اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا بڑا بیان، امن فیصلوں کی میز پر خواتین کی موجودگی ناگزیر قرار

محمود احمد june 18,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان نے خواتین کو امن کے قیام کے لیے ایک بنیادی اور اہم فریق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی فعال شمولیت کے بغیر قائم ہونے والا کوئی بھی امن کمزور بنیادوں پر استوار ہوتا ہے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز نیویارک سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سطحی سفارتی تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل (سیکیورٹی کونسل) کے کھلے مباحثے برائے ”خواتین، امن اور سلامتی“ میں قومی بیان دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پائیدار امن کے لیے خواتین کی دانش، قیادت اور عملی تجربات ناگزیر ہیں اور ان کی جگہ فیصلہ سازی کے عمل کے حاشیوں پر نہیں بلکہ اس مرکزی میز پر ہونی چاہیے جہاں دنیا کے اہم ترین فیصلے کیے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ صرف انصاف یا مساوات کا مسئلہ نہیں بلکہ مؤثریت کا سوال بھی ہے کیونکہ جن امن معاہدوں میں خواتین شامل ہوتی ہیں وہ عموماً کمیونٹیز کی ضروریات کا بہتر احاطہ کرتے ہیں اور زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں، انہوں نے اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ خواتین، امن اور سلامتی کا ایجنڈا سلامتی کونسل کے سب سے انقلابی وعدوں میں سے ایک ہونے کے باوجود تاحال سب سے نامکمل وعدوں میں شمار ہوتا ہے جس کے باعث خواتین آج بھی تنازعات، غیر ملکی قبضے، غربت اور جنسی تشدد کے سنگین نتائج بھگت رہی ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اس اہم ایجنڈے کے فروغ کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی خواتین نے سفارت کاری، سیاست، عوامی خدمت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی اور خاص طور پر اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا لوہا منوایا ہے، پاکستان کے مستقل مندوب نے اس عالمی ایجنڈے کی کامیابی کے لیے چند کلیدی ترجیحات بھی دنیا کے سامنے رکھیں جن میں اقوامِ متحدہ اور علاقائی تنظیموں کی ثالثی ٹیموں اور مذاکراتی وفود میں خواتین کی منظم شمولیت کو یقینی بنانا شامل ہے، انہوں نے سیکیورٹی کونسل پر زور دیا کہ وہ خواتین امن سازوں، انسانی حقوق کی کارکنان اور خاتون صحافیوں کو آن لائن ہراسانی، دھمکیوں اور تشدد سے بچانے کے لیے قبل از وقت انتباہی نظام جیسے مؤثر اقدامات کرے، انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ خواتین کی سیاسی و سماجی شرکت کے لیے مستقل اور لچکدار فنڈز فراہم کریں اور تعمیرِ نو کے منصوبوں میں خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف تک رسائی کو اولیت دیں، اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اگر دنیا حقیقی معنوں میں پائیدار امن چاہتی ہے تو خواتین کو ابتدا ہی سے تمام فیصلہ سازی کے عمل کا مستقل حصہ بنانا ہو گا کیونکہ وہ خاندانوں اور آنے والی نسلوں کے خدشات کو ان کمروں تک لے کر آتی ہیں جہاں اکثر طاقت کی سیاست غالب ہوتی ہے۔