مشرقِ وسطیٰ میں عسکری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں


Brent oil prices rise

محمود احمد, September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کی انتہائی حساس توانائی تنصیبات پر یمن کے حوثی جنگجوؤں کے تباہ کن ڈرون و میزائل حملوں اور خلیج فارس میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سنگین ‘اقتصادی اور عسکری جنگ’ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں متعدد ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس شدید جیو پولیٹیکل بحران کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی سپلائی معطل ہونے کے خطرات گہرے ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق منگل کو تجارتی سیشن کے دوران برینٹ خام تیل کے بین الاقوامی سودے 1.39 ڈالر یعنی 1.43 فیصد کے نمایاں اضافے کے بعد 98.39 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہوتے رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں بھی 2.25 ڈالر یعنی 2.46 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا اور یہ 93.73 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

اس سے قبل منڈی میں خرید و فروخت کے دوران برینٹ خام تیل کی اعلیٰ ترین قیمت 99.46 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی، جو کہ 24 جولائی کے بعد سے اب تک کا بلند ترین ریکارڈ ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت دورانِ تجارت بڑھ کر 94.73 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جو 8 جون کے بعد کی بلند ترین قیمت شمار کی جا رہی ہے۔

عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اچانک اس بڑے اور غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ سعودی عرب میں حوثیوں کی طرف سے حال ہی میں کیے گئے مربوط عسکری حملے ہیں۔ سعودی حکومت کے باضابطہ بیانات کے مطابق ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں بنیادی انفراسٹرکچر اور اہم توانائی کی تنصیبات ان حملوں کی زد میں آئی ہیں، جن میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے باعث خطے کے کئی پیدواری یونٹس اور توانائی کی تنصیبات کی سرگرمیاں وقتی طور پر معطل یا متاثر ہو چکی ہیں۔

دوسری طرف ایران اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی باہمی عسکری و معاشی محاذ آرائی نے عالمی تیل کی مارکیٹ کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ تہران کی طرف سے امریکی بحری ناکہ بندی اور کارروائیوں کے جواب میں شدید ردِعمل دینے اور خلیج فارس میں ‘ممنوعہ بحری زون’ قائم کرنے کی دھمکی سے عالمی سرمایہ کاروں میں تیل اور گیس کی عالمی ترسیل بند ہونے کا شدید خوف پیدا ہو چکا ہے۔

عالمی ایندھن کے اعداد و شمار کے مطابق، آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس سمندری راستے سے اِس وقت آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت معمول کے حجم سے کافی کم ہو چکی ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی کل فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبنائے ہرمز کے بحری راستے سے ہو کر دنیا بھر کے ممالک تک پہنچتا ہے۔ پینٹاگون کی سینٹرل کمانڈ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان ایک دوسرے کے تیل بردار جہازوں اور عسکری ہدف پر حملوں نے حالات کو بے حد سنجیدہ بنا دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا خبردار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں یہ عسکری ٹکراؤ اور کشیدگی طویل ہوئی تو خام تیل کی فی بیرل قیمت بہت جلد 100 ڈالر کا ہدف عبور کر جائے گی، جس سے عالمی معیشت اور افراطِ زر پر شدید دباؤ آئے گا۔

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں خلل سے عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور روزگار پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے: عالمی بینک کی اہم رپورٹ

محمود احمد, September 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ مسلح تنازعہ یا جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت میں خلل کے اثرات صرف خلیجِ فارس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بڑھنے، پیداواری لاگت میں اضافے اور عالمی طلب میں شدید کمی کا خدشہ ہے۔

عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ جامع رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز خلیجِ فارس کو بحرِ ہند سے ملانے والی دنیا کی سب سے اہم اور حکمتِ عملی کے حامل آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا بھر کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کے سب سے بڑے حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چینز، بین الاقوامی تجارت، صنعت اور عالمی ملازمتوں کے شعبے کو تباہ کن حد تک متاثر کر سکتی ہے۔

دنیا کے 80 ممالک کے اعداد و شمار پر مبنی ایک حالیہ تجزیے کے مطابق اس جغرافیائی بحران کے نتیجے میں 61 ممالک میں 90 فیصد سے زیادہ محنت کشوں اور کارکنوں کی حقیقی آمدنی میں واضح کمی واقع ہوگی۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کمبوڈیا، یوکرین اور ویتنام ان ممالک میں شامل ہیں جہاں کے مزدوروں اور صنعتوں کو سب سے زیادہ مالی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

اس کے برعکس تیل برآمد کرنے والے ممالک جن میں نائجیریا، انگولا، آسٹریلیا، برونائی دارالسلام، قازقستان، ناروے اور روس شامل ہیں، اس بحران کے اثرات سے نسبتاً محفوظ رہیں گے کیونکہ ان ممالک میں 20 فیصد سے بھی کم کارکنوں کی آمدنی متاثر ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

عالمی بینک کے تجزیے کے مطابق توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے ٹیکسٹائل، زراعت اور پلاسٹک کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جبکہ خام تیل نکالنے کا شعبہ ان چند شعبوں میں شامل ہے جو بلند عالمی قیمتوں سے مستفید ہو سکتا ہے۔ چین کی الیکٹرانکس انڈسٹری اور زراعت کا شعبہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ کیمیائی کھادوں، زرعی ادویات، ایندھن اور نقل و حمل کی لاگت میں براہِ راست اضافہ ہو جائے گا۔

عالمی بینک نے دنیا بھر کی حکومتوں کو تجویز دی ہے کہ وہ مزدوروں کے روزگار کو بچانے کے لیے فنی تربیت اور دوبارہ مہارت حاصل کرنے کے پروگرامز شروع کریں، جبکہ خوراک درآمد کرنے والے کم آمدنی والے ممالک کو توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی صورت میں فوری طور پر سبسڈی، نقد امداد اور سماجی تحفظ کے پروگرامز فعال کرنے کی تیاری رکھنی چاہیے۔

حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان، عالمی منڈی میں خام تیل سستا جبکہ سونا مہنگا

کاشف عباسی , August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

حکومتِ پاکستان نے عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈالتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 77 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 47 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 20 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کے نئے نرخ 390 روپے 42 پیسے فی لیٹر مقرر کر دیے گئے ہیں۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا اور یہ ایک روز کے لیے طے کی گئی ہیں۔

دوسری جانب عالمی کموڈٹی مارکیٹ میں پیر کے روز ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان رہا، جہاں امریکی خام تیل کے ستمبر کی ترسیل کے معاہدے 0.62 ڈالر کی کمی کے ساتھ 81.78 ڈالر فی بیرل اور برینٹ کروڈ کے اکتوبر کے معاہدے 0.17 ڈالر کی کمی کے بعد 88.35 ڈالر فی بیرل پر طے پائے۔

اس کے برعکس عالمی منڈی میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔ سونے کی فی اونس قیمت 16.20 ڈالر کے اضافے سے 4,453.50 ڈالر جبکہ چاندی کی قیمت 0.68 ڈالر کے اضافے کے ساتھ 65.79 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی۔ زرعی اجناس کی بات کی جائے تو گندم کی قیمت میں 1.50 ڈالر فی بشل کمی ریکارڈ کی گئی اور اس کا سودا 688 ڈالر فی بشل پر ہوا، جبکہ مکئی کے دسمبر کے معاہدے 1.25 ڈالر کے اضافے کے ساتھ 484.50 ڈالر فی بشل پر بند ہوئے۔