عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا اڈیالہ جیل انتظامیہ کو قیدِ تنہائی ختم کرنے کا بڑا حکم

کاشف عباسی , September 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

اسلام آباد ہائیکورٹ کے محترم جسٹس خادم حسین سومرو نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات اور بنیادی حقوق سے متعلق دائر درخواستوں پر اہم اور تفصیلی فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو واضح حکم جاری کیا ہے کہ دونوں شخصیات کو کسی بھی صورت قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے اور آئین و قانون کے مطابق تمام قانونی و بنیادی حقوق اور انسانی سہولیات بلا تاخیر فراہم کی جائیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اڈیالہ جیل انتظامیہ کو باقاعدہ ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپس میں باقاعدہ ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے اپنے اہل خانہ، وکلاء اور عزیز و اقارب سے جیل قوانین کے مطابق تمام ملاقاتیں یقینی بنائی جائیں۔ اس کے علاوہ مطالعے کے لیے کتابیں، روزنامچے اور ٹیلی ویژن کی سہولت فوری طور پر بحال کرنے کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ عمران خان کو جیل احاطے میں روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ ایسی کھلی جگہ پر واک اور قدم زنی کی اجازت دی جائے جہاں معمول کا انسانی میل جول ممکن ہو، جبکہ ان سے ملنے والے تمام افراد کا باقاعدہ اندراج اور ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔

عمران خان کے لیگل کونسل خالد یوسف چوہدری نے عدالتی فیصلے کی تفصیلات ذرائع ابلاغ کو بتاتے ہوئے تصدیق کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے تحت سابق وزیراعظم کو بیرونِ ملک مقیم اپنے بیٹوں سے آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہنے کی اجازت مل گئی ہے۔ تاہم، عدالت عالیہ نے فیصلے میں ایک اہم مشروط شق بھی شامل کی ہے کہ اگر ان ٹیلی فونک یا ویڈیو کالز کو ریکارڈ کر کے بعد میں کسی بھی قسم کے سیاسی مقاصد یا مہم جوئی کے لیے استعمال کیا گیا تو جیل حکام کے پاس یہ سہولت واپس لینے کا قانونی اختیار ہو گا۔

ہائیکورٹ نے اپنے جامع فیصلے میں اس قانونی نقطے کو بھی نمایاں کیا ہے کہ اگر جیل انتظامیہ عمران خان یا بشریٰ بی بی کو قانون یا عدالت کے تحت حاصل کسی بھی ریلیف یا سہولت سے محروم کرتی ہے، تو انتظامیہ کو اس محرومی کی باقاعدہ تحریری وجوہات اور قانونی جواز فراہم کرنا ہوں گے۔ عدالت عالیہ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو پابند کیا ہے کہ وہ آئندہ 15 روز کے اندر ان تمام عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: نجی ہسپتال میں علاج کے لیے دائر اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستیں مسترد

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولت حاصل کرنے اور جیل سے بیرونِ ملک ٹیلی فونک رابطوں کی اجازت کے لیے دائر کی گئی اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستوں کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے نامور جج جسٹس محمد آصف نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا اہم فیصلہ جاری کیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق قیدیوں کو قانون اور جیل مینول کے مطابق ہی طبی و دیگر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں، جس کے تحت نجی ہسپتال منتقل کرنے کا کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کیا گیا۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ان تینوں قیدیوں نے اپنے وکلاء کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں، جن میں استدعا کی گئی تھی کہ انہیں علاج معالجے کے لیے جیل سے باہر کسی نجی ہسپتال منتقل کیا جائے اور بیرونِ ملک مقیم اپنے اہلخانہ یا متعلقہ افراد سے ٹیلی فون پر بات چیت کرنے کی خصوصی سہولت فراہم کی جائے۔ تاہم، عدالتِ عالیہ نے ان تمام استدعاؤں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے درخواستوں کو باقاعدہ ڈسمس (مسترد) کر دیا۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان خان کی آن لائن پریس کانفرنس: والد سے رابطے پر پابندی اور صحت پر شدید تشویش کا اظہار

