پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ: بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی میں دو روزہ بین الاقوامی علمی سیمینار کا انعقاد

منصور احمد, September 05,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان قائم لازوال اور تزویراتی سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے تاریخی اور پرمسرت موقع پر چین کے دارالحکومت بیجنگ کی قدیم و معروف پیکنگ یونیورسٹی میں دو روزہ بین الاقوامی علمی و تحقیقی سیمینار کا پروقار آغاز ہو گیا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی کانفرنس کا بنیادی مقصد گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں پر محیط ہمہ جہت شراکت داری کا احاطہ کرنا اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق دوطرفہ تعلقات کو مزید پائیدار اور مستحکم بنانا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی اور چینی ذرائع ابلاغ کی تفصیلی رپورٹس کے مطابق “ورثہ، جدت اور مشترکہ کامیابی” کے خصوصی موضوع کے تحت منعقد ہونے والے اس سیمینار کی میزبانی پیکنگ یونیورسٹی کے مرکز برائے مطالعاتِ پاکستان اور دیگر اعلیٰ چینی و پاکستانی فکری و تحقیقی اداروں نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ سیمینار میں دونوں ممالک کے نامور ماہرین، پالیسی سازوں، سفارت کاروں اور تعلیمی شخصیات نے شرکت کر کے پاک چین لازوال دوستی کے 75 سالہ تاریخی سفر کے تمام سیاسی، معاشی اور دفاعی پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کیا ہے، جبکہ بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں باہمی عملی تعاون کو مزید وسعت دینے کی حکمتِ عملی پر گہرا غور و خوض کیا جا رہا ہے۔

سیمینار کی مختلف علمی نشستوں کے دوران شرکا نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے اور جدید ترین فیز کے تحت زرعی اصلاحات و جدید کاری، سبز ترقی، ماحولیاتی پائیداری، صنعتی زونز و پارکس کے قیام، تیسرے فریق کے ساتھ مشترکہ مارکیٹنگ اور ہمہ گیر صنعتی تعاون جیسے اہم شعبوں میں نئی شراکت داریوں کے امکانات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ سی پیک کا اگلا مرحلہ دونوں ممالک کے معاشی و صنعتی افق کو نئی بلندیوں پر لے جانے اور علاقائی تجارتی رابطوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

علاوہ ازیں، موجودہ پیچیدہ علاقائی اور عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال، بحرانوں اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان اعلیٰ ترین تزویراتی اعتماد کو برقرار رکھنے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے یکجہتی پر زور دیا گیا۔ سیمینار میں تعلیم، زبان، ادب، آرٹ اور ثقافت کے تبادلوں کے ذریعے عوامی روابط کو مزید گہرا بنانے کے راستوں کی نشان دہی بھی کی گئی۔

عصری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، سیمینار میں مصنوعی ذہانت بگ ڈیٹا، سائبر ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی علوم کے اس دور میں دونوں دوست ممالک کے درمیان تعلیمی و علمی اداروں کے ناطوں کو بالکل نئی جدید جہت دینے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ دونوں اقوام اس جدید تکنیکی انقلاب کے ثمرات سے یکساں طور پر مستفید ہو سکیں۔

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی التواء اور پانی کا بطور ہتھیار استعمال پاکستان کے لیے نیا سیکیورٹی چیلنج: وفاقی وزیر احسن اقبال

محمود احمد, August 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر تاریخی سندھ طاس معاہدے کو التواء میں رکھ کر جدید تاریخ میں پہلی بار پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے، جو پاکستان کی سلامتی اور معیشت کے لیے ایک سنگین اور نیا چیلنج بن چکا ہے۔ نیویارک میں ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیائی اقدامات فروا امین سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ 70 سال پرانا یہ اہم معاہدہ دونوں ممالک کے مابین سخت ترین جنگوں اور کشیدگی کے باوجود ہمیشہ ناقابلِ دست اندازی سمجھا جاتا رہا، تاہم موجودہ بھارتی حکومت کا یکطرفہ اقدام خطے کے امن اور واٹر سیکیورٹی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام سے بھارت کے پاس یہ صلاحیت آ جاتی ہے کہ وہ فصلوں کی اشد ضرورت کے وقت پاکستان کا پانی روک لے یا پھر غیر متوقع طور پر سیلابی پانی چھوڑ کر تباہی مچائے، جس سے مشترکہ آبی وسائل کو دباؤ کا ہتھکنڈہ بنایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اس سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے دوہری حکمتِ عملی پر پوری قوت سے کام کر رہا ہے۔ پہلی سطح پر ملک کے اندر پانی ذخیرہ کرنے کے لیے سٹریٹجک بفر کا قیام تیز کر دیا گیا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں میں کوئی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا، لیکن اب دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز پر کام کی رفتار کو تیز کر کے تقریباً 60 لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا کی جا رہی ہے تا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بالائی علاقوں سے پانی کے ممکنہ اخراج کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ دوسری سطح پر، پاکستان اس تنازع کو کسی عسکری تصادم یا جنگ کی طرف جانے سے روکنے کے لیے تمام بین الاقوامی اور سفارتی ذرائع کا مؤثر استعمال کر رہا ہے، کیونکہ جنوبی ایشیا کو اس وقت جنگوں کے بجائے غربت، بیماریوں کے خاتمے، اور اپنی نوجوان آبادی کو معیاری تعلیم و روزگار دینے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

