ایرانی وزیر خارجہ کا نئے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہٰ سے ٹیلیفونک رابطہ؛ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اسلامی دنیا کے متحد ہونے پر زور

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہٰ سے ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کو ایران کی جغرافیائی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی پر فوری اور انتہائی ذمہ دارانہ ردِعمل دینا چاہیے۔

ایرانی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے حسین ابراہیم طٰہٰ کو اسلامی تعاون تنظیم کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونے اور سیکریٹری جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کی مستقبل کی سفارتی کاوشوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو کے دوران اس امید کا اظہار کیا کہ نئے سیکریٹری جنرل موجودہ دباؤ اور درپیش عالمی چیلنجز سے نبٹنے کے لیے تنظیم کے پلیٹ فارم اور اسلامی دنیا کی اجتماعی صلاحیتوں کو مکمل اور مؤثر انداز میں بروئے کار لائیں گے اور تمام رکن ممالک کے مابین باہمی اتحاد، سفارتی رابطے اور کثیر الجہتی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

اس اہم رابطے میں عباس عراقچی نے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو خطے میں امریکی اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے ایران کے خلاف ہونے والی مبینہ عسکری جارحیت اور اس کے بعد کی انتہائی حساس علاقائی صورتحال سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کی پامالی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے اسلامی دنیا کی جانب سے ایک مربوط، متفقہ اور جرات مندانہ لائحہ عمل ناگزیر ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے موجودہ سنگین بحران کے تناظر میں اسلامی ممالک پر باہمی مشاورت کو تیز کرنے اور یکجہتی کے پیغام کو عالمی سطح پر عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ کی جانب سے ‘مکہ دفاعی معاہدے’ کا پرتپاک خیرمقدم

محمود احمد, August 08,2026

اسلام آباد / جدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی “مکہ دفاعی معاہدے” کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پوری مسلم دنیا اور خطے کے لیے ایک سنگِ میل اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا ہے۔

او آئی سی کے آفیشل ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری کردہ تہنیتی اور خیرسگالی کے پیغام میں سیکرٹری جنرل نے اس عظیم پیش رفت پر مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے تینوں برادر اسلامی ممالک کی دانشمندانہ قیادت اور ان تھک کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جس کی بدولت یہ اہم اتحاد اور دفاعی معاہدہ ممکن ہو سکا۔

حسین ابراہیم طہٰ نے اپنے پیغام میں زور دے کر کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ خطے اور پوری امتِ مسلمہ میں سلامتی، پائیدار امن اور سیاسی استحکام کے لیے ایک بنیاد اور کلیدی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

سیکرٹری جنرل او آئی سی کا مزید کہنا تھا کہ ‘مکہ دفاعی معاہدہ’ عالمی و علاقائی سطح پر تیزی سے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک کے درمیان یکجہتی، مشترکہ مفادات کے تحفظ اور تعمیری شراکت داری کو فروغ دینے کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