سعودی عرب کے صوبے نجران سے 18 لاکھ برس قدیم انسانی آبادی کے تاریخی آثار دریافت

کاشف عباسی , August 30,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

سعودی عرب کے جنوبی صوبے نجران کے تاریخی علاقے ‘شعب دحضہ’ سے تقریباً 18 لاکھ (1.8 ملین) برس قدیم انسانی آبادی کے نادر اور انتہائی اہم آثارِ قدیمہ دریافت ہوئے ہیں۔ سعودی ہیریٹیج کمیشن نے ان دریافت ہونے والے آثار کو جنوبی عرب کے خطے میں انسانوں کی ابتدائی آبادی اور براعظموں کے درمیان ان کی تاریخی ہجرت کے ابتدائی ادوار کا ایک نہایت اہم اور مستند سائنسی ثبوت قرار دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق یہاں سے ملنے والے پتھر کے اوزار اور دیگر شواہد ابتدائی حجری دور کے ہیں، جن کی قدامت 12 لاکھ سے 18 لاکھ سال پرانی بتائی گئی ہے۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی تفصیلات کے مطابق، سنہ 1980ء میں وادی کے علاقے میں کیے جانے والے ایک ابتدائي سروے کے دوران ایک بلند سطح سے چکم دار اور سخت ‘کوارٹزائٹ’ کے پتھروں سے بنے 34 اوزاروں کا ایک قدیم مجموعہ حاصل ہوا تھا۔ ان اوزاروں میں مختلف نوعیت کے کٹر، کھرچنی، تیز دھار بلیڈ اور ہتھوڑے شامل ہیں، جنہیں اس دور کا قدیم انسان شکار کیے گئے جانوروں کا گوشت کاٹنے، ان کی ہڈیاں توڑنے، اور کھال اتار کر لباس یا عارضی پناہ گاہ بنانے جیسے روزمرہ کاموں کے لیے انتہائی مہارت سے استعمال کرتا تھا۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن کے شعبہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر العتیبی نے اس غیر معمولی دریافت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شعب دحضہ کا یہ مقام جزیرہ نمائے عرب میں انسانی موجودگی، آبادی کی ابتدا اور اس کے ارتقائی دور کے بارے میں تاریخ دانوں کو اہم اور نئی سائنسی معلومات فراہم کرتا ہے۔ اسی حوالے سے ‘نجران سوسائٹی فار ہسٹری اینڈ آرکیالوجی’ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والے اوزار اور ہتھیار اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ لاکھوں سال پہلے اس خطے میں رہنے والا قدیم انسان مقامی قدرتی وسائل کو اپنے مقصد کے لیے ڈھالنے میں بے پناہ مہارت، بصیرت اور ذہانت رکھتا تھا۔