بلاول بھٹو زرداری کا ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کا خیرمقدم: اسے ملک و خطے کی تاریخ کا سنگِ میل قرار دے دیا

کاشف عباسی , August 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کو ملکی تاریخ کی ایک عظیم اور اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں اور سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق پی پی پی چیئرمین نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ تینوں برادر ممالک یعنی سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مستحکم، محفوظ اور خوشحال مستقبل کی کامل ضمانت ہے، جو عالمی اور علاقائی امن کے قیام کے لیے بھی ایک تاریخی دستاویز ثابت ہوگی۔

بلاول بھٹو زرداری نے اس معاہدے کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی و دفاعی کاوشوں کی بھرپور پذیرائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ خطے اور اسلامی دنیا میں پائیدار امن، تحفظ اور یکجہتی کا سنگِ بنیاد ثابت ہوگا۔

یاد رہے کہ مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان کسی بھی ایک ریاست پر بیرونی مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کا اجتماعی طور پر دفاعی جواب دیا جائے گا۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ کی جانب سے ‘مکہ دفاعی معاہدے’ کا پرتپاک خیرمقدم

محمود احمد, August 08,2026

اسلام آباد / جدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی “مکہ دفاعی معاہدے” کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پوری مسلم دنیا اور خطے کے لیے ایک سنگِ میل اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا ہے۔

او آئی سی کے آفیشل ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری کردہ تہنیتی اور خیرسگالی کے پیغام میں سیکرٹری جنرل نے اس عظیم پیش رفت پر مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے تینوں برادر اسلامی ممالک کی دانشمندانہ قیادت اور ان تھک کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جس کی بدولت یہ اہم اتحاد اور دفاعی معاہدہ ممکن ہو سکا۔

حسین ابراہیم طہٰ نے اپنے پیغام میں زور دے کر کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ خطے اور پوری امتِ مسلمہ میں سلامتی، پائیدار امن اور سیاسی استحکام کے لیے ایک بنیاد اور کلیدی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

سیکرٹری جنرل او آئی سی کا مزید کہنا تھا کہ ‘مکہ دفاعی معاہدہ’ عالمی و علاقائی سطح پر تیزی سے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک کے درمیان یکجہتی، مشترکہ مفادات کے تحفظ اور تعمیری شراکت داری کو فروغ دینے کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: بحرین کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تاریخی معاہدے کا خیرمقدم

محمود احمد, August 08,2026

منامہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

سلطنتِ بحرین نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے دفاعی توازن اور پائیدار امن کی سمت ایک انتہائی اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

بحرین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے دستخطوں سے طے پانے والا یہ معاہدہ وسیع علاقائی دفاعی نظام میں ایک کلیدی اضافہ ہے۔ بیان میں تینوں برادر ممالک کی شاندار دفاعی صلاحیتوں، سیکیورٹی انضمام اور پیش ورانہ عسکری مہارت کو بھی زبردست الفاظ میں سراہا گیا ہے۔

بحرینی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ تاریخی دفاعی معاہدہ علاقائی سلامتی، باہمی استحکام اور عالمی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے تینوں ممالک کی دیرینہ وابستگی اور ماضی کے شاندار ریکارڈ کا مظہر ہے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ تحریری شراکت داری خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اجتماعی دفاعی نظام کو بھی یکجہتی، ہم آہنگی اور اسٹریٹجک انضمام کے ذریعے مزید فعال اور مضبوط بنائے گی۔

سلطنتِ بحرین نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی خود بحرین کی اپنی سلامتی اور بقا کے لیے ناگزیر ہے، اور بحرین ان تمام اقدامات اور معاہدوں کی مکمل حمایت کرتا ہے جو قومی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنائیں۔ بحرین نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ علاقائی سالمیت کی پاسداری اور تمام تنازعات کے سیاسی و سفارتی حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی دفاعی حلف طے پا گیا

محمود احمد, August 07,2026

مکہ مکرمہ (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے خطے کی سیکیورٹی، مشترکہ دفاع اور اسلامی یکجہتی کو مضبوط بنانے کی سمت ایک تاریخی اور سنگِ میل پیش رفت کرتے ہوئے مکہ مکرمہ میں سہ فریقی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے کی سب سے اہم شق کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا جس کا اجتماعی دفاعی اصول کے تحت مشترکہ جواب دیا جائے گا۔

یہ تاریخ ساز معاہدہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی دعوت پر مکہ مکرمہ کے تاریخی ‘الصفاء محل’ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی مشترکہ دفاعی سربراہ اجلاس کے دوران طے پایا۔ اجلاس میں سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے شرکت کی، جہاں سعودی ولی عہد نے دونوں سربراہانِ مملکت کا پرتپاک استقبال کیا۔

سربراہی اجلاس کے دوران تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دوطرفہ و سہ فریقی اسٹریٹجک تعلقات، علاقائی سلامتی، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور باہمی دلچسپی کے امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ قائدین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی طویل المیعاد برادرانہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو دفاعی میدان میں نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

تہوں پر مبنی اس دفاعی معاہدے کے تحت نہ صرف اجتماعی دفاع کا عہد کیا گیا ہے بلکہ عسکری تربیت، جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، مشترکہ فوجی مشقیں اور سلامتی کے دیگر امور میں باہمی تعاون کو وسیع تر پیمانے پر فروغ دینے پر کامل اتفاق کیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’ تینوں ممالک کی مشترکہ صلاحیتوں، بین الاقوامی اور علاقائی امن کے قیام اور محفوظ مستقبل کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو خطے میں پائیدار استحکام کا باعث بنے گا۔