گفتگو کے دوران انہوں نے حکومتِ پاکستان کے ‘اڑان پاکستان’ فریم ورک اور 5E حکمتِ عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیو اکنامکس کو ملکی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس 7 ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں، اور معاشی استحکام کی بحالی کے بعد امریکی کمپنیوں، ایکسپورٹ امپورٹ بنک، اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔ احسن اقبال نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی اور صنعتی تعاون کسی صورت بھی چین کے ساتھ پاکستان کے آئرن کلیڈ تعلقات کی قیمت پر نہیں ہوگا۔ چین نے توانائی بحران کے وقت سی پیک کے ذریعے 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، اور اب سی پیک 2.0 کے تحت بی ٹو بی ماڈل میں گرین انرجی، زراعت، ٹیکنالوجی اور کان کنی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیر نے پاکستان کی نئی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سینٹرز اور یونیورسٹیوں میں تحقیقی اصلاحات کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں اضافی توانائی اور باصلاحیت نوجوان آبادی کی صورت میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے پرکشش ماحول موجود ہے، لیکن پانی کے وسائل کا تحفظ ہی ملکی بقا اور غذائی تحفظ کی اصل ضامن ہے۔ پاکستان دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ مساوی اور متوازن تعلقات قائم رکھتے ہوئے اپنی معاشی و آبی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع جاری رکھے گا۔

سی پیک زرعی تعاون: چین کی جانب سے پاکستان کو جدید زرعی مشینری کے 258 یونٹس موصول

منصور احمد, August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت زرعی تعاون پروگرام میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر چین سے جدید زرعی مشینری اور آبپاشی کے آلات کے 258 یونٹس پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک کے زرعی شعبے کو جدید اور سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ تمام جدید آلات پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پارک) کے ایگریکلچرل انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) اسلام آباد میں موصول اور اسمبل کیے۔ باضابطہ افتتاح کے بعد اس مشینری کو پارک اور تمام صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب کو 75، سندھ کو 45، خیبرپختونخوا کو 38، بلوچستان کو 36 جبکہ پارک کو 64 یونٹس فراہم کیے گئے ہیں۔

موصول ہونے والے 258 یونٹس میں 9 مختلف اقسام کی مشینری شامل ہے، جن میں 40 ٹریکٹر، 20 روٹری ٹلرز، 30 روٹری ٹلج فرٹیلائزر ڈرلز، 40 کرالر ٹائپ رائس-ویٹ کمبائن ہارویسٹرز، 8 کارن ہارویسٹرز، 40 انٹر ٹلج ویڈرز، 40 ٹرمرز، 20 ہوز ریل آبپاشی نظام اور 20 شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر پمپنگ سسٹمز شامل ہیں۔

یہ تمام معاونت وزیراعظم کے زرعی جدیدکاری اقدام کا حصہ ہے جسے حال ہی میں منظور ہونے والی قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2026ء اور قومی سیڈ پالیسی 2026ء کی مکمل حاصل ہے۔ ان پالیسیوں کے تحت اعلیٰ کوالٹی کے بیج، جینیاتی تحقیق اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے تجارتی فروغ کے لیے فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کا ایک اہم ترین پہلو پارک اور چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (سی اے اے ایس) کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری ہے۔ حکومت نے پارک کو سی اے اے ایس کی طرز پر ازسرِنو منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نارک اسلام آباد میں پانچ جدید ‘سینٹرز آف ایکسی لینس’ قائم کیے جا رہے ہیں جو جینوم تحقیق، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈرونز، روبوٹکس اور زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ پر کام کریں گے۔

علاوہ ازیں، وزیراعظم کے ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو چین بھیجنے کے تربیتی پروگرام کے تحت اب تک 885 گریجویٹس اپنی تربیت مکمل کر چکے ہیں جبکہ باقی 115 گریجویٹس جلد چین روانہ ہوں گے۔ یہ تمام تربیت یافتہ ماسٹر ٹرینرز ملک بھر کے کسانوں، محققین اور زرعی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرائیں گے۔