پمز ہسپتال آتشزدگی کیس: وزیراعظم شہباز شریف کی نومولود بچی کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین سے ملاقات، ‘تمغۂ خدمت’ اور 1 کروڑ روپے انعام کا اعلان

منصور احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے کے دوران اپنی جان پر کھیل کر ایک نومولود بچی کی جان بچانے والی بہادر نرس رضیہ نورین سے جمعرات کے روز یہاں وزیراعظم ہاؤس میں خصوصی ملاقات کی اور ان کی بے مثال ہمت، بہادری اور انسانیت کے جذبے کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نرس رضیہ نورین نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر جس عظمت اور ہمت کے ساتھ نومولود بچی آصفہ کو آگ کی لپیٹ سے محفوظ باہر نکالا، وہ ایک عظیم انسانی عمل ہے جس پر پوری قوم کو ان پر بے حد فخر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم کی اس بیٹی کا کارنامہ ملکی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور بچی کی والدہ زندگی بھر انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گی۔

وزیراعظم نے رضیہ نورین کی اس اعلیٰ ترین کارکردگی اور قربانی کے اعتراف میں اعلان کیا کہ آنے والے قومی دن یعنی 23 مارچ کو انہیں باضابطہ طور پر “تمغۂ خدمت” سے نوازا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے نرس کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک کروڑ روپے کے خصوصی مالی انعام کا اعلان کیا اور چیک بھی ان کے حوالے کیا۔

ملاقات کے دوران نرس رضیہ نورین نے وزیراعظم کو واقعے کی دلدوز تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی انہوں نے ہسپتال کے شعبے میں اچانک آگ کی خوفناک لپٹیں اور دھواں دیکھا تو اپنی جان کا خطرہ مول لے کر اندر داخل ہو گئیں اور چھوٹی بچی آصفہ کو محفوظ نکال کر ڈاکٹر عبدالرحمٰن کے حوالے کیا تا کہ بھگدڑ میں بچی محفوظ رہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر بچوں کو بچانے کی بھی کوشش کی گئی تاہم آگ اور سیاہ دھوئیں کے تیزی سے پھیلنے کے باعث ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پمز آتشزدگی کے واقعے کو انتہائی دلخراش قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ اس غفلت اور حادثے کے ذمہ دار افراد کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزارتِ صحت کو پمز ہسپتال میں مریضوں اور عملے کے تحفظ کے لیے سہولیات اور حفاظتی اقدامات فوری بہتر بنانے کی سخت ہدایات جاری کیں۔ تقریب میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔

پمز ہسپتال میں آتشزدگی عمران خان کے خلاف سازش ہو سکتی ہے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا شدید خدشات اور الزامات کا اظہار

کاشف عباسی , August 27,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پمز (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) کے نرسری وارڈ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے اور معصوم نومولود بچوں کی شہادت پر انتہائی گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز اور سنگین ادعا پیش کیا ہے۔ پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پمز ہسپتال میں ہونے والا یہ آتشزدگی کا واقعہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو نشانہ بنانے یا ان کے خلاف بچھایا گیا کوئی خفیا جال بھی ہو سکتا تھا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پمز ہسپتال کی نرسری میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والے معصوم نوزائیدہ بچوں کا کسی سیاسی احتجاج یا اقتدار کی کشمکش سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ بے زبان بچے اپنے حق میں بول بھی نہیں سکتے تھے، اس لیے اس دل دوز واقعے کے پیچھے مجرمانہ غفلت اور سازش شامل ہے جس کی شفاف، اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

بقايا خطاب کے دوران عمران خان کے حالیہ طبی معائنے اور ہسپتال منتقلی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سنگین الزامات عائد کیے کہ ابھی چند دن قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کی غرض سے اسی پمز ہسپتال لایا گیا تھا، جس سے یہ شک پختہ ہوتا ہے کہ شاید ان کے لیے بھی وہاں کوئی خطرناک جال بچھایا گیا تھا تاکہ مستقبل میں کسی حادثے یا آتشزدگی کی آڑ میں ان کی جان لی جا سکے، باقی واللہ اعلم، یہ لوگ اپنے مقاصد کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور بعد میں کسی بھی حادثے کا بہانہ تراش سکتے ہیں۔ اس المناک واقعے کے تناظر میں سہیل آفریدی نے صوبائی محکمہ صحت کو فوری ہدایات جاری کی ہیں کہ خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں آتشزدگی سے بچاؤ، ایمرجنسی ایگزٹ اور ہنگامی سیفٹی انتظامات کا تفصیلی آڈٹ کیا جائے اور ہسپتالوں کے حفاظتی ضوابط کا ازسرِنو جائزہ لے کر عملے کو فائر فائٹنگ کی تربیتی مشقیں کروائی جائیں تاکہ مریضوں کی مکمل حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

پمز ہسپتال میں آتشزدگی سانحہ: انتظامی غفلت، فائر سیفٹی اور ٹریننگ کے فقدان پر سنسنی خیز انکشافات

