

منصور احمد,September 09,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں شیشہ کیفے چلانے پر تاحکمِ ثانی مکمل اور سخت ترین پابندی عائد کر دی ہے، جس کا بلاامتیاز اطلاق سابقہ این او سی رکھنے والے کیفیز اور تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز پر یکساں طور پر ہوگا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اس پابندی پر بلاامتیاز اور سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے شیشہ کیفیز کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر گرینڈ آپریشنز اور کارروائیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں صراحت کی گئی ہے کہ اس مکمل قدغن کا اطلاق ان ڈور اور آؤٹ ڈور، دونوں طرح کی سائٹس پر قائم شیشہ کیفیز پر ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح اور سخت الفاظ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ اس سرکاری پابندی کی ذرہ برابر بھی خلاف ورزی کرنے والے شیشہ کیفے کو موقع پر فوری سیل کر دیا جائے گا، جبکہ کیفے کے مالک اور انتظامیہ کے خلاف سخت ترین تعزیراتی دفعات کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنے اپنے علاقائی دائرہ کار میں باقاعدگی سے ہنگامی انسپکشن کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
انتظامیہ کا یہ حتمی اور سخت فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں شیشہ کیفے کی سرگرمیوں اور قانونی حیثیت سے متعلق دائر کی گئی اہم درخواستوں کی سماعت کے بعد سامنے آیا ہے۔ بدھ کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے کیس کی اعلیٰ سطحی سماعت کی، جس میں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر، ایڈووکیٹ جنرل اور قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل ذاتی طور پر عدالتِ عالیہ کے سامنے پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس کے حکام نے عدالت کو باضابطہ آگاہ کیا کہ سابقہ عدالتی احکامات کی روشنی میں شیشہ کیفیز کے خلاف گرینڈ ایکشن لیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کی گئی ہیں، تاہم ان کارروائیوں کے دوران انتظامیہ اور پولیس کو کیفے مالکان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اپنے اہم ریمارکس میں واضح کیا کہ ملک میں شیشہ کیفے کے حوالے سے فی الوقت کوئی قانونی یا باقاعدہ قواعد و ضوابط (رولز) موجود نہیں ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے دوٹوک فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ باقاعدہ رولز اور قانونی فریم ورک وضع کیے بغیر شیشہ کیفے کے اس کاروبار کو اس طرح بے لگام جاری رکھنے کی بالکل اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے اسلام آباد کی مقامی ضلعی انتظامیہ کو شیشہ کیفے کی قانونی تنظیم سازی اور باقاعدہ قواعد و ضوابط کی تیاری کے لیے ایک ماہ کی مہلت فراہم کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین باضابطہ حکم کے تحت فی الحال شہر کا کوئی بھی شیشہ کیفے، خواہ وہ کسی قسم کا این او سی رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، یا ان ڈور و آؤٹ ڈور لوکیشن پر قائم ہو، صارفین کو شیشہ فراہم کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ یہ سخت پابندی قانون سازی اور نئے قواعد و ضوابط کی تشکیل تک تاحکمِ ثانی نافذ العمل رہے گی۔