سندھ میں شاہراہوں اور موٹرویز کی بہتری کے لیے 49 ارب 30 کروڑ روپے مختص: حیدرآباد سکھر موٹروے اور این-5 کی بحالی ترجیحات میں شامل

محمود احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

سندھ میں قومی شاہراہوں اور موٹرویز کے بنیادی ڈھانچے کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے، تجارتی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور سفر کو محفوظ بنانے کے لیے رواں مالی سال کے دوران 49 ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے کے بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ ان فنڈز کی مدد سے حیدرآباد سکھر موٹروے اور سیلاب سے شدید متاثر ہونے والی اہم قومی شاہراہ این-5 کی تعمیر و بحالی سمیت متعدد اہم ترین مواصلاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری رکھا جائے گا۔

سندھ کے مواصلاتی انفراسٹرکچر کے حوالے سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی 2026-27) کے سرکاری دستاویزات سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے زیرِ انتظام سندھ میں موٹرویز اور قومی شاہراہوں کے کل 9 بڑے اور اہم ترین منصوبے شامل ہیں، جن کی مجموعی منظور شدہ پی سی-ون لاگت 594 ارب 97 کروڑ 70 لاکھ روپے بنتی ہے۔ ان تمام منصوبوں پر جون 2026 تک مجموعی طور پر 122 ارب 50 کروڑ 80 لاکھ روپے کی رقوم خرچ کی جا چکی تھیں، جبکہ یکم جولائی 2026 کے بعد باقی ماندہ مالی ضروریات کا تخمینہ 472 ارب 46 کروڑ 90 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ رواں مالی سال 2026-27 کے لیے مختص کیے گئے 49 ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے میں 8 ارب 5 کروڑ 50 لاکھ روپے کے مقامی وسائل شامل ہیں، جبکہ 41 ارب 25 کروڑ روپے کی رقم غیر ملکی معاونت پر مشتمل ہے۔

دستاویزات کے مطابق منصوبوں میں سب سے بڑی اور اہم رقم، یعنی 30 ارب روپے، 306 کلومیٹر طویل حیدرآباد۔سکھر موٹروے کی تعمیر کے لیے مختص کی گئی ہے۔ چھ لین پر مشتمل یہ جدید اور باڑ سے محفوظ موٹروے بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (BOT) کی بنیاد پر تعمیر کرنے کا عظیم الشان منصوبہ ہے جس کی مجموعی منظور شدہ لاگت 363 ارب 70 کروڑ روپے ہے، اور اس کی باقی ماندہ مالی ضرورت 363 ارب 69 کروڑ 10 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ اس منصوبے کے لیے رواں مالی سال کے 30 ارب روپے میں سے 2 ارب روپے مقامی ذرائع اور 28 ارب روپے غیر ملکی مالی معاونت سے حاصل ہوں گے۔ حکام کے مطابق اس میگا پروجیکٹ کی خریدی و ٹینڈرنگ کا عمل نومبر 2026ء تک مکمل ہونے کی قوی توقع ہے۔

اس کے علاوہ سال 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والی قومی شاہراہ این-5 کے مورو سے رانی پور تک (کلومیٹر 318 سے 404 کے درمیانی) شمالی اور جنوبی دونوں حصوں کی تعمیرِ نو اور 32 متاثرہ پلوں کی مکمل بحالی کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 57 ارب 24 کروڑ 50 لاکھ روپے کی مجموعی لاگت والے اس منصوبے پر جون 2026 تک 13 ارب 22 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے تھے۔ اس منصوبے کے لاٹ-1 پر 23 فیصد اور لاٹ-2 پر 19 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے 30 جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے تحت انڈس ہائی وے (این-55) پر شکارپور سے راجن پور کے درمیان 221.9 کلومیٹر طویل اضافی کیریج وے کی تعمیر کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ 44 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے اس منصوبے پر اب تک 32 ارب روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں اور اس کے مختلف حصوں پر 21 فیصد سے 79 فیصد تک کام مکمل ہو چکا ہے، جسے اکتوبر 2026 تک مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب چین کے تعاون سے این-5 کے ہالا۔مورو سیکشن کے 66 کلومیٹر حصے کی بحالی کے لیے 2 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کی مجموعی لاگت 27 ارب 97 کروڑ روپے ہے اور اس کی خریداری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