منصور احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والے آتشزدگی کے واقعے کے بعد انتظامی غفلت، فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی انتظامات کے حوالے سے سنسنی خیز اور سنگین انکشافات منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے سینئر صحافتی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پمز ہسپتال میں گزشتہ کئی سالوں سے کسی قسم کی ایمرجنسی فائر ڈرل یا موک ایکسرسائز کی مشق ہی نہیں کروائی گئی تھی، جس کے باعث ہسپتال کا طبی و انتظامی عملہ ہنگامی صورتحال میں اپنی اور زیرِ علاج مریضوں کی جان بچانے کی بنیادی عملی تربیت سے مکمل طور پر محروم تھا۔ بین الاقوامی قوانین اور طبی ضوابط کے مطابق کسی بھی ہسپتال میں عملے کے لیے ہر چھ ماہ بعد فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کی باقاعدہ ٹریننگ کروانا لازمی اور فلو چارٹ کا حصہ ہوتا ہے، جس میں آگ لگنے کی صورت میں فوری ردِعمل، مریضوں کو بحفاظت نکالنے (ایویکویشن) اور آگ پر قابو پانے کی عملی مشقیں شامل ہوتی ہیں، تاہم پمز میں ان قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔

صحافتی ذرائع کا مزید سنسنی خیز انکشاف یہ بھی ہے کہ آتشزدگی کے وقت وارڈ میں موجود آکسیجن سلنڈرز اور آکسیجن پائپ لائنز بھی آگ کی شدت میں تیزی سے اضافے کا بنیادی باعث بنے، جنہوں نے نرسری کے پورے ماحول کو منٹوں میں جہنم کا منظر بنا دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دل دہلا دینے والی حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ حادثے کے وقت ہسپتال کے ایمرجنسی ایگزٹ (نہایت ضروری راستے) اور ہنگامی نُکاس کے دروازے بند رکھے گئے تھے، جس کی وجہ سے مریضوں، والدین اور عملے کو نکلنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جب نرسری میں آگ بھڑکی تو ہسپتال کا خودکار الارم سسٹم بھی بروقت فعال اور سائرن بجانے میں ناکام رہا، جس نے انتظامی غفلت کی حد کر دی ہے۔ اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال میں ہر وقت سینکڑوں کی تعداد میں شدید بیمار مریض زیرِ علاج رہتے ہیں، لیکن ہنگامی انخلا کے لیے کسی مربوط اور مؤثر سیفٹی پلان کا نہ ہونا مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اس سانحے کے بعد ماہرین نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں کے فائر سیفٹی سسٹمز، ایمرجنسی راستوں اور عملے کی ٹریننگ کا بلا تاخیر ازسرِنو تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی ہولناک سانحے کو دوہرانے سے روکا جا سکے۔

پمز ہسپتال سانحہ: متاثرہ والدین کے سنگین الزامات، عملہ غائب تھا، 9 بچوں کی میتیں حوالے کر دی گئیں

منصور احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے آتشزدگی کے سانحے کے بعد متاثرہ والدین نے ہسپتال انتظامیہ اور طبی عملے پر مجرمانہ غفلت اور عدم موجودگی کے شدید اور سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ میڈیا اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آتشزدگی سے متاثرہ ایک خاتون نے رقت انگیز انداز میں بتایا کہ جس وقت نرسری اور وارڈ میں آگ لگی اور دھواں پھیلا، اس وقت ہسپتال کا عملہ بالکل غائب تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ واقعے کے وقت صرف وہ اور چند دیگر بچوں کے والدین ہی وہاں موجود تھے جبکہ موقع پر نہ تو کوئی گائنی ڈاکٹر موجود تھی اور نہ ہی نرسنگ سٹاف کا کوئی اہلکار بچوں کی مدد کے لیے وہاں موجود تھا، جس کی وجہ سے نومولود بچوں کو بروقت باہر نکالنا ممکن نہ ہو سکا۔

دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کے تازہ ترین بیان کے مطابق، جاں بحق ہونے والے 14 بچوں میں سے نو نومولود بچوں کی لاشیں ابتدائی کارروائی کے بعد ان کے لواحقین اور غمزدہ خاندانوں کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ باقی بچوں کی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے لاشوں اور والدین کا ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کروایا جا رہا ہے۔ ہسپتال کے باوثوق ذرائع نے واقعے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نرسری میں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی اموات کی بنیادی وجہ محض آگ سے جھلسنا نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ کے بعد ایئر کنڈیشنر اور آکسیجن پائپ لائن کے باعث وارڈ میں تیزی سے زہریلا دھواں بھر جانا تھا، جس سے نوزائیدہ بچوں کا دم گھٹ گیا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ انتظامیہ کے مطابق واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی والدین کے الزامات کو بھی انکوائری کا حصہ بنا رہی ہے اور غفلت برتنے والے عملے کا تعین کر کے ان کے خلاف قانونی اور محکماتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