ہم قائد اعظم کے پاکستان میں آئے تھے، بھٹو کے پاکستان میں دھکیل دیا گیا: کراچی میں خالد مقبول صدیقی کا پرزور خطاب

محمود احمد, September 12,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد ہجرت کر کے بابائے قوم قائد اعظم کے تصور کردہ پاکستان میں آئے تھے، تاہم بدقسمتی سے انہیں بھٹو کے نفاذ کردہ پاکستان میں دھکیل دیا گیا۔

ہفتے کے روز کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ ہماری دھرتی ماں صرف اور صرف پاکستان ہے، جبکہ صوبے محض اور محض انتظامی یونٹس کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ صوبوں کی انتظامی تقسیم کو غداری قرار دینا خود سب سے بڑی غداری کے مترادف ہے، اور آج ملک کی دیگر تمام سیاسی جماعتیں بھی ان کے اس مؤقف سے آواز ملا رہی ہیں۔

خالد مقبول صدیقی نے سندھ کے شہری علاقوں کے معاشی و سیاسی استحصال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) کے بنیادی منشور میں جن انتظامی صوبوں کا تذکرہ کیا گیا تھا، آج وہ پکار پورے ملک کی مشترکہ آواز بن چکی ہے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے اولین مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں آبادی کے تناسب سے نئے انتظامی صوبے تشکیل دیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے لیے الگ صوبہ قائم کر دیا جائے، مقامی حکومتوں سے متعلق آئین کا آرٹیکل 140 اے ایم کیو ایم خود نافذ کر کے دکھا دے گی۔ انہوں نے گلہ کیا کہ سندھ اسمبلی میں انہیں ‘سندھو دیش’ کے خلاف باقاعدہ قرارداد پیش نہیں کرنے دی گئی، حالانکہ موجودہ دور میں نئے انتظامی صوبوں کی ضرورت کو ثابت کرنے کے لیے کسی لمبی اور پیچیدہ دلیل کی حاجت نہیں رہی۔

شفاف مردم شماری کے مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ریاست پہلے شفاف مردم شماری مکمل کروائے اور اس کی روشنی میں ایمانداری پر مبنی ووٹر فہرستیں تیار کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج اکیلے کراچی کی حقیقی آبادی 2 کروڑ سے کہیں زائد ہے، اور طنزاً کہا کہ جو ریاست درست مردم شماری نہ کرا سکے وہ کم از کم مردم شناسی کا عمل ہی مکمل کر لے۔

وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے امریکی کانگریسی وفد کی اعلیٰ سطحی ملاقات: سائبر سیکیورٹی، سٹیم اور تعلیمی تبادلوں کے فروغ کے لیے وسیع تر تعاون کا عزم

کاشف عباسی , JULY 27,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی اور عسکری و ٹیکنالوجی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی سمت ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکہ کی ریاست واشنگٹن کے نمائندے کانگریس مین مائیکل جیمز بامگارٹنر اور ریاست مونٹانا سے منتخب ہونے والے سابق امریکی وزیرِ داخلہ و کانگریس مین ریان کیتھ زنکے سے ایک اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم وجیہہ قمر، چیئرمین نیوٹیک قمرالاسلام راجہ، سیکرٹری تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سائبر سیکیورٹی، جدید تکنیکی مہارتوں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی اور نتیجہ خیز تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں درپیش ڈیجیٹل سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے سائبر سیکیورٹی کے خصوصی کورسز اور سرٹیفیکیشن پروگرامز فوری طور پر تیار کیے جائیں گے۔ دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے مابین جدید نصاب کی تیاری، مشترکہ تحقیق، فیکلٹی کے تبادلے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و فن ٹیک کے شعبوں میں قریبی علمی شراکت داری استوار کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی کانگریسی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمانی اور تعلیمی وفود کی اس طرح کی باقاعدہ آمد سے پاک امریکہ دیرینہ اور متعدد الجہتی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ حکومتِ پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اور کلیدی ستون ہیں اور دونوں ممالک کے روابط مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، صحت، زراعت اور تعلیم جیسے باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں میں تعاو ن کی نئی راہداریاں کھولی جا سکیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے فل برائٹ پروگرام اور دیگر تعلیمی تبادلے کے پروگراموں کے اثرات کو سراہتے ہوئے بتایا کہ اب تک 44 ہزار سے زائد پاکستانی ان میرٹ پر مبنی پروگراموں سے مستفید ہو چکے ہیں، جو انسانی وسائل کی تعمیر میں ایک عظیم سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے تمام صوبوں سے ان توانائی، پانی، ماحولیات، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے حیاتیاتی موضوعات پر ریسرچ میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کی تاکہ مشترکہ چیلنجز سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔

اس اہم ملاقات کے دوران بین الاقوامی امیگریشن، ویزا پالیسیوں اور حساس ٹیکنالوجیز کے تحفظ کے موجودہ تناظر پر بھی تعمیری گفتگو ہوئی، جس پر وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ امریکی جامعات اور انڈسٹریز آج بھی عالمی سطح پر ‘سٹیم’ صلاحیتوں کی معترف ہیں اور پاکستان آئی ٹی، فن ٹیک، اور ایگری ٹیک کے میدان میں واشنگٹن کا ایک انتھائی قابلِ اعتماد، باصلاحیت اور متحرک شراکت دار بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ دونوں فریقین نے قلیل مدتی تحقیقی تبادلوں، ورچوئل لیبارٹریز، دوہری ڈگری پروگرامز اور اساتذہ کی تربیت کے لیے مشترکہ مراکز کے قیام کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر حتمی اتفاق کیا کہ تعلیم، تحقیقی ویزہ سہولیات اور تکنیکی جدت طرازی ہی وہ بنیادی ذرائع ہیں جو دونوں اقوام کے درمیان اعتماد، افہام و تفہیم اور معاشی خوشحالی کو طویل عرصے تک یقینی بنا سکتے ہیں، جبکہ وفاقی وزارتِ تعلیم نے اس اہم شراکت داری کو مزید نئی بلندیوں تک لے جانے کے اپنے اٹل عزم کا اعادہ کیا۔