حنا جاوید قتل کیس: قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا ایوان کو یقین دہانی

منصور احمد, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ قانون و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے راولپنڈی میں حنا جاوید کے وحشیانہ قتل کے واقعے پر قومی اسمبلی میں اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملزمان کو سخت ترین سزا دلا کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا اور حکومت اس کیس کی قانونی پیروی خود کرے گی۔

قومی اسمبلی میں تفصیلی بیان دیتے ہوئے وزیرِ قانون نے بتایا کہ مقتولہ حنا جاوید قومی اسمبلی میں فرائض انجام دیتی رہی ہیں، اس لیے اس دلخراش واقعے پر فوری ایکشن لیتے ہوئے پنجاب حکومت، ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) اور سی پی او راولپنڈی سے فوری رابطہ قائم کیا گیا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو بنیادی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جو فی الوقت تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے مزید بتایا کہ پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل کو خصوصی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جنہوں نے کیس کی شفاف اور مضبوط تفتیش کے لیے ایک مخصوص پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دی ہے جو معاملے کی خود نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اور ویمن کاکس کو وزارتِ قانون و انسانی حقوق کی جانب سے تمام تر مطلوبہ قانونی و انتظامی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ مظلوم خاندان کو بلا تاخیر انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

راولپنڈی میں حنا جاوید کے وحشیانہ قتل کا معاملہ قومی اسمبلی پہنچ گیا: سپیکر نے کیس قائمہ کمیٹی اور ویمن کاکس کے سپرد کر دیا

منصور احمد, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

راولپنڈی میں انتہائی بے دردی سے قتل کی جانے والی خاتون حنا جاوید کے وحشیانہ قتل کے معاملے پر قومی اسمبلی میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اس دلخراش واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کیس کو فوری طور پر قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اور ویمن پارلیمانی کاکس کے حوالے کر دیا ہے، جبکہ ایوان میں مرحولہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق نے بتایا کہ اگرچہ یہ صوبائی دائرہ اختیار کا معاملہ ہے، لیکن حنا جاوید نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی جانب سے دسمبر 2019ء سے جون 2026ء تک قومی اسمبلی میں اٹیچمنٹ پر اپنے فرائض سرانجام دیے تھے اور پروگرام کے اختتام پر واپس گئی تھیں۔ انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس وحشیانہ انداز میں یہ قتل اور تشدد کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، وہ پورے معاشرے اور ایوان کے لیے باعثِ پریشانی ہیں۔

سپیکر نے ویمن پارلیمانی کاکس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ویمن کاکس اور قائمہ کمیٹی برائے داخلہ باہمی کوآرڈینیشن کو بہتر بنا کر اس کیس پر پیش رفت کریں، اور واضح کیا کہ قومی اسمبلی اس معاملے میں ہر ممکن مدد اور معاونت فراہم کرے گی۔ بعد ازاں سپیکر کی ہدایت پر رکن قومی اسمبلی سائرہ افضل تارڑ نے ایوان میں مقتولہ حنا جاوید کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کروائی۔