شاہراہوں پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا نفاذ: ایکسل لوڈ کی خلاف ورزی پر فیکٹریوں کو جرمانے اور قوانین میں ایک ہفتے میں ترمیم کا حکم

منصور احمد, August 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے ملک بھر میں ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے حائل تمام قانونی اور آپریشنل رکاوٹیں دور کرنے کی غرض سے این ایچ اے (نیشنل ہائی وے اتھارٹی) کے قانونی فریم ورک میں ایک ہفتے کے اندر ضروری ترامیم لانے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اسلام آباد میں ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی شاہراہوں اور موٹرویز کو زیادہ وزن لادنے کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے بچانے کے لیے فیکٹریوں پر بھاری جرمانوں کا نفاذ کیا جائے گا، جبکہ جدید ترین کیمروں اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے مکمل خودکار (آٹومیٹڈ) نظام نافذ کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں وفاقی سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے، آئی جی موٹروے پولیس، ڈی جی این ایل سی اور ڈی جی ایف ڈبلیو او سمیت تمام متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور روڈ انفراسٹرکچر کی تحفظ سے متعلق بریفنگ پیش کی۔

وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے واضح کیا کہ ٹرکوں پر حد سے زیادہ سامان اور وزن لادنے کا سبب بننے والی صنعتی فیکٹریوں کی باقاعدہ نشاندہی کر کے اب ان پر بھی سخت قانونی کارروائی اور جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ انہوں نے ٹرانسپورٹرز کو گاڑیوں کے باڈی سٹرکچر پر واضح رہنمائی فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرکوں اور مال بردار گاڑیوں پر ایسے غیر ضروری و بھاری آرائشی سامان کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے جو گاڑی کا بنیادی وزن بڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ملک بھر کے تمام وے سٹیشنز کو 100 فیصد خودکار بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام مال بردار گاڑیوں کا ان کاٹا پوائنٹس سے گزرنا لازمی ہوگا تاکہ گاڑیوں کی قطاروں اور ٹرانسپورٹرز کے وقت کے ضیاع کو روکا جا سکے، جبکہ موٹرویز کی طرز پر جی ٹی روڈز پر بھی نئے جدید وے سٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے کراچی پورٹ پر این ایچ اے، این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے اور خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور کیمروں کے ذریعے ٹریکنگ کا نظام بنانے کا حکم دیا۔ بریفنگ میں حکام نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد کے قریب سنگجانی کے مقام پر بین الاقوامی معیار کا جدید ماڈل وے اسٹیشن جلد مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ گزشتہ 6 ماہ میں ایکسل لوڈ کی 30 ہزار سے زائد سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں جن کے باعث قومی سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو اربوں روپے کا شدید نقصان پہنچا۔ عبدالعلیم خان نے ہدایت کی کہ ہر منصوبہ آئندہ 20 سال کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنایا جائے اور اعلان کیا کہ وہ ایکسل لوڈ رجیم کے عملی نفاذ کا خود معائنہ کرنے کے لیے موٹرویز کے 10 مختلف پوائنٹس کا سرپرائز ہنگامی دورہ کریں گے۔

گڈز ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل اور ایکسل لوڈ پالیسی پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا اہم بیان

منصور احمد, August 17,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے گڈز ٹرانسپورٹرز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے ہر صورت میں پورے کیے جائیں گے اور موٹروے پولیس کی جانب سے کسی بھی گاڑی کا ناجائز چالان نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کی جانب سے مذاکرات کی کامیابی کی خوشی میں اپنے اعزاز میں دیے گئے ایک پروقار استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر کا ٹرانسپورٹرز کیمپ پہنچنے پر والہانہ استقبال کیا گیا، نعرے بازی کی گئی اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ اس موقع پر گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے وفاقی وزیر کو روایتی سندھی اجرک پہنائی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز ایکسل لوڈ پالیسی کی خلاف ورزی نہ کریں کیونکہ یہ ان کے اپنے مفاد میں ہے، مقررہ حد سے زیادہ وزن لادنے سے گاڑیوں اور سڑکوں دونوں کا نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں اس معاملے کے حل کے لیے قائم کمیٹی کا چیئرمین بنایا تھا، اور مسلسل نو روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد مسائل کو باہمی رضامندی سے حل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاہراہوں پر واقع “ویٹ سٹیشنز” کے حوالے سے ٹرانسپورٹرز کی شکایات کا فوری خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ موٹروے پولیس کے ذریعے ڈرائیورز کے لائسنس کے اجرا کا بھی مناسب بندوبست کیا جا رہا ہے۔ سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے اور آئی جی موٹرویز کو شاہراہوں کا باقاعدگی سے دورہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ قومی شاہراہوں اور موٹرویز کو عوام اور ٹرانسپورٹرز کے لیے زیادہ دوستانہ بنایا جا سکے۔

