سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی: زیارت، ہرنائی اور سوراب میں 9 دہشت گرد ہلاک

منصور احمد, August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران زیارت، ہرنائی اور سوراب میں 9 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کو زیارت اور ہرنائی کے درمیانی پہاڑی سلسلے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملی تھی۔ اس اطلاع پر ایک بڑا آپریشن کیا گیا جس میں فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کا محاصرہ کر کے مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں 8 دہشت گرد مارے گئے اور ان کا خفیہ ٹھکانہ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

ایک اور کارروائی میں ضلع سوراب کے علاقے حاجیکہ گاؤں میں سکیورٹی فورسز نے دشت کٹائی اور حاجیکہ کے درمیان ناکہ بندی کر کے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ اس کامیاب آپریشن کے دوران مزید ایک دہشت گرد ہلاک ہوا۔ مارے جانے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، میگزین، دستی بم، واکی ٹاکی، موٹر سائیکل اور دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے اور صوبے میں دیرپا امن کے قیام تک یہ بلاتعطل کارروائیاں جاری رہیں گی۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابیاں، مختلف اضلاع میں 17 دہشت گرد ہلاک

منصور احمد june 02,2026

راولپنڈی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

پاک فوج اور سکیورٹی فورسز نے صوبہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر ہنگامی اور کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے سترہ (17) اہم دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق، یہ تمام کارروائیاں صوبے کے حساس اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے مختلف خفیہ ٹھکانوں پر کی گئیں۔

خفیہ اطلاعات پر مربوط آپریشنز اور شدید فائرنگ کا تبادلہ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ عسکری بیان کے مطابق، بلوچستان کے مختلف مقامات پر بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی انتہائی معتبر اور خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ ان معلومات پر سکیورٹی فورسز نے انتہائی مربوط اور منظم آپریشنز کا آغاز کیا۔ کارروائیوں کے دوران گھیرے میں آئے دہشت گردوں اور فورسز کے درمیان آمنے سامنے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں سترہ (17) شرپسند دہشت گرد مارے گئے۔

شہریوں پر حملوں میں ملوث ہونا اور بھاری اسلحے کی برآمدگی سرکاری عسکری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے یہ تمام دہشت گرد طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز پر حملوں، تخریب کاری اور معصوم شہریوں کے خلاف مختلف گھناؤنی دہشت گردانہ کارروائیوں میں براہِ راست ملوث اور مطلوب تھے۔ کامیاب کارروائی کے بعد فورسز نے دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں پر قبضے کے بعد وہاں سے بھاری مقدار میں جدید ترین خودکار اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (بارودی مواد) برآمد کر کے قبضے میں لے لیے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشن اور عزمِ استحکام عسکری حکام کے مطابق، دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد ان تمام متاثرہ علاقوں میں فوج کا خصوصی سرچ اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دوسرے ممکنہ خطرے یا مفرور ساتھی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے اور پورے خطے کو دہشت گرد عناصر سے پاک کر کے پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

بیان میں مزید عزم ظاہر کیا گیا کہ قومی پالیسی ‘عزمِ استحکام’ کے تحت ملک بھر سے دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے یہ ٹارگٹڈ کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور پاکستان میں بیرونی ممالک کی سرپرستی اور فنڈنگ سے ہونے والی ہر قسم کی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

سکیورٹی فورسز نے اپنے مشترکہ بیان کے اختتام پر اس فولادی عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کے امن، سلامتی، ملکی استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ پوری قومی قوت، یکسوئی اور عسکری طاقت کے ساتھ آخری حد تک جاری رکھی جائے گی۔