آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی ان نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب رات 12 بجے سے ہو جائے گا۔
عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور ملکی پرائسنگ میکانزم کے تحت حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور بڑے اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ہوائی جہازوں میں استعمال ہونے والے ایندھن (جیٹ فیول) اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں کو یکمشت تیز ترین مہنگا کر دیا گیا ہے۔ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق، جیٹ فیول کی فی لیٹر قیمت میں 40 روپے 35 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی فی لیٹر قیمت میں 25 روپے 45 پیسے کا بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کا ملک بھر میں فوری اطلاق کر دیا گیا ہے۔
اس تزویراتی اضافے کے بعد جہازوں میں استعمال ہونے والے جیٹ فیول کی نئی قیمت 251 روپے 20 پیسے سے بڑھ کر 291 روپے 55 پیسے فی لیٹر کی مقتدر سطح پر پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب، صنعتوں اور زرعی مقاصد میں استعمال ہونے والے لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بھی 205 روپے 22 پیسے سے بڑھا کر 230 روپے 67 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق، ان دونوں مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نفاذ کر دیا گیا ہے جس سے ہوائی سفر اور صنعتی و زرعی لاگت پر براہِ راست اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا یہ تسلسل گزشتہ ہفتے سے جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی حکومت کی جانب سے جیٹ فیول کی قیمت میں فی لیٹر 13 روپے 23 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 9 روپے 74 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مسلسل اضافے سے جہاں ایئرلائنز کے کرایوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، وہاں لائٹ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے زرعی ٹیوب ویلوں اور چھوٹی صنعتوں کا پیداواری بل بھی متاثر ہوگا۔