برطانیہ کا مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی کا تاریخی اعلان

محمود احمد, September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات اور اشیائے صرف کی درامد پر باضابطہ طور پر مکمل پابندی عائد کرنے سمیت بستیوں کی غیر قانونی توسیع اور پھیلاؤ کے خلاف متعدد سخت اقدامات کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے منگل کے روز پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں خطاط کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت ایک انتہائی جامع اور سخت پابندیوں کا بین الاقوامی نظام متعارف کرانے جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس پابندی کا بنیادی ہدف صرف غیر قانونی طور پر قائم کی گئی اسرائیلی بستیاں اور ان کے پھیلاؤ کو روکنا ہے، جبکہ اس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ مجموعی یا عمومی دوطرفہ تجارت کو نقصان پہنچانا ہرگز نہیں ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے اپنے سخت ترین موقف کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ برطانوی عوام یہ پسند کریں گے کہ ملک کی مارکیٹوں اور دکانوں میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع غیر قانونی بستیوں کی مصنوعات بیچ کر فلسطینی سرزمین پر قبضے اور تسلط کی مالی حمایت کی جائے۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے بھی مشترکہ اور قومی سطح پر مغربی کنارے کی ان بستیوں کی اشیا پر پابندیاں نافذ کرنے کا باقاعدہ اعادہ کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق ان نئے قانونی اقدامات میں مناسب اور مخصوص مذہبی استثنا بھی شامل رکھا جائے گا، تاہم جو افراد، کمپنیاں یا ادارے ان غیر قانونی بستیوں کی تعمیر یا توسیع میں سہولت کاری فراہم کریں گے، انہیں برطانیہ کی جانب سے انتہائی شدید اقتصادی و سفارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے اندر مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں اور ان سے منسلک کاروباری اشتہارات کی نمائش پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمان میں دہرایا گیا کہ بین الاقوامی قانون کی نظر میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں اور متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے سمیت بستیوں کی یہ مسلسل توسیع دو ریاستی حل کے تمام سفارتی امکانات کو تباہ کر رہی ہے۔ وزیر خارجہ نے پارلیمان میں برطانوی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ لندن حکومت مغربی کنارے میں فلسطینی باشندوں کی مسلسل جبری بے دخلی اور خطے کے بگڑتے حالات کو ‘نسلی صفائی’ کے مترادف سمجھتی ہے۔

برطانیہ کے اس فیصلے پر تل ابیب کے حکام کی جانب سے شدید اور تلخ ردِعمل سامنے آیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے بھی برطانوی اقدامات پر تنقید کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس حتمی فیصلے کے بعد برطانیہ اور اسرائیل کے دوطرفہ تعلقات میں مزید بگاڑ اور شدید سفارتی کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