خیبر پختونخوا میں ‘عزمِ استحکام’ وژن کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: لکی مروت میں متعدد خوارجی ہلاک، ٹھکانے تباہ

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز نے قومی وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت انتہائی موثر اور کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے متعدد دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا اور ان کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق لکی مروت کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی ان ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے خفیہ اور مضبوط ٹھکانے تباہ کر دیے، جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہوئے۔ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے خوارجیوں کے تحویل سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام تر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران اس اہم بات کو ہر ممکن حد تک یقینی بنایا جا رہا ہے کہ مقامی شہری آبادی اور عوام کے جان و مال کا مکمل تحفظ رہے اور انہیں کسی بھی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز خیبر پختونخوا میں پائیدار امن و استحکام کے قیام، عوام کے تحفظ اور ملک سے دہشت گردی کے ناطق اور مکمل خاتمے تک اپنی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گی۔

جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آور کا سر برآمد؛ پولیس اور ریسکیو 1122 کی جانب سے ایمرجنسی آپریشن جاری، علاقہ ناکابندی کے بعد سیل،

منصور احمد, August 02,2026

سوات (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کے قریب ایک شدید اور زور دار دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں جبکہ کئی ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی اطلاعات اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے وقت پولیس اسٹیشن کے قریب مقامی نوجوانوں کا امن و امان کے حوالے سے ‘امن پاسون’ کا احتجاجی مظاہرہ جاری تھا، جس کے باعث موقع پر شہریوں، مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اچانک ہونے والے اس خوفناک دھماکے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس اور بھگدڑ مچ گئی۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات نے واقعے کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات اور شواہد کی روشنی میں دھماکہ مبینہ طور پر خودکش حملہ معلوم ہوتا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک انسانی سر بھی برآمد ہوا ہے، جو ممکنہ طور پر خودکش حملہ آور کا ہو سکتا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور کرائم سین انویسٹی گیشن ٹیموں نے فرانزک شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے اور واقعے کی تمام تر پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی میڈیکل ٹیمیں اور متعدد ایمبولینسز فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دی گئیں۔ امدادی اہلکاروں نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے فوری طور پر قریبی تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اور سیدو شریف ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر 10 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ حتمی جانی و مالی نقصانات کا اندازہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد لگایا جائے گا۔

واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سنگین ترین دستوں نے کبل اور اس کے گردونواح کے تمام راستوں کو سیل کر کے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

153 کلومیٹر طویل چترال-بونی-مستوج-شندور (این-140) شاہراہ کے چاروں پیکیجز دسمبر 2026ء تک مکمل کرنے کا نیا ہدف مقرر؛ منصوبے کے لیے مالی سال 2026-27 میں 4.2 ارب روپے درکار

کاشف عباسی , JULY 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے درمیان مواصلاتی روابط اور سیاحت کو اہم فروغ دینے والی 153 کلومیٹر طویل چترال-بونی-مستوج-شندور شاہراہ (قومی شاہراہ N-140) کے تمام چاروں تعمیراتی پیکیجز کو دسمبر 2026ء تک مکمل کرنے کا نیا ہدف مقرر کر دیا گیا ہے۔ ‘ویلتھ پاکستان’ کو دستیاب ہونے والی اہم سرکاری دستاویزات کے مطابق، منصوبے کی بر وقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مالی سال 2026-27 کے لیے مزید 4 ارب 20 کروڑ (4.2 ارب) روپے کی فنڈنگ درکار ہوگی۔ یاد رہے کہ مئی 2020ء میں اس سڑک کو وفاقی تحویل میں لے کر قومی شاہراہ این-140 کا درجہ دیا گیا تھا، جس کے بعد اس اہم شاہراہ کو چار مختلف تعمیراتی پیکیجز میں تقسیم کر کے باقاعدہ کام شروع کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق، اب تک اس بڑے ترقیاتی منصوبے پر مجموعی طور پر 6 ارب 59 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران 1.5 ارب روپے مختص کیے گئے تھے اور اسی سال 5.5 ارب روپے کی اضافی ضرورت بھی پیش آئی تھی۔

منصوبے کی انتظامی اور جسمانی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے تو ضلع لوئر چترال میں پریت سے بونی تک کا پیکیج 1 (38.965 کلومیٹر) چاروں حصوں میں سب سے آگے ہے، جس پر اب تک 47.54 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ نومبر 2021ء میں شروع ہونے والے اس حصے کی لاگت 2.67 ارب سے بڑھا کر 2.74 ارب روپے کر دی گئی ہے اور اس کا ہدف بھی اب دسمبر 2026ء ہے۔ اسی ضلع میں واقع پیکیج 2 (پریت تا بونی، 39.723 کلومیٹر) پر 34.77 فیصد کام مکمل ہوا ہے اور اس کی تعدیل شدہ لاگت 2.81 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ دونوں پیکیجز کی ابتدائی تکمیل کی تاریخ نومبر 2023ء تھی، جسے فنڈز اور انتظامی توازن کی خاطر بڑھایا گیا ہے۔

ضلع اپر چترال کے پیکیجز کا احوال بھی دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے۔ پیکیج 3 (بونی تا شیداس، 36.14 کلومیٹر) پر نومبر 2021ء سے جاری کام میں 38.16 فیصد جسمانی پیش رفت حاصل کی جا چکی ہے اور اس کی لاگت 2.61 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ آخری اور چوتھا پیکیج (شیداس تا شندور، 37.782 کلومیٹر) اگست 2022ء میں شروع ہوا تھا، جس پر اب تک 29.78 فیصد کام ہوا ہے اور اس کی لاگت 2.93 ارب روپے طے کی گئی ہے۔ شاہراہ این-140 کی دسمبر 2026ء تک حتمی تکمیل سے ناصرف چترال اور شندور کے دشوار گزار علاقوں میں سفر آسان اور محفوظ ہوگا بلکہ خطے میں سیاحت اور مقامی معیشت کو نئی جلا ملے گی۔