پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کا لانگ مارچ: اسلام آباد ہائی کورٹ کا کے پی کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو حلف نامہ جمع کروانے کا حکم

کاشف عباسی , September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی طرف 27 ستمبر کو ممکنہ لانگ مارچ کو روکنے سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری اور صوبائی پولیس سربراہ (آئی جی) کو حکم دیا ہے کہ وہ پیر کے روز تک عدالت عالیہ میں باضابطہ بیان حلفی جمع کروائیں کہ اس سیاسی احتجاج کے دوران صوبائی حکومت کی سرکاری مشینری کسی سیاسی مقصد یا پارٹی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے لانگ مارچ کو روکنے اور سیکیورٹی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے آغاز میں خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار پر شدید آئینی اعتراضات اٹھائے۔

ایڈووکیٹ جنرل کے پی شاہ فیصل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار آئین اور ایکٹ کے تحت صرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود تک محدود ہے، لہٰذا پنجاب، سندھ، بلوچستان یا خیبر پختونخوا کے افسران کو احکامات جاری کرنا یا انہیں ذاتی حیثیت میں طلب کرنا اس عدالت کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ تمام صوبوں کے اعلیٰ افسران کو طلب کرے گی تو یہ دیگر صوبائی ہائی کورٹس اور صوبائی خود مختاری کے دائرہ اختیار میں مداخلت شمار ہوگی۔

کے پی حکومت کے وکیل نے درخواست گزار کی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا کہ لانگ مارچ ابھی شروع ہی نہیں ہوا تو درخواست گزار کیسے متاثرہ فریق بن گیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ اس درخواست میں صرف ایک مخصوص سیاسی جماعت پی ٹی آئی کو ہدف بنایا جا رہا ہے، جبکہ لانگ مارچ دیگر جماعتیں بھی کرتی رہی ہیں۔ شاہ فیصل نے وفاقی حکومت کی جانب سے احتجاج سے قبل ہی راستے بند کرنے اور کے پی ہاؤس کے باہر کنٹینرز لگانے کے اقدام پر بھی عدالت سے نوٹس لینے کی استدعا کی اور اس سے متعلق ویڈیو ثبوت پیش کرنے کی پیشکش کی۔

سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے مشاورت کی ہے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وزیراعلیٰ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی جماعت کے رکن ہیں، تاہم انہیں جماعت سے زیادہ ریاست کے ساتھ مخلص ہونا چاہیے۔ کے پی کے چیف سیکرٹری نے جب احتجاج کو سیاسی سرگرمی قرار دیا تو چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کو بھی سیاسی سرگرمی کہا جائے گا؟

کیس کی سماعت کے دوران عدالت کے معاون اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں نقطہ اٹھایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے سال 2022ء اور 2024ء میں بھی اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے لانگ مارچ کے حوالے سے جاری کردہ احکامات و ضمانتوں کی کھلی خلاف ورزی کی تھی۔

فاضل بینچ نے تمام فریقین کے ابلاغ کو سننے کے بعد کے پی کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو پیر تک سرکاری مشینری کے عدم استعمال کا حلف نامہ جمع کروانے کی ہدایت کی، جبکہ دیگر تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کو آئندہ سماعت پر ذاتی پیشی سے استثنیٰ دے دیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تمام شیشہ کیفیز پر تاحکمِ ثانی مکمل پابندی عائد: انتظامیہ کا بلاامتیاز سیلنگ اور مقدمات درج کرنے کا انتباہ

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں شیشہ کیفے چلانے پر تاحکمِ ثانی مکمل اور سخت ترین پابندی عائد کر دی ہے، جس کا بلاامتیاز اطلاق سابقہ این او سی رکھنے والے کیفیز اور تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز پر یکساں طور پر ہوگا۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اس پابندی پر بلاامتیاز اور سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے شیشہ کیفیز کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر گرینڈ آپریشنز اور کارروائیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں صراحت کی گئی ہے کہ اس مکمل قدغن کا اطلاق ان ڈور اور آؤٹ ڈور، دونوں طرح کی سائٹس پر قائم شیشہ کیفیز پر ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح اور سخت الفاظ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ اس سرکاری پابندی کی ذرہ برابر بھی خلاف ورزی کرنے والے شیشہ کیفے کو موقع پر فوری سیل کر دیا جائے گا، جبکہ کیفے کے مالک اور انتظامیہ کے خلاف سخت ترین تعزیراتی دفعات کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنے اپنے علاقائی دائرہ کار میں باقاعدگی سے ہنگامی انسپکشن کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

انتظامیہ کا یہ حتمی اور سخت فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں شیشہ کیفے کی سرگرمیوں اور قانونی حیثیت سے متعلق دائر کی گئی اہم درخواستوں کی سماعت کے بعد سامنے آیا ہے۔ بدھ کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے کیس کی اعلیٰ سطحی سماعت کی، جس میں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر، ایڈووکیٹ جنرل اور قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل ذاتی طور پر عدالتِ عالیہ کے سامنے پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس کے حکام نے عدالت کو باضابطہ آگاہ کیا کہ سابقہ عدالتی احکامات کی روشنی میں شیشہ کیفیز کے خلاف گرینڈ ایکشن لیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کی گئی ہیں، تاہم ان کارروائیوں کے دوران انتظامیہ اور پولیس کو کیفے مالکان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اپنے اہم ریمارکس میں واضح کیا کہ ملک میں شیشہ کیفے کے حوالے سے فی الوقت کوئی قانونی یا باقاعدہ قواعد و ضوابط (رولز) موجود نہیں ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے دوٹوک فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ باقاعدہ رولز اور قانونی فریم ورک وضع کیے بغیر شیشہ کیفے کے اس کاروبار کو اس طرح بے لگام جاری رکھنے کی بالکل اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے اسلام آباد کی مقامی ضلعی انتظامیہ کو شیشہ کیفے کی قانونی تنظیم سازی اور باقاعدہ قواعد و ضوابط کی تیاری کے لیے ایک ماہ کی مہلت فراہم کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین باضابطہ حکم کے تحت فی الحال شہر کا کوئی بھی شیشہ کیفے، خواہ وہ کسی قسم کا این او سی رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، یا ان ڈور و آؤٹ ڈور لوکیشن پر قائم ہو، صارفین کو شیشہ فراہم کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ یہ سخت پابندی قانون سازی اور نئے قواعد و ضوابط کی تشکیل تک تاحکمِ ثانی نافذ العمل رہے گی۔