مظفرآباد انتخابی بے ضابطگیاں: سینیٹر شیری رحمان کا سخت ردعمل، الیکشن کمیشن سے فوری نوٹس کا مطالبہ

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوران مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 27 اور یونین کونسل بھیری میں ہونے والی مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور آزاد کشمیر کے الیکشن حکام سے فوری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے ایک باضابطہ اور اہم مذمتی بیان میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے روایتی اور مضبوط حلقوں میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر انتخابی عمل کو متنازع، غیر شفاف اور مجروح کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حلقہ ایل اے 27 میں سرکاری پولنگ عملہ بیلٹ پیپرز اور دیگر انتخابی مواد سمیت مسلم لیگ (ن) کے ایک مقامی حامی کے گھر سے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے، جو کہ انتخابی اصولوں کی شدید ترین خلاف ورزی ہے۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سرکاری انتخابی عملے کی کسی نجی گھر میں موجودگی اور وہاں بیلٹ پیپرز پر زبردستی ٹھپے لگانے کی موصول ہونے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کی جانے والی اس ننگی دھاندلی اور بے ضابطگیوں سے متعلق تمام تر ویڈیو شواہد اور ثبوت الیکشن حکام اور متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیے گئے ہیں تاکہ حقیقت سچائی کے ساتھ سامنے آ سکے۔

انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر انتظامی اور قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے عوام کا انتخابی عمل پر متزلزل ہوتا اعتماد بحال کرے۔ شیری رحمان کے مطابق اس نوعیت کے افسوسناک واقعات انتخابی شفافیت، الیکشن کی غیر جانبداری اور تمام متعلقہ اداروں کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری ازخود نوٹس لیں اور ایک آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔

آزاد کشمیر انتخابات: میرپور کے بعد مظفرآباد اور پنجاب کی تمام مہاجرین نشستوں پر ن لیگ کی فتح، مریم اورنگزیب کا کشمیری عوام کا شکریہ

منصور احمد, August 03,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں میرپور ڈویژن کے بعد مظفرآباد ڈویژن اور پنجاب میں مقیم مہاجرین کی نشستوں پر پارٹی کی شاندار کامیابی پر کشمیری عوام کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔ اپنے ایک خصصی بیان میں انہوں نے کہا کہ عوام نے ووٹ کی طاقت کے ذریعے قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف کے بیانیے اور جماعت کی بے مثال کارکردگی پر اپنے کامل اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ وہ میرپور کے بعد مظفرآباد ڈویژن کے عوام کی بے حد شکر گزار ہیں جنہوں نے کسی قسم کے دباؤ، دھمکی یا جھوٹے پروپیگنڈے میں آئے بغیر اپنے ووٹ کے آئینی اور جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ انہوں نے بالخصوص نشاندہی کی کہ پنجاب میں آزاد کشمیر کے مہاجرین کی تمام کی تمام 10 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی تاریخی کامیابی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی انتھک محنت، بہترین کارکردگی اور روز مرہ عوامی خدمت کے مشن پر کشمیری ووٹرز کے غیر متزلزل اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پنجاب میں مقیم کشمیریوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے مریم نواز کی قیادت اور ان کے ترقیاتی ماڈل کے حق میں اپنا واضح فیصلہ دیا ہے۔

سیکرٹری اطلاعات نے ان تمام کشمیری مہاجرین اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی اکثریت سے حکومت قائم ہوتے ہی وہاں بھی پاکستان اور پنجاب کی طرز پر ترقی، خوشحالی اور حقیقی عوامی خدمت کے ایک نئے اور مثالی دور کا آغاز کیا جائے گا۔

مریم اورنگزیب نے آئندہ مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پونچھ ڈویژن میں بھی مسلم لیگ (ن) ایسی ہی شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی پونچھ ڈویژن میں ہونے والے انتخابات کے لیے مکمل طور پر فعال اور تیار ہے اور انہیں پورا یقین ہے کہ وہاں کے غیور عوام بھی ترقی کے نشان شیر پر مہر لگا کر مسلم لیگ (ن) کو ہی اپنا نمائندہ منتخب کریں گے۔

آزاد کشمیر انتخابات میں ن لیگ کو سادہ اکثریت حاصل: رانا ثناء اللہ اور امیر مقام کی مشترکہ پریس کانفرنس

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر امورِ کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں دو مراحل کے تحت الیکشن کا پرامن، شفاف اور منصفانہ انعقاد دراصل جمہوریت، کشمیری عوام اور ریاست کی عملداری کی بڑی کامیابی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ دوسرے مرحلے کے دوران آزاد کشمیر اور مہاجرین کے 20 حلقوں میں انتخابی عمل کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا، جس میں مسلم لیگ (ن) نے 23 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے آزاد کشمیر میں سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔ میرپور ڈویژن کی 9 اور مظفرآباد ڈویژن کی 7 میں سے 4 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) جبکہ 3 پر پیپلز پارٹی کامیا ب ہوئی، جبکہ مہاجرین کی 12 میں سے 10 نشستیں ن لیگ کے حصے میں آئیں۔

رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “پیپلز پارٹی نے شکست سامنے دیکھ کر گزشتہ روز سے ہی دھاندلی کا بیانیہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ ابتدا میں 13 حلقوں میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا جو شواہد مانگنے پر پہلے 4 اور پھر 2 حلقوں تک محدود ہو گیا۔” انہوں نے بلاول بھٹو زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کا نوٹس لیں کیونکہ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنا میثاقِ جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ سے آئے ہوئے ایک ایم این اے پولیس اہلکاروں کی معیت میں گاڑیوں کے قافلے لے کر پولنگ اسٹیشنوں پر خوف و ہراس پھیلاتے رہے۔

