

منصور احمد,September 06,2026
برلن / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء
یومِ دفاع و شہداءِ پاکستان کے عظیم قومی موقع پر جرمنی کے اہم ترین شہروں برلن اور ہیمبرگ میں دیارِ غیر میں مقیم پاکستانی برادری کی جانب سے پروقار اور پرجوش خصوص تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقاریب میں جرمنی بھر سے پاکستانی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور 6 ستمبر 1965ء کی معرکہ آرائی میں سرحدوں کی حفاظت کرنے والے افواجِ پاکستان کے جری شہداء اور غازیوں کو عقیدت کے پھول پیش کیے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، جرمنی کے دارالحکومت برلن میں مرکزی تقریب کا اہتمام پاکستان مسلم لیگ (ن) جرمنی کے جنرل سیکرٹری اور پی او ای ایف یورپ کے چیف آرگنائزر محمد انصر بٹ کی جانب سے کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے 6 ستمبر 1965ء کی تاریخی اور تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بھارتی جارحیت کے سامنے پاک افواج اور قوم کی بے مثال جرات اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کل بھی اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی ملک کے تمام ریاستی اداروں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔
دوسری جانب، جرمنی کے صنعتی شہر ہیمبرگ میں پاکستان جرمن سوسائٹی کے نائب صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی جرمنی کے سیکرٹری اطلاعات فرید شاہ نے ایک الگ باوقار تقریب کا انعقاد کیا۔ اپنے خطاب میں فرید شاہ نے 1965ء کی جنگ کو قومی تاریخ کا ایک سدا بہار اور سنہری باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معرکے نے قوم کے غیر متزلزل اتحاد کو ثابت کیا۔ انہوں نے عسکری و سیاسی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کیا۔
علاوہ ازیں، سینٹرل ملٹی کلچرل مسجد کے بانی صدر غضنفر الدین احمد کے زیراہتمام منعقدہ خصوصی تقریب میں شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے بالخصوص قرآنی خوانی اور دعائیں کی گئیں۔ غضنفر الدین احمد نے 1965ء کی جنگ کے دوران سابق صدر ایوب خان کے تاریخی قومی خطاب کا حوالہ دیا جس نے قوم میں دفاع کا بے مثال جذبہ بیدار کیا تھا۔ تقریب میں لاہور سے تعلق رکھنے والے معروف وی لاگر اور کالم نگار شاہ رخ محمود نے بھی شرکت کی اور 1965ء کے معرکے میں لاہور کے شہریوں کے تاریخی اور جری کردار کا احاطہ کیا۔
جرمنی میں منعقدہ ان تمام تقاریب کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ تارکینِ وطن اپنے دیس اور پاک سرزمین سے ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود جذباتی، سیاسی اور دفاعی طور پر پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
