقی اسٹریٹجک تعلقات، علاقائی سلامتی، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور باہمی دلچسپی کے امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ قائدین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی طویل المیعاد برادرانہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو دفاعی میدان میں نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

تہوں پر مبنی اس دفاعی معاہدے کے تحت نہ صرف اجتماعی دفاع کا عہد کیا گیا ہے بلکہ عسکری تربیت، جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، مشترکہ فوجی مشقیں اور سلامتی کے دیگر امور میں باہمی تعاون کو وسیع تر پیمانے پر فروغ دینے پر کامل اتفاق کیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’ تینوں ممالک کی مشترکہ صلاحیتوں، بین الاقوامی اور علاقائی امن کے قیام اور محفوظ مستقبل کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو خطے میں پائیدار استحکام کا باعث بنے گا۔

کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا ضروری ہے، سعودی عرب

محمود احمد, August 05,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

سعودی عرب نے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کے مابین مذاکرات کا سلسلہ مسلسل برقرار رکھنے کی بنیادی اہمیت پر زور دیا ہے۔

عرب نیوز اور سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ اہم باضابطہ بیان جدہ میں منعقدہ وزرا کے ہفتہ وار کابینہ اجلاس کے بعد سامنے آیا، جو امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے سے متعلق پیش رفت کی رپورٹس کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے علاقائی سیکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

کابینہ اجلاس کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختتامِ ہفتہ پر ہونے والی اہم ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق بھی وزرا کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کابینہ نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے کثیر القومی دفاعی بحری اتحاد میں دنیا بھر کے ممالک کی بڑھتی ہوئی حمایت اور شمولیت کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور 13 دیگر ممالک نے جمعرات کے روز ایک مشترکہ بحری اتحاد قائم کیا تھا جس کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہوں میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔

سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ‘ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس اتحاد’ بحری سیکیورٹی کو فروغ دینے، عالمی سمندری راستوں کی حفاظت کرنے اور بحری نقل و حمل یا عالمی تجارت کے خلاف درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یہ اقدام بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیجِ عدن میں بحری گزرگاہوں اور توانائی کی ترسیل کے عالمی راستوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ایک مضبوط اور کثیر الجہتی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

اسی اثنا میں، ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے ایران کے ساتھ جلد ایک معاہدہ طے پانے کے واضح امکانات ظاہر کیے ہیں جس کے تحت حساس ترین آبنائے ہرمز کو دوبارہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سابقہ التوا کی یادداشت ناکام ہونے کے بعد ایران نے اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جسے اب دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی پیش رفت جاری ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ؛ بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ تجارتی نقل و حرکت کے لیے پاک سعودی مشترکہ عزم

کاشف عباسی , JULY 23,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب خطے میں امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے فروغ کے لیے اپنا قریبی تعاون جاری رکھیں گے، جبکہ بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز اور پورے خطے میں قانونی بحری آمدورفت اور بین الاقوامی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے بھی مشترکہ حکمتِ عملی پر گامزن رہیں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے اہم پیغام میں وزیرِ اعظم نے بتایا کہ ان کی اپنے برادرِ گرامی سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے تفصیلی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ اس نوعیت کے کارروائیاں قطعی ناقابلِ قبول ہیں، جو بین الاقوامی قوانین اور بحری آمدورفت کی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے امن و سلامتی کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔

انہوں نے برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور تمام پاکستانی قوم اس مشکل گھڑی میں سعودی قیادت اور اپنے برادر عرب عوام کے ساتھ مکمل ثابت قدمی سے کھڑے ہیں۔

وزیرِ اعظم نے بتایا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ان کے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہوا ہے کہ دونوں ممالک سمندری تجارت اور شاہراہوں کو تحفظ فراہم کرنے اور خطے کے وسیع تر مفاد و امن کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھیں گے۔