وفاقی وزیر امورِ کشمیر انجینئر امیر مقام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کی تاریخ کے اس انتہائی شفاف اور منصفانہ الیکشن کے انعقاد پر الیکشن کمیشن، مقامی انتظامیہ، پولیس اور سیکیورٹی ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ دو سال سے انتخابی میدان میں مسلسل محنت کی ہے، اور پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے اپنی اعلیٰ قیادت کو غلط گائیڈ کیا۔

پریس کانفرنس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دھرنا دینے والی تنظیموں اور کشمیری رہنماؤں کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ احتجاج اور دھرنوں سے مسائل حل نہیں ہوتے، چند ہزار افراد لاکھوں ووٹرز کے مقدر کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر انتخابات کا آخری مرحلہ مکمل ہوتے ہی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کر حکومت سازی کا عمل مکمل کیا جائے گا اور قائد میاں محمد نواز شریف کے وعدوں کے مطابق آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کا دعویٰ: “میرپور کے بعد مظفرآباد اور مہاجرین کی نشستوں پر بھی شیر کامیاب ہوگا”

کاشف عباسی , August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

پنجاب کی سینئر وزیر اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں میرپور ڈویژن کے بعد اب مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر بھی مسلم لیگ (ن) شاندار اور تاریخی کامیابی حاصل کرے گی۔

اسلام آباد میں جاری کردہ اپنے ایک اہم ترین سیاسی بیان میں مریم اورنگزیب نے اپوزیشن اور سیاسی مخالفین کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ “آج الیکٹورل میدان میں شکست سے دوچار ہونے والی جماعت محض واویلا کر رہی ہے اور رو رہی ہے، جبکہ محض رونے یا الزامات تراشی سے نہ تو ووٹ ملتا ہے اور نہ ہی ووٹر گھروں سے باہر نکلتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ دھمکیاں دینے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی سیاست اب ختم ہو چکی ہے؛ عوام اور ووٹرز کو میدان میں لانے کے لیے عملی کارکردگی اور خدمات کی تاریخ دکھانی پڑتی ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مظفرآباد سمیت پنجاب بھر میں قائم ن لیگ کے انتخابی کیمپوں میں ووٹرز اور کارکنوں کا غیر معمولی رش اور جوش و خروش صاف دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کا ووٹر مکمل طور پر چارج ہے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کر رہا ہے جسے پورا پاکستان دیکھ رہا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر نے مخالفین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ “رونے والوں کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ وہ ہمت کریں اور سیاسی میدان میں آ کر الیکٹورل مقابلہ کریں۔” انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میرپور کی شاندار فتح کے تسلسل میں آج مظفرآباد اور پنجاب میں مقیم مہاجرین کی نشستوں پر بھی “شیر” ہی کامیابی کا پرچم لہرائے گا۔

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2026ء: لاہور اور گردونواح میں مہاجرین کی 2 نشستوں پر پولنگ کا عمل جاری

کاشف عباسی , August 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے جنرل انتخابات 2026ء کے دوسرے مرحلے میں مہاجرین کی دو اہم نشستوں ایل اے-34 جموں-I اور ایل اے-41 ویلی کے لیے لاہور اور اس کے گردونواح میں مقیم کشمیری مہاجرین اپنا آئینی و جمہوری حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

حلقہ ایل اے-34 جموں-I کے لیے لاہور میں مجموعی طور پر 15 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 1 مردانہ، 1 زنانہ اور 13 مشترکہ پولنگ اسٹیشن شامل ہیں۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 5 ہزار 965 ہے، جن میں 3 ہزار 175 مرد اور 2 ہزار 790 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ شفاف اور بلا تعطل ووٹنگ کے لیے مجموعی طور پر 30 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔ اس نشست پر 17 امیدوار مدِ مقابل ہیں، جن میں استحکام پاکستان پارٹی کے بلال مختار بٹ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری عبدالقادر چوہان، جماعت اسلامی کے راجہ محمد سہیل اور مسلم لیگ (ن) کے ناصر حسین ڈار کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

دوسری جانب، ایل اے-41 ویلی کی نشست کے لیے مجموعی طور پر 6 ہزار 410 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ ان میں سے لاہور کے 5 ہزار 708، شیخوپورہ کے 583، ننکانہ صاحب کے 117 اور قصور کے 2 ووٹرز شامل ہیں۔ اس حلقے کے لیے مجموعی طور پر 19 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں جن میں سے 13 لاہور، 4 شیخوپورہ جبکہ ننکانہ صاحب اور قصور میں 1، 1 پولنگ اسٹیشن شامل ہے۔ قصور کی ضلع میں صرف دو رجسٹرڈ ووٹرز کی سہولت کے لیے بھی مکمل پولنگ اسٹیشن قائم کر کے مثال قائم کی گئی ہے۔ ایل اے-41 میں 9 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں، جن میں مسلم لیگ (ن) کے محمد عامر شاہ، تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار صبا دیوان، پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام عباس میر اور استحکام پاکستان پارٹی کے سعید احمد دار نمایاں ہیں۔

واضح رہے کہ 1947ء میں تقسیمِ برصغیر اور قیامِ پاکستان کے وقت آزاد کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہونے والے کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے قانون ساز اسمبلی میں خصوصی اور مخصوص نشستوں پر باقاعدگی سے انتخابات منعقد کیے جاتے ہیں۔