سندھ میں ہندو طلبہ کے لیے مذہبی نصابی کتب کی منظوری، تیسری سے پانچویں جماعت تک پڑھائی جائیں گی

روزینہ اسماعیل, April 30,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اپریل 2026ء

سندھ کے محکمۂ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی نے صوبے کے سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہندو طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم کی درسی کتب متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں جماعت سوم سے پنجم تک کے ہندو طلبہ کے لیے تین مذہبی کتب تیار اور شائع کی جائیں گی، جنہیں تعلیمی سال 2026-27 کے دوران استعمال کیا جائے گا۔

محکمۂ تعلیم کی جانب سے 29 اپریل کو سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین کو بھیجے گئے خط میں تین مذہبی کتابوں کی اشاعت اور تقسیم کے لیے اقدامات کرنے کی درخواست کی گئی۔ یہ فیصلہ سندھ کریکولم کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 20 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق رواں تعلیمی سال میں ان کتابوں کی اشاعت کے اخراجات کراچی کی سماجی فلاحی تنظیم پریم ساگر سنستھا برداشت کرے گی، جبکہ کتابوں کی تقسیم سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے ذریعے کی جائے گی۔ محکمۂ تعلیم نے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو آئندہ تعلیمی سال سے ان مذہبی کتب کی اشاعت کے لیے بجٹ مختص یا ایڈجسٹ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

اس اقدام کا مقصد سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہندو طلبہ کو ان کے مذہب سے متعلق باقاعدہ تعلیمی مواد فراہم کرنا اور تعلیمی نظام میں مذہبی اقلیتوں کی شمولیت کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔ سندھ کے وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ کے مطابق مختلف مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو ان کے اپنے مذہب کے مطابق تعلیم کا حق فراہم کرنا رواداری اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ کے سرکاری اسکولوں میں جماعت سوم سے پنجم تک 129,119 ہندو طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد ضلع تھرپارکر میں 26,642 جبکہ عمرکوٹ میں 21,584 طلبہ کی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں مذہبی کتب انہی جماعتوں کے طلبہ کے لیے فراہم کی جائیں گی۔

یہ فیصلہ پاکستان میں اقلیتی طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم کے حوالے سے جاری پالیسی اقدامات کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ وفاقی سطح پر بھی اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے مذہبی تعلیمی کتب کی منظوری سے متعلق اقدامات کیے جا چکے ہیں، تاہم ان اقدامات پر عمل درآمد مختلف علاقوں میں مختلف سطح پر رہا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سندھ حکومت کا موجودہ فیصلہ ابتدائی طور پر جماعت سوم سے پنجم تک ہندو طلبہ کے لیے تین مذہبی کتب کی تیاری، اشاعت اور تقسیم سے متعلق ہے۔ کتابوں کی اشاعت کے لیے رواں سال فلاحی ادارے کی معاونت اور آئندہ سال سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے بجٹ سے انتظام کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس لیے اسے فی الحال پورے صوبے کے تمام درجات میں مذہبی نصاب کی مکمل تبدیلی کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔

ماخذ: سندھ محکمۂ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ سے متعلق سرکاری مراسلت، Dawn، Pakistan Today اور دیگر رپورٹس۔