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے صاحبزادے سلیمان خان اور قاسم خان نے ایک بین الاقوامی آن لائن نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اُنھیں اپنے والد سے ملے ہوئے کئی برس بیت چکے ہیں جبکہ گذشتہ چھ ماہ سے اُن کی فون پر بھی کوئی بات نہیں کروائی گئی۔ آن لائن نیوز کانفرنس کے دوران عمران خان کے دونوں صاحبزادوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد اس وقت جن کٹھن اور سخت حالات سے گزر رہے ہیں وہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سلیمان خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے واضح احکامات جاری کیے جا چکے ہیں کہ عمران خان کی ان کے بچوں سے ٹیلی فون پر بات کروائی جائے لیکن اس کے باوجود حکام نے تاحال ان کے اس بنیادی حق کی اجازت نہیں دی اور مسلسل لعل و گوہر سے کام لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی حکام انہیں اپنے والد سے ملنے کے لیے ویزے جاری کرنے سے بھی مسلسل گریز کر رہے ہیں۔ نیوز کانفرنس کے دوران قاسم خان کا کہنا تھا کہ ان کے والد بے حد مضبوط اعصاب کے مالک شخص ہیں لیکن 73 سال کی عمر میں ان کے ساتھ جیل میں جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے اس کے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ قاسم خان نے مزید بتایا کہ ان کے والد گزشتہ تین برسوں سے عملاً قیدِ تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے سیاسی موقف اور نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان کے بیٹوں کی جانب سے یہ ہنگامی پریس کانفرنس ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق وزیرِ اعظم کو 20 اگست کی شب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے لیکن حکومت نے سکیورٹی خدشات کا عذر پیش کرتے ہوئے انہیں پمز منتقل کیا تھا اور یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ معائنے کے بعد وہ بالکل صحت مند پائے گئے ہیں۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے اس عمل کو عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے جبکہ دوسری جانب حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظرثانی درخواست جمع کروائی ہوئی ہے۔

بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کی پریس کانفرنس: عمران خان کی حالت اور جیل میں مبینہ سلوک پر اظہارِ تشویش

منصور احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بھائی سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے ایک پریس کانفرنس کے دوران آبدیدہ ہو گئیں اور دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے دوران عمران خان نے جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ نا روا اور غیر انسانی سلوک کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان بار بار اس بات پر زور دے رہے تھے کہ قوم کو بتایا جائے کہ انہیں شدید ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جیل انتظامیہ ان کی کوئی بات نہیں سن رہی۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان مشکلات بیان کرتے ہیں تو حکام کی جانب سے کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بھائی کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان پر ہونے والے مظالم پر خاموش نہیں رہا جائے گا۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے واضح کیا کہ انہوں نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کا بتایا تھا جس پر وہ خوش تھے، نیز انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ عمران خان شفا ہسپتال نہیں گئے تھے۔

بانی پی ٹی آئی کا پمز ہسپتال میں طبی معائنہ، ڈاکٹرز نے صحت مند قرار دے کر واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا: عطاء اللہ تارڑ

منصور احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کا ہسپتال میں تفصیلی طبی معائنہ کرایا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے انہیں مکمل طور پر صحت مند قرار دیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم “ایکس” (ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ 20 اور 21 اگست 2026ء کی درمیانی شب سخت اور مناسب سیکیورٹی انتظامات کے تحت بانی پی ٹی آئی کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ معائنے کے لیے ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن پر مشتمل مستند ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی شامل تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طبی معائنے اور علاج کے تمام تر مراحل کے دوران ان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان بھی موقع پر موجود رہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر اور راستے میں سیکیورٹی کی جو صورتحال پیدا کی گئی تھی، اسی پیشِ نظر بانی پی ٹی آئی کو پمز ہسپتال لے جایا گیا جہاں تمام تر ٹیسٹس اور معائنے میں وہ بالکل صحت مند پائے گئے۔ تمام عمل مکمل ہونے کے بعد 21 اگست کی صبح تقریباً 5 بجے انہیں واپس اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اعادہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو پہلے بھی تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر فراہم کی جاتی رہیں گی۔

عمران خان کی قیدِ تنہائی فوری ختم کر کے ہسپتال منتقل کیا جائے: فواد چوہدری کا مطالبہ

کاشف عباسی , August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی حالیہ میڈیکل رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد حکومت سے ان کی قیدِ تنہائی فوری ختم کرنے اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا زوردار مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ کے بعد یہ بات انتہائی ضروری ہو چکی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی سے نکال کر علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مقبول ترین لیڈر کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنا اور قیدِ تنہائی میں رکھنا شدید قابلِ مذمت ہے، لہٰذا طبی ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں کوئی تاخیر نہ کی جائے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کا طبی معائنہ کرنے والے معالجین نے ان کی صحت، بے چینی اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اہم سفارشات مرتب کی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیل کے احاطے اور ماحول میں نرمی لائی جائے، انہیں روزانہ کم از کم ایک گھنٹے کی واک کی اجازت دی جائے اور ان کی ذہنی مصروفیت کے لیے کتب، اخبارات، میگزینز اور ٹی وی کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ میڈیکل بورڈ نے اہلیہ اور اہلخانہ سے ملاقاتوں کے وقت اور دورانیے میں اضافے کی بھی خصوصی سفارش کی ہے تاکہ ان کی صحت کو معمول پر لایا جا سکے۔