شام پر اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت: پاکستان سمیت 12 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ اعلامیہ

محمود احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت 12 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے شمال مغربی شام میں ابو الظہور فوجی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے شام کی خودمختاری و علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق، پاکستان، ترکیہ، الجزائر، انڈونیشیا، اردن، لبنان، ملائیشیا، موریطانیہ، فلسطین، قطر، سعودی عرب اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ نے شام کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کا یہ عمل خطے میں امن و استحکام کو تباہ کرنے، بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑانے اور شام میں انسانی بحران سے نمٹنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہا ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف فوری اور مضبوط موقف اپنائیں۔ تمام وزرائے خارجہ نے 1974ء کے معاہدے کے مکمل احترام اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کے فوری انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے شام کی سیاسی وحدت اور آزادی کا ہر قیمت پر تحفظ کرنے پر زور دیا۔

دفترِ خارجہ: پاکستان کا غزہ امن منصوبے اور ‘بورڈ آف پیس’ کے تحت پیش رفت کا خیرمقدم

محمود احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

پاکستان نے غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کی جانب ہونے والی مثبت اور اہم پیش رفت کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے ہفتہ کے روز جاری کردہ باضابطہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان غزہ امن منصوبے پر موثر عملدرآمد کے سلسلے میں ‘بورڈ آف پیس’ کے تحت ہونے والی پیش رفت کو ایک خوش آئند اور مثبت قدم سمجھتا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان اس خطے میں پائیدار امن کے لیے امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ سمیت تمام ثالثی کرنے والے ممالک کی مسلسل اور انتھک سفارتی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہتا ہے اور امید ظاہر کرتا ہے کہ یہ پیش رفت غزہ امن منصوبے کے تحت طے پانے والے تمام معاہدوں اور وعدوں پر مکمل عملدرآمد کی راہ ہموار کرے گی۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ بین الاقوامی کوششیں بین الاقوامی قانون، عالمی جواز اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے عین مطابق ایک قابلِ اعتماد اور مقررہ مدت پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے مظلوم فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے ناقابلِ تنسیخ حق کے حصول میں انتہائی معاون ثابت ہوں گی۔

بیان کے اختتام پر پاکستان کے دیرینہ اور اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ سیاسی عمل بالآخر 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک ایسی آزاد، خودمختار، جغرافیائی طور پر متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہونا چاہیے جس کا دارالحکومت ‘القدس الشریف’ ہو۔

مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسندوں کا قبضہ اور پرچم لہرانے کے اقدامات نا قابلِ برداشت؛8مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان

محمود احمد, JULY 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیز کارروائیوں بالخصوص اسرائیلی انتہا پسند وزراء کی قیادت میں آباد کاروں کے مسلسل داخلے اور وہاں خیمے نصب کرنے کے اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں پرچم لہرانا اور دیگر غیر قانونی اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے دراندازی اور تشدد کو ہوا دینے والے یہ اقدامات خطے میں انتہا پسندی کو مزید بڑھاوا دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر قائم ہونے والے منصفانہ و دیرپا امن کی راہ میں شدید رکاوٹ ہیں۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس یا وہاں کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی بھی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔ وزرائے خارجہ نے مقبوضہ شہر کے تاریخی، قانونی اور آبادیاتی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اردن کی ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کی اہمیت پر زور دیا۔

مشترکہ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ کا پورا 144 دونم کا احاطہ صرف اور صرف مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے اور اس کا تمام تر انتظام و انصرام اردن کی وزارتِ اوقاف کے ماتحت محکمہ اوقاف کے پاس ہی رہے گا۔ وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو ان غیر قانونی اور شرپسندانہ اقدامات سے روکنے کے لیے فوری اور مؤثر کردار ادا کرے۔