

منصور احمد, August 31,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولت حاصل کرنے اور جیل سے بیرونِ ملک ٹیلی فونک رابطوں کی اجازت کے لیے دائر کی گئی اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستوں کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے نامور جج جسٹس محمد آصف نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا اہم فیصلہ جاری کیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق قیدیوں کو قانون اور جیل مینول کے مطابق ہی طبی و دیگر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں، جس کے تحت نجی ہسپتال منتقل کرنے کا کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کیا گیا۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ان تینوں قیدیوں نے اپنے وکلاء کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں، جن میں استدعا کی گئی تھی کہ انہیں علاج معالجے کے لیے جیل سے باہر کسی نجی ہسپتال منتقل کیا جائے اور بیرونِ ملک مقیم اپنے اہلخانہ یا متعلقہ افراد سے ٹیلی فون پر بات چیت کرنے کی خصوصی سہولت فراہم کی جائے۔ تاہم، عدالتِ عالیہ نے ان تمام استدعاؤں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے درخواستوں کو باقاعدہ ڈسمس (مسترد) کر دیا۔