شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں 10 دہشت گردوں کی ہلاکت: وزیراعظم شہباز شریف کا سیکیورٹی فورسز کو کامیاب آپریشن پر خراجِ تحسین

کاشف عباسی , August 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں فتنہ الخوارج کے خلاف انتہائی کامیاب اور مؤثر آپریشن کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کامیاب کارروائی کے دوران 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انسانیت کے دشمن اور ملک کا امن تباہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف یہ کامیاب آپریشن ہماری سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ تدبیر، جرات اور بہترین جنگی مہارت کا واضع مظہر ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کی اس لعنت کے خلاف جنگ میں اپنے باہمت اور جری سیکیورٹی اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے ملکِ پاکستان سے ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے پور خلوص اور عزم کے ساتھ کوشاں ہیں اور پاک دھرتی سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔

بلوچستان کے ضلع سوراب میں دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی: فتنۃ الہندوستان سے وابستہ 18 دہشت گرد ہلاک، 3 شہری بھی جاں بحق

منصور احمد, August 12,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

بلوچستان کے ضلع سوراب میں گاڑی میں دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کی تیاری کے دوران قبل از وقت دھماکے اور اس کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں ‘فتنۃ الہندوستان’ سے وابستہ مجموعی طور پر 18 دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ قبل از وقت ہونے والے اس دھماکے اور قریبی بارودی مواد کے پھٹنے سے علاقے کے 3 عام شہری بھی جاں بحق ہو گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، سوراب میں دہشت گرد گاڑی میں بم نصب کر رہے تھے کہ اچانک دھماکا ہو گیا، جس سے موقع پر ہی 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مشترکہ کلیئرنس اور سرچ آپریشن کا آغاز کیا۔ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگا کر سیکیورٹی فورسز نے موثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں مزید 10 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔

شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کے دو بہادر جوان بھی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود باقی ماندہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے اور کلیئرنس کے لیے سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔

ترجمان آئی ایس پی آر نے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری اور ‘عزمِ استحکام’ کے وژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی بھرپور کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گے۔

ردالفتنہ 3: واشک اور مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 12 دہشت گرد ہلاک؛ وزیراعظم کا خراجِ تحسین

کاشف عباسی , August 06,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 06 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ‘ردالفتنہ 3’ کے تحت بلوچستان کے اضلاع واشک اور مستونگ میں دہشت گردوں کے خلاف الگ الگ کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ان اہم آپریشنز کے دوران ‘فتنہ الہندوستان’ کے 12 خطرناک دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جرات کی ستائش کی۔

اپنے پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عزم ظاہر کیا کہ ‘عزم استحکام’ کے وژن کے تحت دہشت گردی کے خلاف ہماری سیکیورٹی فورسز شاندار اور نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور افواجِ پاکستان ملکِ عزیز سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل اور حتمی خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔

خیبر پختونخوا میں ‘عزمِ استحکام’ وژن کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: لکی مروت میں متعدد خوارجی ہلاک، ٹھکانے تباہ

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز نے قومی وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت انتہائی موثر اور کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے متعدد دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا اور ان کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق لکی مروت کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی ان ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے خفیہ اور مضبوط ٹھکانے تباہ کر دیے، جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہوئے۔ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے خوارجیوں کے تحویل سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام تر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران اس اہم بات کو ہر ممکن حد تک یقینی بنایا جا رہا ہے کہ مقامی شہری آبادی اور عوام کے جان و مال کا مکمل تحفظ رہے اور انہیں کسی بھی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز خیبر پختونخوا میں پائیدار امن و استحکام کے قیام، عوام کے تحفظ اور ملک سے دہشت گردی کے ناطق اور مکمل خاتمے تک اپنی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گی۔

خیبرپختونخوا میں ‘آپریشن گرج 11’ کے تحت سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری: متعدد خوارج ہلاک، ٹھکانے تباہ

منصور احمد, August 02,2026

باجوڑ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

خیبرپختونخوا میں گزشتہ دو ماہ کے دوران سیکیورٹی فورسز کی جانب سے “آپریشن گرج 11” کے تحت موثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مسلسل جاری ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران فورسز نے متعدد خوارج کو جہنم واصل کرتے ہوئے ان کے خفیہ ٹھکانے کامیابی سے تباہ کر دیے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد سہولت کاروں کو حراست میں لیا ہے جبکہ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ باجوڑ کے علاقے شاکرو میں کی گئی ایک مخصوص انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں کو انتہائی موثر اور نشانہ انداز میں تباہ کیا۔

باجوڑ میں کی جانے والی ان کامیاب پیش قدمیوں کے دوران متعدد خوارج کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے “آپریشن گرج 11” کے دوران خوارجین کے زیرِ استعمال دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور بموں کو بھی موقع پر ہی ناکارہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ زمینی افواج اور کواڈ کاپٹر ٹیکنالوجی کے امتزاج سے کی جانے والی ان سرجیکل کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کو مقامی آبادی سے فرار ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ تمام عملیات میں اس بات کو خاص طور پر یقینی بنایا جا رہا ہے کہ عام شہریوں کے جان و مال کا مکمل تحفظ رہے اور مقامی آبادی کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور خیبرپختونخوا میں دیرپا امن کے قیام تک یہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