اسی طرح سکھر میں این-5 اور این-65 کے سنگم پر چار لین فلائی اوور اور رابطہ سڑکوں کے لیے 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس پر 62 فیصد کام مکمل ہے اور اسے اپریل 2027 تک مکمل کیا جائے گا۔ کراچی۔لاہور موٹروے کے لیے زمین کے حصول، معاوضوں کی ادائیگی اور یوٹیلٹی سروسز کی منتقلی کی مد میں 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس پر 68 فیصد کام مکمل ہے اور دسمبر 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مزید برآں سکھر۔ملتان موٹروے پر بھونگ انٹرچینج کی 31 اگست 2026 تک مکمل تیاری کے لیے 10 کروڑ روپے، کیریک کوریڈور کے منصوبوں کے لیے 83 کروڑ روپے، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مجوزہ نئی کراچی۔حیدرآباد موٹروے کی کمرشل فزیبلٹی کی تیاری کے لیے 7 کروڑ 50 لاکھ روپے کے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔ ان تمام ترقیاتی اور مواصلاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے سندھ بھر میں نہ صرف سفری سہولیات اور تجارتی مال برداری کے نظام میں واضح بہتری آئے گی بلکہ ملک گیر سطح پر معاشی سرگرمیوں کو بھی زبردست فروغ حاصل ہوگا۔

جام کمال خان کا بلوچستان میں ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم پر زور: منصوبہ بندی سیاسی ترجیحات کے بجائے ضرورت اور محرومی کی بنیاد پر ہونی چاہیے

محمود احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، اور صوبے میں ترقیاتی منصوبہ بندی سیاسی ترجیحات یا پسند ناپسند کی بجائے حقیقی ضرورت، آبادی، معاشی شراکت اور محرومی کی سطح کی بنیاد پر کی جانی چاہیے۔

منگل کے روز یہاں جاری ہونے والے ایک اہم بیان میں وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت مختص اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے صوبے کے تمام اضلاع میں متوازن انداز میں تقسیم ہونے چاہئیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صوبے کے بعض علاقوں میں منتخب عوامی نمائندوں کی جانب سے تجویز کردہ عوامی فلاحی سکیموں کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے، جنہیں فوری طور پر ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جانا چاہیے۔

جام کمال خان نے کہا کہ پائیدار اور متوازن ترقی کے حصول کے لیے ایک شفاف اور مناسب منصوبہ بندی انتہائی ناگزیر ہے تاکہ بلوچستان کے ہر چھوٹے بڑے ضلع کو معاشی اور سماجی ترقی کے یکساں مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وسائل کی تقسیم میں پائی جانے والی عدم مساوات ہمیشہ سے صوبے کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کا وزیراعلیٰ پورے صوبے اور اتحادی حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے، اس لیے ان کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام اضلاع اور علاقوں کے ساتھ مکمل طور پر متوازن اور غیر جانبدارانہ سلوک روا رکھا جائے۔

پی ایس ڈی پی کے تحت پاکستان ٹیلی ویژن کی ری ویمپنگ اور ماسٹر کنٹرول رومز کو جدید بنانے پر اتفاق؛ گلگت بلتستان میں عالمی کھیلوں کے مقابلوں کی لائیو کوریج کے لیے مقامی براڈکاسٹنگ انفراسٹرکچر قائم کیا جائے گا

محمود احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی ری ویمپنگ اور اسے جدید تکنیکی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے منصوبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی وی کی اصلاحات اور ری ویمپنگ کے اس اہم منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے پی ایس ڈی پی کے تحت وزارتِ منصوبہ بندی کے مکمل تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ گلگت بلتستان جیسے اہمیت کے حامل خطے میں بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی براہِ راست (لائیو) نشریات کے لیے مقامی براڈکاسٹنگ انفراسٹرکچر کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت وہاں او بی وینز اسلام آباد سے بھیجنا پڑتی ہیں، جس کے باعث نہ صرف مالی اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ شدید انتظامی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پی ٹی وی کے ماسٹر کنٹرول رومز کو جدید ترین ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا وقت کا تقاضا ہے تاکہ ہمارا قومی نشریاتی ادارہ عالمی معیار کے مطابق براڈکاسٹنگ کی سہولیات مہیا کر سکے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیلی وژن ہمارا عظیم قومی اثاثہ ہے اور وفاقی حکومت اس ادارے کی بحالی اور اسے جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی نے ہمیشہ قومی شناخت، ثقافتی اقدار اور قومی وحدت و یکجہتی کے فروغ میں تاریخی اور کلیدی کردار ادا کیا ہے، لہٰذا اس ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ملاقات کے اختتام پر پی ٹی وی کی مجموعی استعداد کار بڑھانے، براڈکاسٹنگ انفراسٹرکچر کی ڈرامائی بہتری اور قومی نشریاتی نظام کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی اور وزارتِ اطلاعات کے درمیان قریبی باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر کامل اتفاق کیا گیا۔