پاکستان کا سوڈان میں تعلیم کے تحفظ اور تنازع کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات پر زور

محمود احمد, August 08,2026

اقوام متحدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں جاری شدید مسلح تنازع کے پیشِ نظر بچوں کی تعلیم کے تحفظ، تعلیمی اداروں کی بحالی اور فوری بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ سوڈان کی پائیدار بحالی، مستقبل کے استحکام اور دیرپا امن کے لیے بچوں کے تحفظ اور تعلیم تک ان کی بلا تعطل رسائی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیر اہتمام “سوڈان میں تعلیم کا تحفظ: امن، بحالی اور استحکام میں سرمایہ کاری” کے عنوان سے منعقدہ ‘آریا فارمیولا’ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری سید انصار شاہ نے بتایا کہ اپریل 2023ء میں تنازع کے آغاز سے اب تک سوڈان میں 17 ملین سے زائد بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ تقریباً 8 ملین بچے اس وقت اسکولوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے اسکولوں، طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی عملے پر ہونے والے تمام تر حملوں کی شدید مذمت کی اور واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کو کبھی بھی فوجی یا سیکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہنگامی حالات میں بھی بچوں کے حقِ تعلیم کی ضامن بنے۔

سید انصار شاہ نے سوڈان کے لیے تین اہم ترجیحات پیش کیں: اسکولوں، بچوں، اساتذہ اور امدادی کارکنوں کی حفاظت کے ساتھ انسانی امداد تک محفوظ رسائی یقینی بنائی جائے۔ بے گھر اور پناہ گزین بچوں کے لیے ہنگامی تعلیمی سرگرمیوں، اسکولوں کی دوبارہ تعمیر اور اساتذہ کی مالی و فنی معاونت کو ترجیح دی جائے۔ سوڈان کے قومی تعلیمی نظام، امتحانات اور اسناد کی توثیق و منظوری کا مکمل تحفظ کیا جائے کیونکہ یہی بچے کل سوڈان کو سنبھالنے والے معمار بنیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اولین اور حتمی ترجیح سوڈان میں جاری جنگ کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔ پاکستان سوڈان کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ملک کو تقسیم کرنے والے کسی بھی متوازی حکومتی ڈھانچے کی مخالفت کرتا ہے۔ پاکستانی نمائندے نے تمام سوڈانی فریقین پر زور دیا کہ وہ تنازع کا راستہ ترک کر کے سفارتی حل اپنائیں۔