تقریب کے اختتام پر گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے مطالبات کی منظوری پر وفاقی حکومت اور عبدالعلیم خان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر اویس چوہدری ایڈووکیٹ، امداد حسین نقوی، چوہدری قمر الزمان گل، اظہر سراج، رؤف خان بالا، ملک شیر خان اور ملک حاجی فرید سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

سندھ میں شاہراہوں اور موٹرویز کی بہتری کے لیے 49 ارب 30 کروڑ روپے مختص: حیدرآباد سکھر موٹروے اور این-5 کی بحالی ترجیحات میں شامل

محمود احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

سندھ میں قومی شاہراہوں اور موٹرویز کے بنیادی ڈھانچے کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے، تجارتی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور سفر کو محفوظ بنانے کے لیے رواں مالی سال کے دوران 49 ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے کے بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ ان فنڈز کی مدد سے حیدرآباد سکھر موٹروے اور سیلاب سے شدید متاثر ہونے والی اہم قومی شاہراہ این-5 کی تعمیر و بحالی سمیت متعدد اہم ترین مواصلاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری رکھا جائے گا۔

سندھ کے مواصلاتی انفراسٹرکچر کے حوالے سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی 2026-27) کے سرکاری دستاویزات سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے زیرِ انتظام سندھ میں موٹرویز اور قومی شاہراہوں کے کل 9 بڑے اور اہم ترین منصوبے شامل ہیں، جن کی مجموعی منظور شدہ پی سی-ون لاگت 594 ارب 97 کروڑ 70 لاکھ روپے بنتی ہے۔ ان تمام منصوبوں پر جون 2026 تک مجموعی طور پر 122 ارب 50 کروڑ 80 لاکھ روپے کی رقوم خرچ کی جا چکی تھیں، جبکہ یکم جولائی 2026 کے بعد باقی ماندہ مالی ضروریات کا تخمینہ 472 ارب 46 کروڑ 90 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ رواں مالی سال 2026-27 کے لیے مختص کیے گئے 49 ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے میں 8 ارب 5 کروڑ 50 لاکھ روپے کے مقامی وسائل شامل ہیں، جبکہ 41 ارب 25 کروڑ روپے کی رقم غیر ملکی معاونت پر مشتمل ہے۔

دستاویزات کے مطابق منصوبوں میں سب سے بڑی اور اہم رقم، یعنی 30 ارب روپے، 306 کلومیٹر طویل حیدرآباد۔سکھر موٹروے کی تعمیر کے لیے مختص کی گئی ہے۔ چھ لین پر مشتمل یہ جدید اور باڑ سے محفوظ موٹروے بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (BOT) کی بنیاد پر تعمیر کرنے کا عظیم الشان منصوبہ ہے جس کی مجموعی منظور شدہ لاگت 363 ارب 70 کروڑ روپے ہے، اور اس کی باقی ماندہ مالی ضرورت 363 ارب 69 کروڑ 10 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ اس منصوبے کے لیے رواں مالی سال کے 30 ارب روپے میں سے 2 ارب روپے مقامی ذرائع اور 28 ارب روپے غیر ملکی مالی معاونت سے حاصل ہوں گے۔ حکام کے مطابق اس میگا پروجیکٹ کی خریدی و ٹینڈرنگ کا عمل نومبر 2026ء تک مکمل ہونے کی قوی توقع ہے۔

اس کے علاوہ سال 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والی قومی شاہراہ این-5 کے مورو سے رانی پور تک (کلومیٹر 318 سے 404 کے درمیانی) شمالی اور جنوبی دونوں حصوں کی تعمیرِ نو اور 32 متاثرہ پلوں کی مکمل بحالی کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 57 ارب 24 کروڑ 50 لاکھ روپے کی مجموعی لاگت والے اس منصوبے پر جون 2026 تک 13 ارب 22 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے تھے۔ اس منصوبے کے لاٹ-1 پر 23 فیصد اور لاٹ-2 پر 19 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے 30 جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے تحت انڈس ہائی وے (این-55) پر شکارپور سے راجن پور کے درمیان 221.9 کلومیٹر طویل اضافی کیریج وے کی تعمیر کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ 44 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے اس منصوبے پر اب تک 32 ارب روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں اور اس کے مختلف حصوں پر 21 فیصد سے 79 فیصد تک کام مکمل ہو چکا ہے، جسے اکتوبر 2026 تک مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب چین کے تعاون سے این-5 کے ہالا۔مورو سیکشن کے 66 کلومیٹر حصے کی بحالی کے لیے 2 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کی مجموعی لاگت 27 ارب 97 کروڑ روپے ہے اور اس کی خریداری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

