

محمود احمد june 18,2026
اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء
پاکستان نے عالمی برادری کو آئینہ دکھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دنیا اس وقت غیر معمولی وسعت اور پیچیدگی کے حامل سنگین ترین انسانی بحران سے دوچار ہے جہاں لاکھوں بے گناہ انسان مختلف جنگی تنازعات، غیر ملکی قبضے، موسمیاتی آفات، بدترین غربت اور غذائی عدم تحفظ کے باعث زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، نیویارک سے موصولہ اعلیٰ سطحی سفارتی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے انسانی امور سے متعلق اجلاس کے عمومی مباحثے میں پاکستان کا ٹھوس موقف پیش کرتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عالمی سطح پر انسانی امداد فراہم کرنا کوئی سخاوت، خیرات یا احسان کا عمل نہیں ہے بلکہ یہ انسانی ضمیر کا اولین تقاضا اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت سب کی مشترکہ قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل امتحان انتہائی سادہ ہے کہ کیا عالمی امداد دنیا میں کسی بھی تعصب اور بلا امتیاز، سیاسی مقاصد سے پاک ہو کر اور بغیر کسی تاخیر یا رکاوٹ کے ہر سچے ضرورت مند تک پہنچ رہی ہے یا نہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ مستقل مالی قلت اور فنڈز کی کمی کے باعث مجبور امدادی اداروں کو مظلوموں کے لیے خوراک، رہائش، ادویات اور تحفظ جیسی بنیادی ترین انسانی ضروریات کے درمیان مشکل ترین فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں جو کہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی انسانی امداد کے پورے نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے سلامتی کونسل اور دنیا کے سامنے پانچ اہم ترین تجاویز پیش کیں، انہوں نے سب سے پہلے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلح تنازعات اور جابرانہ غیر ملکی قبضے کی صورتحال ہے وہاں بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جائے اور طاقتور ممالک کی جانب سے ان قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کو معمول سمجھنے، جواز پیش کرنے یا نظرانداز کرنے کا منافقانہ رویہ اب مستقل طور پر ترک کرنا ہوگا، انہوں نے دوسری تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر جنگی صورتحال میں محصورین تک محفوظ، تیز رفتار، مستقل اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی کو یقینی بنایا جائے، تیسری تجویز میں انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کو بکھراؤ سے بچا کر براہِ راست ان مقامات پر پہنچایا جائے جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہو، چوتھی تجویز کے تحت انہوں نے زور دیا کہ ہنگامی امداد عارضی طور پر جانیں تو بچاتی ہے لیکن طویل المدتی استحکام کے لیے اس امداد کو ترقیاتی منصوبہ بندی، موسمیاتی موافقت اور آفات سے بچاؤ کی قومی حکمت عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا لازمی ہے اور خصوصاً کمزور ممالک میں قبل از وقت انتباہی نظام (ارلی وارننگ سسٹم) کو مضبوط بنانا ہو گا، پانچویں تجویز میں انہوں نے واضح کیا کہ انسانی ضروریات میں مستقل کمی لانے کے لیے سیاسی عزم کے ذریعے طویل تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا ہو گا اور یہ حل اقوامِ متحدہ کے منشور اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق صرف مکالمے، سفارت کاری اور پرامن ذرائع سے ہی نکالا جا سکتا ہے، اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار نے دنیا کو جرات مندانہ پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آج کے اس بدترین انسانی بحران میں ہماری کامیابی کا حقیقی معیار ہمارے کاغذوں پر کیے گئے بڑے بڑے وعدے نہیں بلکہ زمین پر ہماری عملی کارکردگی ہو گی۔