اسی طرح سکھر میں این-5 اور این-65 کے سنگم پر چار لین فلائی اوور اور رابطہ سڑکوں کے لیے 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس پر 62 فیصد کام مکمل ہے اور اسے اپریل 2027 تک مکمل کیا جائے گا۔ کراچی۔لاہور موٹروے کے لیے زمین کے حصول، معاوضوں کی ادائیگی اور یوٹیلٹی سروسز کی منتقلی کی مد میں 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس پر 68 فیصد کام مکمل ہے اور دسمبر 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مزید برآں سکھر۔ملتان موٹروے پر بھونگ انٹرچینج کی 31 اگست 2026 تک مکمل تیاری کے لیے 10 کروڑ روپے، کیریک کوریڈور کے منصوبوں کے لیے 83 کروڑ روپے، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مجوزہ نئی کراچی۔حیدرآباد موٹروے کی کمرشل فزیبلٹی کی تیاری کے لیے 7 کروڑ 50 لاکھ روپے کے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔ ان تمام ترقیاتی اور مواصلاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے سندھ بھر میں نہ صرف سفری سہولیات اور تجارتی مال برداری کے نظام میں واضح بہتری آئے گی بلکہ ملک گیر سطح پر معاشی سرگرمیوں کو بھی زبردست فروغ حاصل ہوگا۔

153 کلومیٹر طویل چترال-بونی-مستوج-شندور (این-140) شاہراہ کے چاروں پیکیجز دسمبر 2026ء تک مکمل کرنے کا نیا ہدف مقرر؛ منصوبے کے لیے مالی سال 2026-27 میں 4.2 ارب روپے درکار

کاشف عباسی , JULY 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے درمیان مواصلاتی روابط اور سیاحت کو اہم فروغ دینے والی 153 کلومیٹر طویل چترال-بونی-مستوج-شندور شاہراہ (قومی شاہراہ N-140) کے تمام چاروں تعمیراتی پیکیجز کو دسمبر 2026ء تک مکمل کرنے کا نیا ہدف مقرر کر دیا گیا ہے۔ ‘ویلتھ پاکستان’ کو دستیاب ہونے والی اہم سرکاری دستاویزات کے مطابق، منصوبے کی بر وقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مالی سال 2026-27 کے لیے مزید 4 ارب 20 کروڑ (4.2 ارب) روپے کی فنڈنگ درکار ہوگی۔ یاد رہے کہ مئی 2020ء میں اس سڑک کو وفاقی تحویل میں لے کر قومی شاہراہ این-140 کا درجہ دیا گیا تھا، جس کے بعد اس اہم شاہراہ کو چار مختلف تعمیراتی پیکیجز میں تقسیم کر کے باقاعدہ کام شروع کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق، اب تک اس بڑے ترقیاتی منصوبے پر مجموعی طور پر 6 ارب 59 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران 1.5 ارب روپے مختص کیے گئے تھے اور اسی سال 5.5 ارب روپے کی اضافی ضرورت بھی پیش آئی تھی۔

منصوبے کی انتظامی اور جسمانی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے تو ضلع لوئر چترال میں پریت سے بونی تک کا پیکیج 1 (38.965 کلومیٹر) چاروں حصوں میں سب سے آگے ہے، جس پر اب تک 47.54 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ نومبر 2021ء میں شروع ہونے والے اس حصے کی لاگت 2.67 ارب سے بڑھا کر 2.74 ارب روپے کر دی گئی ہے اور اس کا ہدف بھی اب دسمبر 2026ء ہے۔ اسی ضلع میں واقع پیکیج 2 (پریت تا بونی، 39.723 کلومیٹر) پر 34.77 فیصد کام مکمل ہوا ہے اور اس کی تعدیل شدہ لاگت 2.81 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ دونوں پیکیجز کی ابتدائی تکمیل کی تاریخ نومبر 2023ء تھی، جسے فنڈز اور انتظامی توازن کی خاطر بڑھایا گیا ہے۔

ضلع اپر چترال کے پیکیجز کا احوال بھی دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے۔ پیکیج 3 (بونی تا شیداس، 36.14 کلومیٹر) پر نومبر 2021ء سے جاری کام میں 38.16 فیصد جسمانی پیش رفت حاصل کی جا چکی ہے اور اس کی لاگت 2.61 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ آخری اور چوتھا پیکیج (شیداس تا شندور، 37.782 کلومیٹر) اگست 2022ء میں شروع ہوا تھا، جس پر اب تک 29.78 فیصد کام ہوا ہے اور اس کی لاگت 2.93 ارب روپے طے کی گئی ہے۔ شاہراہ این-140 کی دسمبر 2026ء تک حتمی تکمیل سے ناصرف چترال اور شندور کے دشوار گزار علاقوں میں سفر آسان اور محفوظ ہوگا بلکہ خطے میں سیاحت اور مقامی معیشت کو نئی جلا ملے گی۔